ماضی کے برعکس اب چینی سیاح دنیا کے معروف سیاحتی مقامات پر عام نظر آتے ہیں، چین میں اقتصادی ترقی کے باعث اب وہاں کے رہائشی آسانی سے بیرون ملک سفر کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوتے جارہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
دو سال قبل چینی سیاح سیاحت کے شعبے میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر آگئے تھے، گزشتہ دو برس کے دوران دس کروڑ چینی افراد نے بین الاقوامی سفر کیا، جان کیسٹر اقوام متحدہ کے ورلڈ ٹورارزم آرگنائزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
جان کیسٹر”چینی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے، اس ترقی کو آپ شہروں میں دیکھ سکتے ہیں، اور اس معلوم ہوتا ہے ،کہ چینی عوام کی اوسط آمدنی میں کس حد تک اضافہ ہوا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ 2000ءمیں چین میں فی کس آمدنی کی شرح، سو ڈالرز سے بھی کم تھی جو 2012ءمیں چھ ہزار ڈالرز تک بڑھ گئی، یعنی ایک دہائی کے دوران، چھ گنا سے بھی ذیادہ اضافہ ہوا ہے”۔
سیاحتی ماہر پیئرگیروس کا کہنا ہے کہ چینی سیاحوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔
پیئرگیروس”اب بیشتر چینی سیاح گروپس کی شکل میں گھومنے کے خواہشمند نہیں، بلکہ وہ اپنی مرضی سے مختلف جگہوں میں جاتے ہیں، وہ اپنے ہوٹلوں اور شاپنگ پروگرامز وغیرہ کا انتخاب احتیاط سے کرتے ہیں، اور وہ یہ سب خود انٹرنیٹ سرچنگ کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں”۔
ان میں سے بیشتر سیاح نوجوان ہیں، جو ایک بار بیرون ملک جاچکے ہیں اور اب وہ مزید ممالک میں جاکر وہاں کی ثقافتی اقدار کے بارے میں جاننے کے خواہشمند ہیں۔
پیئرگیروس”پانچ سال قبل سفر کی بنیادی وجہ شاپنگ ہوتی تھی، مگر گزشتہ دو یا تین برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ بیشتر چینی سیاح دیگر ممالک کی ثقافت کے بارے میں جاننے کیلئے سفر کرتے ہیں، مثال کے طور پر امریکہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چینی افراد مغربی امریکہ میں گھڑ سواری کا تجربہ کرنے کیلئے آتے ہیں، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ میں چینی سیاح اسپورٹس یا متحرک طرز زندگی کا مشاہدہ کرنے آتے ہیں”۔
آن لائن ورلڈ ان سیاحوں کی تعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے، جینز تھرین ہارٹ، ڈریگن ٹریل انٹریکٹیوکے شریک بانی ہیں، ان کی کمپنی سوشل میڈیا میں چینی سیاحوں کی پسندیدگی کی چیزیں تلاش کرتی ہے۔
جینز تھرین ہارٹ”جب کوئی چینی سیاح چاہے وہ تنہا ہو یا گروپ کی شکل میں، کسی جگہ جانے کیلئے مواد دیکھنا چاہتا ہے تو وہ آن لائن جاتا ہے ، یا وہ کوئی خاص مقام یا ہوٹل وغیرہ کیلئے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا جاتا ہے۔ ہم نے ایسے کئی تجربات ریکارڈ کئے ہیں”۔
چین اس وقت پرتعیش سفری مارکیٹ میں سب سے آگے ہے۔
جینز تھرین ہارٹ”امیر چینی سیاح تین گاڑیوں اور چار قیمتی گھڑیوں کے عام طور پر مالک ہوتے ہیں، مختلف سروے رپورٹس کا جائزہ لیں، تو ان امیر افراد کی پسندیدہ ہوٹل چین شنگریلاہے، جب وہ اپنے پسندیدہ برانڈز کی خریداری کرتے ہیں تو ان کی ترجیح فرنچ برانڈزہوتے ہیں، یہ لوگ دیگر مہنگے برانڈز کی خریداری کے دوران بھی اس کی ساکھ کا زیادہ خیال رکھتے ہیں”۔
اب بھی شاپنگ چینی سیاحوں کیلئے ایک اہم سرگرمی ہے، پیئر گیروس اس بارے میں بتارہے ہیں۔
پیئر گیروس”سیاحتی دوروں میں شاپنگ ایک اہم جز ہوتا ہے، کیونکہ چین میں بڑے اسٹورز یہ پرتعیش اشیاءزیادہ مہنگے داموں میں فروخت کرتے ہیں، جبکہ یہی چیز مغربی ممالک میں ڈیوٹی فری اسٹورز میں کافی کم پیسوں میں مل جاتی ہیں”۔
سفری ماہرین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ، مکاﺅ اور تھائی لینڈ اب بھی پسندید مقام ہیں، جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ بھی چینی سیاحوں میں کافی مقبول ہیں، مگر بڑھتی ہوئی آمدنی کیساتھ اب چینی افراد نئے خطوں کی سیر جیسے جنوبی امریکہ اور افریقہ کی سیر کرنا بھی پسند کررہے ہیں۔ جان کیسٹرکا کہنا ہے کہ چین کی سیاحتی مارکیٹ کو باشعور ہونے میں ابھی کچھ عرصہ لگے گا۔
جان کیسٹر” 2013ءکے اولین نوماہ کے دوران چینی شہریوں کے اخراجات دنیا میں سب سے زیادہ تھے، 2012ءمیں 102 ارب ڈالرز خرچ کرکے سیاحتی مارکیٹ میں نمبرون پوزیشن حاصل کرنے کے بعد 2013ءکے اولین نو ماہ کے دوران انھوں نے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے اٹھائیس فیصد زائد رقم خرچ کی، اگر یہی رجحان آخری چوتھا ئی میں رہا تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس رقم میں مزید اٹھائیس ارب ڈالرز کا اضافہ ہوجائے گا، یہ شرح نمو واقعی حیرت انگیز ہے”۔