(Taming China’s desert with red dates) چینی صحرا کی سرخ کھجوروں میں تبدیلی


(Taming China’s desert with red dates) چینی صحرا کی سرخ کھجوروں میں تبدیلی

(China desert) چینی صحرا

چین پر اکثر الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کیلئے ماحولیاتی عناصر کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس وقت چین میں پانی کی شدید قلت کے باعث ایک تہائی رقبہ صحرا میں تبدیل ہو گیا ہے، تاہم اب چین نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں

جب ہم لوگ سنکیانگ کے جنوبی علاقے Hotan پہنچے تو Uyghur موسیقی کی مدھر دھنیں بھی ہمارے ساتھ تھیں۔چین کے شمالی علاقوں کے سرد اور بھیگے ہوئے موسم کے برعکس جنوب میں آکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم مشرق وسطیٰ میں پہنچ گئے ہیں۔

ہم لوگوں کا پہلا اسٹاپ Xingjiang تھا، جو انسان کا تعمیر کردہ سب سے بڑا تالا ہے، اسے حکومتی ادارے Hetian Kunlun Mountain Date Co. Ltd نے پہاڑوں سے پانی جمع کرکے تعمیر کیا تھا۔ اس تالاب سے توقع ہے کہ چین کے غریب ترین علاقے میں ترقی کا نیا باب کھلے گا۔ Yang Guan Sheng حکومتی عہدیدار ہیں۔

Yang Guan Sheng(male)” 2003ءسے قبل یہ ایک بنجر علاقہ تھا، 2004ءسے ہم یہاں انتہائی احتیاط سے شجرکاری کا کام کررہے ہیں، اور اب آپ یہاں پھلوں سے لدا باغ دیکھ سکتے ہیں۔ اب یہ تیس لاکھ ایکڑ پر پھیلا زرعی علاقہ بن چکا ہے”۔

یہاں ہمیں سینکڑوں درخت نظر آرہے ہیں جو ریت کے صحرا کو پھیلنے سے روکنے کا کام کررہے ہیں۔Yang Guan Sheng کا کہنا ہے کہ یہ لگائے گئے درخت صحرا کیلئے بہترین ہیں

Yang Guan Sheng(male)”ہم نے باہری سمت میں Yang willow درخت لگائے ہیں جبکہ اندر سرو کے درختوں کو لگایا گیا ہے۔ یہ بہت سخت جان درخت ہوتے ہیں اور ان کے اندر جدوجہد کرنے کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ یہاں دیگر اقسام کے درخت نہیں اگائے جاسکتے،ان درختوں کو بڑے ہونے میں تین برس کا عرصہ لگتا ہے، ان کو یہاں لگانے کا بنیادی مقصد صحرا کو پھیلنے سے روکنا تھا، خصوصاً جون اور جولائی میں جب زبردست آندھیاں آتی ہیں۔ مگر اس سال گزشتہ برسوں جیسی تباہی نہیں ہوگی”۔

Taklamakan نامی صحرا میں واقع Hotan نامی یہ علاقہ زراعت کیلئے موزوں نہیں، مگر یہاں کا معتدل موسم اور پورے سال موجود رہنے والے سورج کی تاب ناک کرنوں کے باعث یہ خشک پھلوں کو اگانے کیلئے مثالی جگہ ہے۔ 2004ء

سے چینی حکومت نے یہاں تین سو ملین ڈالرز خرچ کئے ہیں، تاکہ صحرا کو سرخ کھجوروں کے باغ میں تبدیل کردےا جائے۔ یہ چین میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کیلئے ملحقہ صوبوں سے سینکڑوں کاشتکاروں کوبلا کر انہیں فی کس چار ایکڑ زمین مفت فراہم کی گئی۔تین سال بعد یہ کاشتکار اور ان کے خاندانوں نے حکومت کو کرایہ ادا کرنا شروع کردیا، جبکہ ان کی کھجوروں کی فروخت شروع ہوگئی۔

اس منصوبے سے ہونیوالی ترقی سے نئی ملازمتیں پیدا ہونیکا امکان ہے، جبکہ اس کے ساتھ ماحولیات پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔Liu Wenqiang یہاں کام کرنیوالے حکومتی ادارے کے ڈپٹی منیجر ہیں۔

Liu Wenqiang(male)”ہم نے ملک بھر سے پیشہ ور افراد کو یہاں مدعو کیا، کیونکہ یہاں کا موسم اور ماحول کھجوروں کی پیداوار کیلئے بہترین ہے۔ یہاں کاشت کی جانیوالی کھجوریں بغیر کیمیکل کے قدرتی طریقے سے اگائی جاتی ہیں اور ان کیلئے کیڑے مار ادویات کا استعمال بھی نہیں ہوتا۔ چینی کھجوریں صحت کیلئے بہترین ہیں اور انکی طلب بھی بہت زیادہ ہے۔ تالاب سے حاصل ہونیوالا پانی مختلف نالیوں کے ذریعے فارمز تک پہنچایا جاتا ہے، ہم نے یہاں پہلے اسرائیل میں اختیار کئے جانیوالے آبپاشی کے طریقے کو اختیار کیا اور پھر ہم نے ملحقہ صوبوں اور مقامی کاشتکاروں کو منتخب کرکے یہاں بلا کر فارم دیا۔اولین تین برسوں تک ان فارمز کا کرایہ معاف کردیا گیا تھا، یہ بہت اچھی پیشکش تھی اور یہاں آنیوالے کاشتکار اب دو گاڑیاں اور ٹریکٹر خریدنے کے قابل ہوچکے ہیں”۔

چین کی سرخ کھجوریں دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ ان کا اوپری حصہ زیادہ باریک، ریشے دار اور زیادہ میٹھا ہے۔ ان کو روایتی طور پر چینی ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اب انہیں بطور پھل استعمال کرنے کا رجحان بھی بڑھا ہے۔Liu کے مطابق ملک بھر میں یہاں کی سرخ کھجوروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور ابھی ہر سال مقامی طلب پوری کرنے کیلئے بارہ ہزار ٹن کھجوریں پیدا کی جارہی ہیں۔ Ke Er Limu ایک Uyghur تاجر ہیں، جو یہاں سے کھجوروں کی نقل و حمل کا کام کرتے ہیں۔

Ke Er Limu(male)”ہمارے ڈسٹری بیوٹرز ملک کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ ہمارے تمام ٹرک صرف کھجوروں کی نقل و حمل کا کام کرتے ہیں۔میرے خیال میں اب ان ٹرکوں کی تعداد ایک سو تیس سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ

 بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جاسکے۔ ہمیں توقع ہے کہ جلد ہم یہ کھجوریں بیرون ملک برآمد کرسکیں گے۔ اگر کاروبار اسی طرح اچھا

چلتا رہا تو یہاں لوگوں کیلئے مزید ملازمتوں کے مواقع بھی سامنے آئیں گے”۔

یہاں گزشتہ برس چار سو ٹن پھلوں کی پیداوار ہوئی جو 2010ءکے مقابلے میں پندرہ فیصد زائد ہے۔اس منصوبے کی کامیابی کے بعد چین کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلتے ہوئے صحراﺅں کی روک تھام کیلئے اب حکومت نے اس پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *