پاکستان میں جہاں ہر روزکوئی نہ کوئی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہا ہے جہاں شہروں اور دیہاتوں میں روز کوئی نہ کوئی عورت چولہا پھٹنے سے جھلس کر مر جاتی ہے، جہاں نوجوان گریجوئٹس کی تعداد زیادہ اور نوکریاں کم ہیں، جہاں خواتین پر ہونے والے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے۔۔۔۔وہیں تھوڑے تھوڑے عرصے بعد کہیں نہ کہیں کچھ ایسا بھی ہوتا ہے جو تیز دھوپ میں خوشگوار ہوا کا جھونکا معلوم ہوتا ہے ، شرمین عبید چنائے ہم سب کیلئے ٹھنڈی ہوا کا ایسا ہی ایک جھونکا ہے۔شرمین عبید چنائے پاکستان کی پہلی جرنسلٹ اور فلمساز ہیں جن کی فلم”سیونگ فیس”کو آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا اور بالآخر مختصر دورانیے کی یہ ڈاکیومنٹری فلم آسکر ایوارڈ کی حقدار قرار پائی۔۔۔
سیونگ فیس کا موضوع ہمارے معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ ہے، یہ اُن بد نصیب عورتوں کی کہانی ہے جن کے چہرے اور وجود تیزاب پھینک کر مسخ کر دیئے جاتے ہیں
یہ کہانی ہے ایک فرشتہ صفت ڈاکٹر کی جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آکر اِن خواتین کی زندگیاں بچانے اوراِن کے مسخ شدہ چہروں کے ٹریٹمنٹ کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتا ہے۔
شرمین عبید چنائے کی تخلیق کردہ ڈاکیومنٹری فلم سیونگ فیس نے عالمی سطح پر پاکستان کا ایک نیا چہرہ پیش کیا ہے۔ملک بھرمیں خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکنے کے بے شمار واقعات ہو چکے ہیں جن میں سے چند ایک کیسز ہی میڈیا تک پہنچ پائے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسڈ کرائمز بِل کی منظوری کے بعداس نوعیت کے واقعات کو جرائم میں شمار کیا جاتا ہے اور اِس میں ملوث افراد کو کم از کم14سال سے لے کر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔سیونگ فیس کی تخلیق کار شرمین عبید چناے نے اپنے سفر کا آغاز پرنٹ میڈیاسے کیالیکن جلد ہی انھیں محسوس ہوا کہ عکس بندی کے ذریعے وہ اپنے خیالات کا اظہارزیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں۔
شرمین عبید چنائے نے سیونگ فیس اور اس سے قبل بنائی گئی ڈاکیومنٹری فلموں میں اُن حساس موضوعات کا انتخاب کیا ہے جنھیں اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا یا اتنے بھر پور طریقے سے پیش نہیں کیا گیا تھا۔
شرمین عبید چنائے کے ساتھی ڈائریکٹر ڈینیل ینگ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر جواد اور اُنکی خدمات کے بارے میں جاننے کے بعد اُنکے اور شرمین کے ذہن میں خیال آیا کہ اسے ڈاکیومنٹری فلم کی شکل دی جا سکتی ہے۔سیونگ فیس کی شوٹنگ اسلام آباد، راولپنڈی اور پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں میں کی گئی ہے جبکہ اسے انٹرنیشنل لیول پر عنقریب ریلیز کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی نے سیونگ فیس کی پروڈیوسر و ڈائریکٹر شرمین عبید چنائے کو اعلیٰ سوِل ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔
سیونگ فیس کا موضوع شاید ہمارے معاشرے کیلئے نیا نہ ہو،ایسی بے شمار خواتین ہیں جن کے اپنوں نے جذبہ رقابت یا جذبہ انتقام میںاُن کے چہرے ہی نہیں زندگیاں بھی تباہ کر دیںاوروہ دُنیا سے چہرہ چھپائے کسی نہ کسی تاریک گوشے میں زندگی کے دن گزار رہی ہیں ،ایسے میںقابل تحسین ہیں وہ خواتین جو اس نوعیت کے حادثے کا شکار ہوئیں اور انھوں نے دنیا کے سامنے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو پیش کیا سیونگ فیس کی صورت میں۔۔۔شرمین عبید چنائے نے یہ ایوارڈ ایسی ہی خواتین کے نام کیا ہے جو تبدیلی کیلئے مصروف عمل ہیں:
