(Taliban teenager turns a new leaf) طالبان سے وابستہ نوجوان کی نئی زندگی

 

حال ہی میں سنیئر طالبان کمانڈر کے ایک محافط نوجوان نے عسکریت پسندی سے پیچھا چھڑاتے ہوئے اسکول جانے کا فیصلہ کیا۔

ماضی میں سترہ سالہ نعیم جان سوات میں طالبان کمانڈر مولانا فضل اللہ سے وابستہ ایک سنیئر کمانڈر کے محافظ کی حیثیت سے کام کرتا رہا، اس نے یہ فیصلہ اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود کیا۔

نعیم(male) “ایک بار میری ماں نے گھر سے باہر نکل کر میرا پیچھا کیا اور درخواست کی کہ میں طالبان تنظیم کو چھوڑ دوں۔ میں نے اپنی رائفل کا رخ ماں کی جانب کیا اور اسے مارنے کی کوشش کی۔ یہ میری طالبان تحریک سے محبت کی نشانی تھی۔ جس کے بعدماں نے میرا پیچھا چھوڑ دیا، میری ماں کے ساتھ میری بہن نے بھی کئی بار مجھ سے طالبان تحریک کو چھوڑ دینے کی درخواست کی”۔

نعیم نے اپنی مرضی سے طالبان تحریک میں چودہ سال کی عمر میں شمولیت اختیار کی تھی۔نعیم کا کہنا تھا کہ اس کی طرح متعدد لڑکے بھی اپنے والدین کی مرضی کے بغیر طالبان تحریک میں شامل ہوئے۔ طالبان کی جانب سے اسلامی شرعی عدالتوں سمیت سخت گیر روایات کے نفاذ کی کوششیں ان لڑکوں کیلئے باعث کشش تھیں۔اس زمانے میں وادی سوات میں طالبان کا کنٹرول بہت زیادہ تھا۔نعیم اس بارے میں بتارہا ہے۔

نعیم(male) “ہمارے اسکول کا ایک استاد طالبعلموں کو طالبان میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا تھا۔ ایک دن ہم لوگ طالبان کے مرکز گئے جہاں ہم نے مولانا فضل اللہ کی تقریر سنی، اور پھر ہم نے کئی بار ریڈیو پر ان کی تقریریں سنیں۔ اسی طرح ہم طالبان تحریک میں شامل ہوگئے اور ہم نے ہتھیار اٹھالئے”۔

نعیم نے طالبان تحریک میں شمولیت کے بعد عسکریت پسندوں سے عسکری تربیت حاصل کی، اور قابل اعتماد طالبان رکن بن گیا۔ اس نے خودکش بمبار کی تربیت بھی حاصل کی۔سوات میں آپریشن کے بعد فوجی افسران اکثر نعیم کے گھر طالبان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے آتے تھے۔ نعیم کا کہنا ہے کہ فوجی افسران کی آمد اس کے خاندان کیلئے شرمندگی کا باعث تھی، خصوصاً اس کے بیمار والد کیلئے، تاہم نعیم کے والد اور بھائی کی ہلاکت کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی، کیونکہ نعیم اپنے گھر کا واحد کفیل باقی رہ گیا تھا اور اس نے خود کو انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔نعیم نے ہتھیار ڈالنے کے بعد ایک سال جیل میں گزارا۔

نعیم(male) “وہ جیل میں میرا 12 واں دن تھا، جب میں اچانک بے ہوش ہوگیا۔اس کی وجہ جیل میں میری ماں کی آمد بنی تھی، وہ انتہائی غم ناک دن تھا۔ میں نے اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر ماں کو دیکھنے کی کوشش کی، مگر میں نیچے گرگیا اور بے ہوش ہوگیا”۔

اب نعیم رہا ہوچکا ہے اور وہ اپنی بہنوں کی شادی کیلئے رقم جمع کرنے کیلئے محنت کررہا ہے۔اس نے طالبان سے اپنے تمام روابط ختم کردیئے ہیں، تاہم اس کے گاﺅں کے باسی اب بھی نعیم سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ گاﺅں میں یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ نعیم اب فوجی مخبر بن گیا ہے، تاہم نعیم اس کی تردید کرتے ہوئے کہتاہے کہ وہ اپنی رہائی پر انتظامیہ کا شکرگزار ہے۔

نعیم(male) “وہ میری زندگی کا انتہائی پرمسرت دن تھا جب مجھے جیل سے رہائی ملی۔ میں نے آزاد ہوکر انتہائی سکون محسوس کیا، مگر جب مجھے ماضی کا خیال آیا خصوصاً مکان منہدم ہونے، بھائی کے انتقال، میرے خاندان کی مالی مشکلات اور جیل میں قیام جیسے واقعات کا خیال آیا تو مجھے لگا کہ میرا خاندان میری وجہ سے ان مشکلات کا شکار ہوا۔ اگر مجھے ان مصائب کا معلوم ہوتا تو میں کبھی طالبان کا حصہ نہیں بنتا، چاہے مجھے کوئی بھی لالچ دیا جاتا”۔

اب نعیم اپنے تعلیمی سلسلے کو پھر سے بحال کرنا چاہتا ہے، اس نے اپنی سوانح حیات بھی تحریر کرنا شروع کردی تھی تاہم ماضی کی انتہائی تکلیف یادوں کے باعث اس نے یہ ارادہ منسوخ کردیا۔

نعیم(male) “ماضی کو یاد رکھنے کیلئے سوانح حیات لکھنا ضروری ہے، مگر میں جب بھی اپنے ماضی کے بارے میں سوچتا ہوں، تو میرا دکھ تازہ ہوجاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے بارے میں کافی کچھ لکھا مگر پھر ماضی کی ان یادوں کی تکلیف نے مجھے بے حال کردیا اور مجھے اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا”۔

نعیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اخراجات بہت زیادہ ہیں، جبکہ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنے گاﺅں کے بچوں پر توجہ دیتے ہوئے انہیں تعلیم کی جانب مائل کررہا ہے، تاکہ وہ انتہاپسند گروپس سے دور رہ سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *