Students Gurning Kathmandu Into an Open Gallery – نیپالی فن مصوری

نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو اپنے تاریخی مندروں اور رنگا رنگ ثقافتی ورثے کے باعث جانا جاتا ہے، تاہم اب نوجوان نسل اس شہر کو جدید رخ دینا چاہتی ہے۔ شہر کو جدید رخ دینے کے لئے وہ دیواروں پر نقاشی کررہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کھٹمنڈو کے وسطی دربار اسکوائر کی مصروف شاہراہ پر آج کل لوگوں کی دلچسپی ایک نئی چیز پر ہے، یہ دیواروں کی جانے والی نقاشی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ شہر کس طرح تبدیل ہوا، یہ دیوار جو اس سے پہلے لوگوں کو نظر تک نہیں آتی تھی، اب یہاں رش نظر آتا ہے۔ 23 سالہ شرمدیپ پرکوٹی کالج کے طالبعلموں کے اس گروپ کے سربراہ ہیں، جس نے یہ کام کیا ہے۔

شرمدیپ”میرا پیشہ گرافک ڈایزئننگ ہے، میں بانکسے کا بہت بڑا پرستار ہوں، وہ لندن سے تعلق رکھنے والا حیرت انگیز اسٹریٹ آرٹسٹ ہے، وہ دنیا بھر میں جانا جاتا ہے اور اس کا کام بہت سراہا جاتا ہے، اسی سے متاثر ہوکر میں نے یہ کام کیا ہے”۔

اس گروپ کی رکن شرستی سیڑھی پر کھڑی ہوکر دیوار پر مزید چہرے بنارہی ہے۔

شرستی”اب میں ایک خاتون کا چہرہ بنارہی ہوں، جو اس نقاشی کے کونے میں کھڑی ہے اور اپنے ساتھ لوگوں کو لیکر جارہی ہے، مختلف نقابوں کے ذریعے ہم نے لوگوں کی الگ شناخت قائم کی ہے”۔

شرمدیپ”ماضی سے اب تک کھٹمنڈو میں بہت کچھ ہوچکا ہے، اس میں ایک طرف انتشار اور خرابیاں دکھائی گئییںہے، جو ہمارے لوگ دیکھ چکے ہیں، تاہم میں کھٹمنڈو کو ایسے دیکھتا ہو جیسے یہ بھگوان کا شہر ہے، مندر اور یہاں کے لوگ بہت خوبصورت ہیں، یہی چیز میری تصاویر میں نظر آتی ہیں”۔

نیپال میں دیواروں میں تصاویر بنانا غیرقانونی نہیں، مگر برسوں سے یہاں کی دیواریں صرف سیاسی پوسٹرز یا کمرشل اشتہارات سے بھری نظر آرہی ہیں۔ کھٹمنڈو کو رنگنے کی اس مہم کا خیال 27 سالہ مصورہ یوکی پاودل کا ہے۔

یوکی”ایک فنکار کی حیثیت سے میں کھٹمنڈو میں فن اور ثقافت کا فروغ چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ لوگ اس شہر پر فخر کریں، بچوں کو اس شہر پر فخر کرنا چاہئے، جب وہ یہاں گھومے تو وہ کمرشل اشتہارات کی بجائے فن مصوری کے شاہکار دیکھیں، تاکہ کسی سیاسی جماعت کے نفرت انگیز نعروں سے بچ سکیں”۔

اس منصوبے کا مقصد دارالحکومت کی 75 دیواروں پر نقاشی کرنا ہے، تاہم لوگوں کو ان دیواروں پر اس کام کیلئے تیار کرنا آسان نہیں تھا۔

یو کی”ہم انہیں آپشنز دیتے ہیں، کہ آپ کی دیوار خالی ہے، تو کیا آپ پسند کریں گے لوگ آئے اور خراب پوسٹرز لگا کرچلے جائیں یا آپ وہاں ایسا فن دیکھنا پسند کریں گے جو لوگوں کو متاثر کرے گا جبکہ آپ کا گھر بھی متعدد افراد کی نظر میں مثالی ہوجائے گا؟”

سوال”یہ کتنا مشکل کام تھا؟

یوکی”یہ ہمارے منصوبے کا سب سے زیادہ چیلنجنگ حصہ ہے، بنیادی طور پر ہر بائیس گھر جن سے ہم اجازت مانگتے ہیں، ان میں سے صرف ایک گھر میں کام کرنے کی اجازت ملتی ہے، کیونکہ ہم بڑے بل بورڈز یا اشتہارات کے مقابلے میں لوگوں کو کوئی رقم نہیں دیتے”۔

تاہم دکاندار بنود مشرا کو فخر ہے کہ ان کی دکان کی دیوار تصاویر سے سجی ہے۔

بنود مشرا”میں اس دکان پر تیرہ سال سے کام کررہا ہوں، اور اس کی دیوار ہمیشہ سیاسی پوسٹرز اور نعروں سے بھری رہتی تھی، میں نے کبھی کسی کو وہ پوسٹرز پڑھتے نہیں دیکھا، مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہر راہ گیر میری دکان کے سامنے رکتا ہے اور ان تصاویر کو سراہتا ہے”۔