وطن کے بہادر سپوت اور پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر شہید راشد منہاس کی 42 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ جرات اور بہادری کی عظیم داستان راشد منہاس شہید 17فروری 1951کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ راشد منہاس کا تعلق راجپوت گھرانے سے تھا۔
راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم جیس اسکول اور کوئین میری اسکول سے حاصل کی۔کراچی کے سینٹ پیٹرک کالج سے انہوں نے سینیر کیمبرج کا امتحان نمایاں پوزیشن لے کر پاس کیا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان ایئرفورس میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔
راشد منہاس کا شوق رنگ لایا اور ان کو پاک فضائیہ میں سلیکٹ ہونے کے بعد ٹریننگ کیلئے کوہاٹ اور کچھ عرصہ بعد رسالپور بھیج دیا گیا۔ رسالپور میں راشد منہاس نے پاکستان ایئرفورس اکیڈمی سے فلائٹ کیڈٹ کی تربیت حاصل کی۔ ایئر فورس اکیڈمی کے طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے جون 1970 میں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔20اگست 1971 کو ٹرینر کی پرواز میں فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ مطیع نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے نوجوان پائلٹ راشد منہاس پرضرب لگائی اور طیارے کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیاَ۔
طیارہ بھارت کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ اسی اثناءمیں راشد منہاس شہید کو ہوش آگیا اور انہیں نازک حالت کا علم ہوا کہ طیارہ اغواءکرلیا گیا ہے۔ راشد منہاس نے اس موقع پرپی اے ایف مسرور بیس میں صبح ساڑھے گیارہ بجےکے قریب رابطہ کیااور طیارے کے اغواءہونے سے متعلق آگاہ کیا۔
راشداور غدار مطیع الرحمان کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی اور شہید پائلٹ نے مطیع الرحمان کو اس کے ناپاک و مذموم مقصد
میں کامیاب نہ ہونے دیا اور طیارہ بھارت کی سرحد سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر زمین بوسa ہوا۔
راشد منہاس کا جذبہ ایمانی اور آتش حب الوطنی تھی جس نے راشد منہاس کو وہ بے مثال جرات بخشی جس کے تحت انہوں نے ایک غدار انسٹرکٹر کے ناپاک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 20 اگست 1971 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے اس لازوال کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔
راشد منہاس شہید کا احساسِ تفاخر، جذبہ شجاعت اور حسن حب وطن ہے جس نے ان کو آخری لمحات میں بھی جنگ جیت لینے کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشا اور آج اس کی تصویر اور نام دشمن کیلئے تازیانہ عبرت بن چکا ہے۔ راشد منہاس شہید نے اپنی بے مثال قربانی سے اس قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔