اردو کی سب سے بڑی خاتون ناول نگار کا اعزاز پانے والی قرة العین حیدر 1927 میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔
تقسیم ہند کے بعد قرةالعین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے بھارت میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے گیارہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا۔ قرةالعین حیدر نہ صرف ناول نگاری بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔
ان کے مشہور ناولوں میں بالترتیب میرے بھی صنم خانے، سفینہ غمِ دل، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، گردشِ رنگِ چمن، کارِ جہاں دراز ہے اور چاندنی بیگم شامل ہیں۔
ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اوران کے دو ناولوںآگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔
آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989 میں انہیں ہندوستان کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں1985 میں پدم شری اور 2005 میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔
اردو ادب کے کچھ نقاد انہیں اردو کی ورجینا وولف بھی کہتے ہیں۔ قرة العین حیدر کے تیسرے ناول آگ کا دریا کو اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔بعض نقاد سمجھتے ہیں کہ یہ ناول اردو زبان کے اہم ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔
اکیس اگست 2007ءکو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔
انھوں نے جدید ناول میں کہانی بیان کرنے کا جو انداز دیا اس نے جدید ناول کو کلاسیکی مقام پر پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔