Written by prs.adminMarch 29, 2014
Struggling Vietnam auto industry gets boost from Mercedes – ویت نامی آٹو انڈسٹری
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
معروف کار ساز کمپنی مرسڈیز بینز نے رواں سال ویت نام میں ایک کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری سے اپنا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس سے ویت نام کی اپنی آٹو انڈسٹری کو کیا فائدہ ہوگا، اسی حوالے سے سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہو چن می سٹی کے شمالی کونے میں پھیری والے ایک ڈالرز کے عوض نوڈلز بیچ رہے ہیں، جبکہ کوڑا چننے والے ڈبے وغیرہ کی تلاش میں ہیں، ان کے برابر میں ہی ویت نام کی مہنگی ترین گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں مرسڈیز کی فیکٹری بن رہی ہے اور اس کمپنی نے ویت نام میں اپنی کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کیلئے ایک کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، مرسڈیز کے چیف ایگزیکٹو مچل بیرنس اس حوالے سے بتارہے ہیں۔
مچل”ہمارا رواں برس کے عزائم میں سب سے اوپر ویت نام میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے، اگر آپ پوچھے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ تو میرا جواب ہے کہ ہم یہاں مستقبل میں اپنی نئی گاڑیوں کی تیاری کیلئے پچاس لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاریں گے، جبکہ دیگر پچاس لاکھ ڈالرز دیگر امور پر خرچ کئے جائیں گے”۔
اس کے علاوہ مرسڈیز رواں برس ویت نامی مارکیٹ میں اپنے انیس نئے ماڈلز بھی متعارف کرائے گی،ڈرک ایڈلمین ڈائریکٹر سیلز و مارکیٹنگ ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ کیلئے درست حکمت عملی ہے۔
ڈرک”یہاں کے صارفین کی اوسط عمر دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے، ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ یہ نوجوان ویت نامی ہر سال کچھ نیا چاہتے ہیں، یہ ہمارے لئے چیلنج ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی گاڑیوں کو ہر برس مزید بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں”۔
مرسڈیز کے اس اعلان سے ویت نامی حکومت کے اس عزم کو تقویت ملی ہے جس کے تحت وہ تھائی لینڈ اور انڈونیشیاءکے مقابلے اپنی گاڑیوں کی صنعت کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، تاہم ویت نام کے آ ٹوکار میگزین کے ایڈیٹر نگوئن وین تارنگ کا کہنا ہے کہ ملک کو مزید سرمائے اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
تارنگ”ویت نام نے صفر سے آغاز کیا تھا، تو ویت نام کو غیرملکی برانڈز کی مدد کی ضرورت تھی، ویت نام چاہتا تھا کہ غیرملکی کمپنیاں یہاں سرمایہ لگائے اور اپنی ٹیکنالوجی شیئر کریں، مگر میرا نہیں خیال کہ غیرملکی کمپنیاں ویت نامی اداروں کیساتھ ایسی معلومات شیئر کررہی ہیں، یہ عمل بہت سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے”۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ویت نام ابھی خطے کے دیگر ممالک کی مسابقت کیلئے تیار نہیں ہوسکا ہے،مقامی افراد کو درآمد اور دیگر ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے، تاہم مرسڈیز کے سی ای او مچل کا کہنا ہے کہ آسیان ممالک کے ایک معاہدے کے تحت 2018ءمیں جب ٹیکسز ختم ہوں گے تو ویت نام کو مسائل کا سامنا ہوگا۔
مچل”خطے کے دیگر ممالک میں یہ انڈسٹری زیادہ ترقی کررہی ہے، مگر ویت نام میں ایسا نہیں ہورہا ہے، جس کی وجہ ویت نامی حکومت کا تعاون نہ ہونا ہے”۔
ویت نام جنوب مشرقی ایشیاءمیں تیزی سے ترقی کرتی ہوئے معیشت ہے، اور یہاں گاڑیوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، کیونکہ لوگ اسے اپنی امارات کا
اظہار سمجھتے ہیں۔ تارنگ اس بارے میں بتارہے ہیں۔
تارنگ”ویت نامی افراد امیر ہورہے ہیں، اپنی دولت خرچ کرنا اور زندگی سے لطف اٹھانا چاہتے ہیں، خصوصاً کچھ لوگ تو اپنی امارات کا اظہار کرنے کے بھی خواہشمند ہیں، تو ویت نامیوں کی نظر میں گاڑی صرف ایک سواری نہیں بلکہ ایک اثاثہ بھی ہے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply