School headmasters in Mynamar forced to work in the fields – برمی تعلیمی نظام

برما کے دیہی علاقوں میں اساتذہ کی تنخواہیں بہت کم ہیں، برما کی ستر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے تو ملک میں ترقی کی شروعات کیساتھ ہی تعلیمی شعبے میں بہتری کیلئے بھی اصلاحات کی جارہی ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

برما کے ایک گاﺅں تین یین کونے میں واقع اسکول کے ہیڈماسٹر سا ہتو شے اپنی کلاس میں جانے سے پہلے دھان کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں، دن بھر اسکول میں مصروف رہنے کے بعد وہ واپس کھیتوں میں ہی پہنچ جاتے ہیں، انہیں استاد کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے ہیں، مگر وہ دو ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

سا ہتو”میرا خاندان متعدد افراد پر مشتمل ہے، میری عمر اب چالیس سال سے زائد ہوچکی ہے اور میری چار بڑی بہنیں بھی ہیں، میرے والد کی عمر 86 اور والدہ 84 سال کی ہیں، ان کی صحت کا خیال رکھنے کیلئے ہی میں دھان کے کھیتوں میں کام کرتا ہوں”۔

برما میں اسکولوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، حکومت قومی بجٹ کا صرف 5.8 حصہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں اسکولوں کی حالت شہروں کے مقابلے میں بدترین ہے،یہاں اکثر چیزوں کی کمی رہتی ہے، بلکہ بیشتر اسکول تو چھونپڑیوں میں قائم ہیں، جبکہ وہاں کام کرنے کیلئے اساتذہ کی تلاش بھی کم تنخواہ کے باعث ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر کوئی یہ ملازمت اختیار کربھی لے تو آگے ترقی کرنا مشکل ہوجاتا ہے، ایک اسکول کی استادتوئے توئے اس بارے میں بتارہی ہیں۔

تو ئے توئے”تربیت کے دوران اساتذہ کو کہا گیا تھا کہ تین سال بعد ہم اعلیٰ پوزیشن کیلئے درخواست دے سکیں گے اور ہمیں ترقیاں بھی ملیں گی، میں کسی ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس بننا چاہتی تھی، مگر مجھے یہ کام کرتے ہوئے چھ سال ہوچکے ہیں مگر مجھے اب تک آگے ترقی نہیں مل سکی”۔

برمی اپوزیشن جماعت نیشنل لینگوئج فار ڈیموکریسی نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے،تھین لیوین اس جماعت کے رہنماءہیں، انکا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔

تھین”میں دیہی علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی مشکلات کو سمجھ سکتا ہوں، تعلیمی بجٹ کم ہونے کے باعث انہیں مناسب تنخواہیں نہیں مل پاتی، مقامی برادری بھی اساتذہ کی مدد اس لئے نہیں کرپاتی کیونکہ وہ خود غریب کاشتکار ہیں”۔

دیہی برما میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سڑکیں نہ ہونے کے باعث متعدد دیہات تک رسائی بھی مشکل ہے۔ ایک استاد منٹ شےکا کہنا ہے کہ اساتذہ اور طالبعلموں کو روزانہ اسکول تک رسائی کیلئے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔

منٹ شے”یہاں کام کرنا شہروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے، ہمیں اکثر سفر کیلئے کشتیوں کو استعمال کرنا پڑتا ہے، جس سے یہ سفر مزید مشکل ہوجاتا ہے”۔

ٹرانسپورٹ میں کمی کے باعث اساتذہ تربیت کیلئے شہروں کا سفر بھی نہیں کرسکتے۔

سا ہتو من”اٹھارہ سال کی ملازمت کے بعد میں پوسٹ گریجویشن ڈگری کیلئے اپلائی کرسکتا ہوں، ہم ہائی اسکول کے استاد بننا چاہتے ہیں، مگر ہمارے لئے ایک یا دو ہفتے کیلئے شہر جانے کا سفر کرنا بھی مشکل ہے، اس کے علاوہ مالی مسائل الگ ہیں”۔

تھین لیوین”ایک استاد کو پڑھائی کا سلسلہ جاری اور تربیت کی ضرورت ہے، تاہم دیہی علاقوں کے اساتذہ کو یہ مواقعے دستیاب نہیں، جب تعلیمی نظام میں اصلاحات ہوں گی تو ہم جیسے اساتذہ کو بھی پڑھنے کا موقع ملے گا اور وہ ماسٹر ڈگری حاصل کرسکیں گے”۔

وزیر اطلاعات یہ توتو کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں حکومت تعلیمی بجٹ کو مزید بڑھائے گی اور اساتذہ کو تربیت کیلئے بیرون ملک بھیجا جائے گا جبکہ دیہات میں اسکولوں کیلئے نئی عمارات تعمیر کی جائیں گی۔تاہم بجٹ بڑھنے کے باوجود اگر اس فنڈ کا مناسب طریقے سے استعمال نہ ہوا تو صورتحال بہتر نہیں ہوسکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *