(South Koreans swim to disputed Dokdo islands in anti-Japan protest)جنوبی کورین عوام کا جاپان کیخلاف انوکھا احتجاج

جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان چند جزائر کی ملکیت پر تنازعہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کا ایک گروپ سمندر میں 230 کلومیٹر تیر کر Dokdo تک جاکر احتجاج ریکارڈ کروا رہا ہے۔

Dokdo ہمارا علاقہ ہے، یہ نعرے جنوبی کورین افراد لگارہے ہیں، یہ لوگ تیراکی کے لباس میں سمندر کے کنارے کھڑے ہیں۔ ان لوگوں کی قیادت معروف کورین گلوکار Kim Jang-hoon کررہے ہیں، یہ لوگ 230 کلومیٹر تیر کر Dokdo جزائر پہنچنے کیلئے تیار ہیں۔

 (male) Kim Hang  ” Dokdo ہمارا جزیرہ ہے، وہ جنوبی کوریا سے تعلق رکھتا ہے۔ہم وہاں تک تیر کر جائیں گے تاکہ Dokdo خود کو تنہا نہ سمجھے”۔

یہ جزائر الگ تھلگ اور آبادی سے خالی ہونے کے ساتھ ساتھ آتش فشانی سلسلے کے باعث بھی شہرت رکھتے ہیں۔اس آتش فشاں کے باعث یہاں مچھلیوں کی آبادی بہت زیادہ ہے اور سمندری سطح پر قدرتی گیس کے وسیع ذخائر موجود ہے۔ Dokdo میں صرف دو افراد ہی رہتے ہیں، جو ایک بزرگ ماہی گیر اور ان کی اہلیہ ہے، تاہم اب جنوبی کوریا یہاں کوسٹ گارڈز کی بیس قائم کرنے پر غور کررہا ہے۔گزشتہ دنوں جنوبی کورین صدر Lee Myung-bak نے یہاں دورہ کیا، جس کے بعد یہاں کی بنجر چٹانیں عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ یہ کسی بھی جنوبی کورین رہنماءکا اس جگہ کا پہلا دورہ تھا، کیونکہ جاپان بھی ان جزائر کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، بلکہ ٹوکیو میں تو ان جزائر کو Takeshima کا نام دیا گیا ہے۔تاہم جنوبی کوریا اس معاملے پر عالمی عدالت سے رجوع کرنے والا ہے۔ Koichiro Gemba جنوبی کورین عہدیدار ہیں۔

 (male) Koichiro Gemba “ہم اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ہم اس تنازعے کا پرامن حل چاہتے ہیں”۔

مگر جنوبی کورین صدر کے دورہ Dokdo سے اس تنازعے میں تشدد کا رنگ بھی شامل ہوگیا ہے۔ جاپانی شہر Hiroshima میں جنوبی کورین قونصل خانے کی عمارت پر پتھراﺅ ہوا،جبکہ لندن اولمپکس کے دوران بھی یہ جھگڑا اس وقت توجہ کا مرکز بنا، جب جنوبی کورین فٹبالر Park Jong-woo نے کانسی کا میڈل جیتنے کے بعد ایک بینر اٹھا کر جشن منایا جس میں لکھا تھا کہ Dokdo ہمارا جزیرہ ہے۔یہ اقدام اولمپک منشور کی خلاف ورزی تھا، کیونکہ ایتھلیٹس کو کسی قسم کے سیاسی بیانات دینے کی اجازت نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ Park Jong-woo کو میڈل کے بغیر خالی ہاتھ واپس جانا پڑا۔اب واپس وہاں چلتے ہیں جہاں لوگ Dokdo کی طرف احتجاجی سوئمنگ کیلئے تیار کھڑے ہیں۔

یہ لوگ اس وقت Dokdo پہنچے جب جنوبی کوریا کا یوم آزادی منایا جارہا تھا، جو کہ جنوبی کوریا نے جاپان سے ہی حاصل کی تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *