برطانیہ کے شہر لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس کے مقابلوں میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی ڈھکی چھپی نہیں،لندن اولمپکس میں دو خواتین ایتھلیٹس بھی پاکستانی دستے میں شامل تھیں ،لیکن ان کی مایوس کن کارکردگی نے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا،لندن اولمپکس میں پاکستانی دستے کے چیف ڈی مشن وزیر کھیل خیبر پختونخوا سید عاقل شاہ تھے،ان کا کہنا ہے کہ اولمپکس کے لئے بھیجی جانے والی خواتین ایٹھلیٹس کوالیفائڈ نہیں تھیں،
خواتین کے لئے مختلف کھیلوں میں تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے،چند ایک کھیلوں کے سوا کوئی بھی قابل ذکر کھیل ایسا نہیں جس میں خواتین ایتھلیٹس کو مناسب تربیت دی جا رہی ہو،سید عاقل شاہ کہتے ہیں کہ اگرچہ خواتین کے کھیلوں کی تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے لیکن اولمپکس میں کامیابیاں سمیٹنے کے لحاظ سے پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے،
پاکستان خواتین کھیلوں کے لحاظ سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ خواتین کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کی مناسب پیشہ ورانہ تربیت کے لئے خواتین انسٹرکٹرز دستیاب نہیں ہوتیں،اور بیشتر والدین اپنی بیٹیوں کو مرد انسٹرکٹرز سے تربیت دلوانے پر راضی نہیں ہوتے جس کے باعث بھی خواتین ایتھلیٹس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے،اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان اولمپکس کمیٹی کیا اقدامات کر رہی ہے،اس بارے میں سید عاقل شاہ بتاتے ہیں،
خواتین کھلاڑیوں کو اگر مناسب تربیت اور ماحول فراہم کیا جائے تو بعید نہیں کہ خواتین ایتھلیٹس اولمپکس میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے میڈلز جیت کے لائیں،اور دنیا کو یہ بتا دیں کہ پاکستانی عورت بھی نہ صرف پر اعتماد اور آزاد ہے بلکہ صلاحیتوں میں بھی دنیا کے کسی بھی ملک کی خواتین سے پیچھے نہیں۔