Ashfaq Ahmed’s Death Anniversary

اردو کے صاحب طرز نثر نگار اشفاق احمدبائیس اگست 1925 میں لاہور میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے(Grenoble) یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔
وطن واپس آکر انہوں نے ادبی جریدہ داستان گو جاری کیا۔جبکہ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔اسی دوران انکی شادی بانوقدسیہ سے ہوگئی، جو خود ملک کی ایک بڑی ادیبہ ہیں۔اشفاق احمد 1967 میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔
اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے اور 1953 میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی،جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر ، کھیل کہانی ،ایک محبت سو ڈرامے اور توتا کہانی ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔
انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔
ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی، جو پاکستان ٹیلی ویژن سے نشرہوئی۔اسی طرح اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ اشفاق احمد پاکستان ٹیلی وژن پر زاویے کے نام سے ایک پروگرام بھی کرتے تھے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔اشفاق احمدجگر کے عارضہ کے باعث سات ستمبر 2004ءکو لاہور میں انتقال کرگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *