South Korea Debates Green and Nuclear Energy – جنوبی کوریا میں توانائی کی بحث

جنوبی کوریا دنیا میں توانائی درآمد کرنے والے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے، کچھ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کے ذریعے ہی خودکفالت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

سیﺅل کا نو تعمیر شدہ سٹی ہال اب ماحول دوست توانائی سے لیس ہوگیا ہے، اس کی چھت پر ایک ہزار سولر پینیل لگائے گئے ہیں تاکہ بجلی پیدا کی جاسکے اور عمارت کے پانی کو گرم رکھا جاسکے۔ کُوک جونگ یین اس عمارت کے انرجی ڈویژن کے سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ سولر پینلز کے ذریعے ہم عمارت کی طلب کے مطابق ایک تہائی بجلی پیدا کررہے ہیں۔

کُوک”ہم نجی شعبے کو توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں دکھا سکتے ہیں کہ سٹی ہال میں شمسی توانائی کس حد تک بہترین کام کررہی ہے، اس لئے وہ بھی اس میدان میں آگے آئیں”۔

جنوبی کوریا کے قدرتی وسائی محدود ہیں، اور ابھی اس کی توانائی کی اسی فیصد ضروریات درآمدی اشیاءجیسے کوئلے اور پیٹرولیم مصنوعات سے پوری ہوتی ہے۔ تاہم اب سیﺅل ماحول دوست توانائی کے حوالے سے کورین قوم کیلئے ایک مثال قائم کرنا چاہتا ہے۔ پارک جی یونگ سیﺅل کے اسن انسٹیٹیوٹ فار پولیسی سٹڈیز کی تجزیہ کار ہیں۔

پارک”توانائی کے متبادل ذرائع کوریا کیلئے ترقی کے استحکام کے ساتھ ساتھ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اہم ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ سبز توانائی کے منصوبے جیسے سیﺅل کا سٹی ہال وغیرہ کافی حوصلہ بخش ہیں۔اس وقت کوریا کی بجلی کی ایک تہائی ضروریات جوہری پاور پلانٹس سے پوری کی جاتی ہیں، اس وقت 23 پلانٹ کام کررہے ہیں اور آئندہ دہائی کے دوران حکومت انیس مزید پلانٹس تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ کم جونگ یونگ، کو ریا نیو کلیئر سوسائٹی کے صدر ہیں، انکا کہنا ہے کہ جوہری توانائی سے درآمدی توانائی ذرائع پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔

کم”جوہری توانائی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا تناسب فی گھنٹہ کلوواٹ صرف دس گرام ہے، جبکہ قدرتی گیس میں یہ شرح 55 گنا زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی ہے، اگرچہ اس کے حوالے سے تحفظ کے مسائل موجود ہیں مگر انہیں حل کیا جاسکتا ہے”۔

تاہم ماہرین ماحولیات کی جانب سے جوہری منصوبوں پر کافی تنقید کی جارہی ہے، لی ہی سنگ عالمی تنظیم گرین پیس کے عہدیدار ہیں۔

لی ہی “ہمارے خیال میں یہ ماحول دوست توانائی کے حوالے سے پروپگینڈہ ہے، ہمیں تو اس میں کسی قسم کی بھلائی نظر نہیں آتی، درحقیقت حکومت سبز توانائی کے نام کا غلط استعمال کررہی ہے”۔

جنوبی کوریا اپنی اس ماحول دوست ٹیکنالوجی کو بیرون ملک بھی متعارف کرا رہا ہے، اب تک وہ متحدہ عرب امارات میں کئی ارب ڈالرز سے جوہری پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا کنٹریکٹ بھی حاصل کرچکا ہے۔ لی ہیو سونگ اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔

لی ہیو”کوریا ان چند ممالک میں شامل ہے جو فوکو شیما حادثے کے باوجود جوہری توانائی کو توسیع دینے کیلئے کوشاں ہیں، حالانکہ ماضی میں جوہری توانائی کو ترجیح دینے والے ممالک جیسے جرمنی، بیلجیئم یہاں تک کہ جاپان بھی اب اس کو ترک کررہے ہیں”۔

اب سٹی ہال واپس چلتے ہیں، جہاں ماہر توانائی کُوک جونگ یین کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست توانائی کے ذرائع کے حوالے سے سامنے آنیوالے اسکینڈلز ان وسائل کی کشش بڑھارہے ہیں۔

کُوک جونگ یین”یہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہمیں حکومتی حمایت بھی حاصل ہے، تو میرے خیال میں مستقبل میں توانائی کے متبادل ذرائع جوہری اور دیگر وسائل کی جگہ لے لیں گے”۔