Despite Reforms, Burma Still Sends Activist to Jail – برمی سیاسی قیدی

برما کی جانب سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو عالمی برادری نے سراہا ہے، مگر گزشتہ ماہ معروف سماجی کارکن کو دو سال قید کی سزا سنادی گئی، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

نو اوہن ہلا شمالی برما میں مقامی افراد کے ساتھ ملکر تانبے کی ایک کان میں کان کنی کیخلاف احتجاج کررہی ہیں، یہ کان چینی کمپنی اور برمی فوج کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس کے باعث سینکڑوں افراد کو زبردستی گھروں سے نکال باہر کیا گیا۔

صدر نے کان کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کے اوپر کریک داﺅن پر آنگ سان سوچی کی سربراہی میں گزشتہ سال نومبر میں ایک کمیشن قائم کیا، اس کمیشن نے منصوبے کو جاری رکھنے کی سفارش کی، جسکے بعدنو وہن ہلا نے اپنے احتجاج میں شدت لانے کا اعلان کیا۔

ناو”ہم انکوائری کمیشن کی سفارشات سے اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ یہ سفارشات مقامی افراد کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتیں”۔

پولیس نے اس اعلان کے بعدناو اوہن ہلا اور دیگر نو افراد کو گرفتار کرلیا، انہیں شرپھیلانے کے الزام میں مجرم قرار دیکر دوسال قید کی سزا سنادی گئی،ناو اوہن ہلا کے وکیل کو عدالت میں داخلے کی اجازت ہی نہیں دی گئی، سیاسی قیدیوں کے گروپ سے تعلق رکھنے والے تیتی نینگ اس سزا کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہیں۔

نینگ”ہماری پوری تاریخ میں یہ خودساختہ آرٹیکل بی 505 سماجی کارکنوں کی گرفتاری اور ان کی سزا بننے کا آلہ کار بنتا رہا ہے”۔

ناو نے اپنی پوری زندگی انسانی حقوق اور جمہوریت کیلئے مہم چلاتے ہوئے گزاری ہے، جس کے دوران انہیں سات بار جیل میں بھی رہنا پڑا، 2004ءمیں انھوں نے رنگون میں ایک ٹیوزڈے پریر گروپ قائم کیا، جس کے تحت آنگ سان سوچی کی رہائی کیلئے مہم چلائی گئی۔2010ءمیں بھی انہیں اسی طرح کے الزامات پر دو سال قید کی سزا ہوئی، ڈا شن ما ،ناو اوہن ہلا کی دوست ہیں۔

ڈا”ہمیں معلوم ہے کہ 2010ءمیں انہیں اینسین جیل میں رکھا گیا، وہ بہت غلیظ جگہ ہے اور انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک بدھ مندر میں بھکشوﺅں کو خوراک دینے جارہی تھیں”۔

ناو اوہن کو دو سال قبل صدارتی معافی کے بعد رہا کردیا گیا تھا، اس کے بعد انھوں نے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ناو اوہن”حکومت ہمیشہ کہتی ہے کہ اس وقت کوئی سیاسی قیدی نہیں، جبکہ ایسے قیدیوں کی سزائیں ایک سال کم کردی گئی ہیں، یہ احمقانہ بات ہے، صدارتی معافی کا کوئی فائدہ نہیں، اسی لئے ہم نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دستخطی مہم شروع کی ہے”۔
انکے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی موکل نے جیل میں بھوک ہڑتال کررکھی ہے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا جانا چاہئے، یو ہٹوے، مونے واجیل کے سربراہ ہیں۔

یو ہٹوے”یہاں جیل میں کوئی ہسپتال نہیں، اگر ان کی صحت خراب ہوئی تو ہمیں مسائل کا سامنا ہوگا، جبکہ منڈالے جیل میں اپنا ہسپتال موجود ہے، وہاں زیادہ سہولیات دستیاب ہیں”۔