چین میں سمندری فوڈ کی طلب میں سالانہ پندرہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، اس طلب کی وجہ سے عالمی سطح پر مچھلیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کرس ہر برٹ بیجنگ کے ایک ہوٹل اسٹار فش میں کام کرنے میں مصروف ہیں، انھوں نے یہ ہوٹل چند برس قبل کھولا تھا اور سی فوڈ کے شائقین میں یہ کافی مقبول ہے۔
کرس” ہمارا اوئیسٹرز نمبرون ہے، اس کے بعد دوسرے نمبر پر سیپ مچھلیاں اور جھینگا مچھلی کے درمیان مقابلہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کھانوں میں لوگوں کو بہت دلچسپی ہے، جیسے زندہ جھینگے کھانا بھی لوگ پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے سفر کرنے کی توانائی حاصل ہوتی ہے، اس کے علاوہ لوگ دیگر ممالک میں بننے والے کھانے بھی یہاں آکر کھانا پسند کرتے ہیں”۔
چین میں سیپ مچھلیوں جیسے اوئسٹر کی مانگ میں سالانہ بیس فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اس کے علاوہ جاپان کے مشہور زمانہ پکوان سوشی کے باعث سالمون اورٹُونا مچھلی کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ فین زوبنگ بیجنگ میں ایک کمپنی چلارہے ہیں، جو کینیڈا، ناروے اور امریکہ وغیرہ کے سمندری کھانوں کی درآمد کرتی ہے۔
فین زوبنگ” سوشی چین بھر میں بہت مقبول ہے، چینی عوام میں زمانہ قدیم سے خام مچھلی کھانے کی روایت موجود ہے مگر جدید سوشی کا رجحان جاپان سے ہانگ کانگ اور پھر جنوبی چین میں پہنچا، اور اب صارفین تمام بڑے شہروں میں سوشی ریسٹورنٹس دیکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران زیادہ سے زیادہ سوشی ریسٹورنٹس کھلے ہیں”۔
وہ بتارہے ہیں کہ آخر کیوں چین میں درآمدی سی فوڈ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
فین”آمدنی بڑھ رہی ہے، اور آمدنی بڑھنے سے چینی عوام کی سی فوڈ میں دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے، اس کے علاوہ دوسری اہم بات معیاری خوراک کا معاملہ ہے، یہاں ناقص خوراک کے کئی اسکینڈلز سامنے آچکے ہیں اس وجہ سے مقامی کھانوں پر لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ درآمدی خوراک خصوصاً سی فوڈ زیادہ صاف اور محفوظ لگتی ہے”۔
چین کی بڑھتی ہوئی طلب مچھلیاں فروخت کرنے والے ڈیلرز جیسے لین لو وغیرہ کیلئے اچھی خبر ہے، لین لو بیجنگ میں ایک دفتر چلارہی ہیں جہاں ناروے کی فرم سے درآمد کردہ سی فوڈ فروخت کیا جاتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ ناروے سے آنے والی سیلمو ن کی طلب میں ایک سال کے دوران تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
لین لو”مثال کے طور پر رواں برس میں نے زیادہ قیمت پر مصنوعات فروخت کیں، یعنی چین بھر میں ڈیلیوری کی رقم تیس ڈالرز رکھی گئی، یہ بہت زیادہ تھی اور مجھے لگتا تھا کہ زیادہ آمدنی نہیں ہوگی، مگر طلب میں کوئی کمی نہیں آئی، میرے صارفین نہ صرف سیلمون بلکہ جھینگوں، اوئسٹرز، سفید مچھلی اور دیگر وغیرہ میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں”۔
گزشتہ برس چین نے جاپان کی جگہ ایشیاءمیں سب سے زیادہ سی فوڈ استعمال کرنے والے ملک کا خطاب اپنے نام کیا، دوسری جانب عالمی سطح پر مچھلیوں کے شکار کی شرح گر رہی ہے،جبکہ لوگوں میں پسند کی جانے والی مختلف اقسام کی مچھلیوں کی نسل خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ فین زوبنگ اس حوالے سے ایک سرٹیفکیٹ اسکیم چلانے کی تجویز دیتے ہیں، تاکہ لوگ اچھے سپلائرز سے ہی اپنی پسند کی مچھلیاں خرید سکیں۔
فین”میں صنعت کی ترقی کی وجہ سے پریشان نہیں، کیونکہ ہم کافی منظم انداز میں کام کررہے ہیں، ہم میں سے اکثر فشریز سے مچھلیاں ایم ایس سی سرٹیفیکیٹ کے ساتھ لیتے ہیں، جسکا مقصد انتظام کو بہتر بنانا ہے”۔
کنگ کارب ،سنو کارب،براون کارب، جیسے کھانے پہلے انتہائی مہنگے ریسٹورنٹس میں ہی دستیاب ہوتے تھے، مگر اب یہ بیجنگ کے عام ہوٹلوں میں بھی مقبول ہورہے ہیں۔ کرس ہر برٹ اپنے ہوٹل کے مینیو میں توسیع کیلئے تیار ہیں۔
کرس”ہم اپنے مینیو میں مزید لوبسٹر متعارف کرانے کیلئے تیار ہیں، اس وقت ہم الاسکا کی مصنوعات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، میں ہمیشہ سے جنگلی مصنوعات پر توجہ دیتا ہوں، کیونکہ چینی عوام میں یہ بہت مقبول ہیں، جبکہ ان کا معیار بھی اچھا ہوتا ہے”۔