(School in South Korea Teaches Citizens How To Spy on Neighbors) جنوبی کوریا کے جاسوس شہری

جنوبی کوریا میں قانون توڑنے والے خبردار ہوجائیں کیونکہ اب عام شہری بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی وڈیو پولیس کو فروخت کرکے رقم بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔شہریوں کو اس کام کی تربیت کیلئے ایک اسکول بھی کھول دیا گیا ہے، تاہم اس پر کچھ سماجی ماہرین تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔

Ji Soo-hyun اس وقت دو زندگیاں گزار رہی ہیں، اس گھریلو خاتون نے چھ ماہ قبل قانون شکنوں کو رنگے ہاتھوں پکڑانے کی ملازمت کو اختیار کیا۔ 54 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں نجی اسکولوں میں ہونیوالی بے ضابطگیوں کو پکڑنے میں مہارت حاصل ہے۔

 (female) Ji Soo-hyun “میں یہ ظاہر کرتی ہوں کہ میں اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کرانا چاہتی ہوں، میں اسکول انتظامیہ سے اضافی خدمات کا مطالبہ کرتی ہوں، آج کل کے اسکولوں میں کئی قسم کی غیرقانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جیسے بہت دیر سے کھلنا یا اضافی فیس لینا وغیرہ، اسی طرح کی چیزیں میں ریکارڈ کرلیتی ہوں”۔

 

Ji Soo-hyun جب اپنے مشن پر کام کررہی ہوتی ہیں تو وہ ایک چھوٹا سا کیمرہ استعمال کرتی ہیں جسے بیگ میں چھپایا گیا ہوتا ہے۔ وہ ان سینکڑوں شہریوں میں سے ایک ہیں جنھیں قانون توڑنے والے افراد اور تاجروں کی جاسوسی کے لےءخفیہ وڈیو ریکارڈنگ کرنا سیکھایا گیا ہے۔

 

یہ آواز Seoul کے ایک دواخانے میں بنائی گئی وڈیو کی ہے۔ ایک شہری دوا خانے کے کیشئیر کی جانب سے پلاسٹک بیگ کی رقم نہ لینے کے واقعے کو فلمبند کررہا ہے۔ جنوبی کوریا میں یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 

یہ شہری جاسوس Seoul کے paparazzi اسکول کے طالبعلم ہیں۔

 

اس اسکول میں یہ لوگ خفیہ وڈیو بنانے کے فن کے بارے میں سیکھتے ہیں، وہ ایسے چھوٹے کیمرے بھی استعمال کرسکتے ہیں جنھیں زیورات میں چھپایا جاسکے۔ انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ غیر قانونی سرگرمیوں کو فلمبند کرسکے تو اس کی اطلاع پر انتظامیہ کی جانب سے رقم ملے گی۔

 

Moon Seong-ok گزشتہ چودہ برس سے paparazzi اسکول چلارہے ہیں،وہ اپنے طالبعلموں کوخفیہ فوٹیج کیلئے سامان کی خریداری میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

 

 (male) Moon Seong-ok “یہاں آنے والے طالبعلم رقم کمانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ میں پولیس، مقامی سرکاری عہدیداران، طبی اداروں اور تعلیمی انتظامیہ سے رابطے رکھتا ہوں، جو میرے طالبعلموں کو رقم ادا کرتے ہیں”۔

 

ان کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ جاسوس سالانہ بیس سے تیس ہزار ڈالر کما سکتے ہیں، مگر کچھ حلقوں میں اس رجحان پر تشویش بھی ظاہر کی جارہی ہے، انکا کہنا ہے کہ اس چیز نے عام لوگوں کو اپنے پڑوسیوں کا جاسوس بنادیا ہے۔ Koo Ja-kyoung ایک عام شہری ہیں، وہ اس اسکول کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

 

 (male) Koo Ja-kyoung “ایک دن باہر گھومتے ہوئے میں نے ایک بزرگ خاتون کو روتے ہوئے دیکھا۔ میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اسے پلاسٹک بیگ میں کچرا باہر رکھنے پر جرمانہ ادا کرنا پڑا ہے۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ کسی شہری جاسوس نے اس کی تصویر کھینچ لی اور پولیس کے حوالے کردی”۔

 

Koo Ja-kyoung کا کہنا تھا کہ اس خاتون کے انکشاف نے مجھے حیرت زدہ کردیا اور انھوں نے ہیومین رائٹس کمیشن میں شکایت درج کرادی۔کمیشن کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران Koo Ja-kyoung پہلے شخص ہیں جنھوں نے ان خفیہ فوٹوگرافرز کیخلاف شکایت درج کرائی۔ کمیشن نے تاحال اس شکایت پر سماعت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کورین شہریوں کو اس قسم کی جاسوسی کی پروا نہیں، بلکہ وہ اس کے خلاف بولنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ Chun Sang-chin، Seoul کی Sogang University میں سماجیات پڑھاتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو اس طرح کی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔

 

 (male) Chun Sang-chin “یہ معاملہ بہت حساس ہے، لوگ فکر مند ہیں اگر انھوں نے اس بارے میں کچھ بولا اور شکایت کی تو دیگر افراد کے ذہنوں میں یہ بات آئے گی کہ یہ شخص کچھ غلط کام کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس معاملے پر خاموش رہنا پسند کرتے ہیں”۔

 

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان وڈیوز پر معاوضہ ادا کرنا بند کردینا چاہئے، اس سے لوگوں میں خفیہ وڈیوز بنانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔تاہم جاسوس اسکول کے بانی Moon Seong-ok کا کہناہے کہ انہیں اپنے یا اپنے طالبعلموں کے کام پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں۔

 

 (male) Moon Seong-ok “اچھے شہری اسی طرح قوانین کی اطاعت کرتے ہیں جیسے میرے طالبعلم کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ قانون شکنی کرتے ہیں وہ میرے طالبلعموں کے کام سے خود کو مشکل میں محسوس کرتے ہیں”۔

جاسوس شہری Ji Soo-hyun اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

 

 (female) Ji Soo-hyun ” شروع میں لوگوں کے بارے میں رپورٹ کرتے ہوئے میں پشیمانی محسوس کرتی تھی، پھر مجھے احساس ہوا کہ ہمارے ارگرد کس حد تک غیرقانونی سرگرمیاں ہورہی ہیں۔ یہ لوگ غریب زندگی گزارنے کے لئے جدوجہد کرنے میں مصروف نہیں، اس کے بعد مجھے کبھی شکایات کرتے ہوئے ندامت نہیں ہوئی”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *