Female MNA’s خواتین ارکا ن اسمبلی

 

مخصو ص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے والی خواتین ارکان اسمبلی شکوہ کناں ہیں کہ اگر ایک طرف انہیں معاشرتی اور سیاسی سطح پر مردوں کے غلبے کا سامنا کرنا پڑتا ہے،تو دوسری جانب ترقیاتی فنڈز دیتے وقت بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے،اس خبر کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد سیاست میں حصہ لے رہی ہے لیکن ان کی کارکردگی اس طرح سامنے نہیں آتی جس طرح ان کا حق ہے،اس حوالے سے خواتین کی سیاست میں شمولیت کے لئے کام کرنے والے ادارے انوویٹو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی پروگرام ڈائریکٹر فوزیہ شاہین کہتی ہیں،

نصرت سحر عباسی رکن سندھ اسمبلی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ خواتین ارکان اسمبلی بہت محنت کرتی ہیں اور اسمبلی میں بہترین کارکردگی پیش کرتی ہیں،لیکن مرد ارکان اسمبلی کی طرف سے ان کو تحقیر کا نشانہ بناےا جاتا ہے،

ان خواتین ارکان اسمبلیز کا یہ بھی شکوہ ہے کہ جب ایوان میں قائد ایوان یا اسپیکر کا چناﺅ ہو رہا ہو ،ےا پھر کسی بل پر قانون سازی کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہو تو اس وقت وہ بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں لیکن ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اورقانون سازی کے وقت خواتین ارکان کو بالکل پوچھا بھی نہیں جاتا،اس بارے میں نصرت سحر عباسی کہتی ہیں،

اس کے برعکس خیبر پختون خوا اسمبلی کی رکن اسمبلی شازیہ تہماس کہتی ہیں کہ اسمبلیوں میںنہ صرف خواتین کو فیصلہ سازی میں شریک کیا جاتا ہے بلکہ بہت سے اہم عہدوں پر بھی خواتین ارکان اسمبلی براجمان ہیں،

تمام تر مشکلات کے باوجود ان خواتین ارکان اسمبلیز کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی خواتین سیاست اور ملکی امور میں بھر پور نمائندگی حاصل ہوگی اور وہ زندگی کے ہر شعبے میںزیادہ بااختیار ہونگی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *