کشمیری لوک تھیٹر کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر گزشتہ دہائیوں میں تحریک آزادی کے دوران تھیٹر کافی متاثر ہوا ہے، تاہم اب اس کی بحالی نو کیلئے تحریک کا آغازہوا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
ایک مقامی تھیٹر گروپ ایک ڈرامے پھر تھروپر کام کررہا ہے، یہ موجودہ کشمیری معاشرے پر ایک طنزیہ ڈرامہ ہے، ڈائریکٹر رشید معاشرتی تبدیلی کی قیمت کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔
رشید”کوئی بھی ترقی اور آگے بڑھنے کے خیال سے ناخوش نہیں، مگر کیا اس کی قیمت ثقافت، اقدار اور تاریخ ہونی چاہئے؟ یہی سب کچھ ہم آج کے کشمیر میں دیکھ رہے ہیں، جو مکمل طور پر تبدیل ہوگیا ہے، مثال کے طور پر ہم کشمیر اپنی مہمان نوازی کیلئے مشہور ہیں، اور یہی چیز بڑی تعداد میں سیاحوں کو کشمیر کی جانب کھینچتی ہے، مگر اب ہماری مہمان نوازی دھوکہ بازی میں تبدیل ہوکر رہ گئی ہے”۔
یہ ڈرامہ سالانہ کشمیری لوک تھیٹر فیسٹول کا حصہ ہے، اس فیسٹیول میں چالیس گروپس شریک ہیں، تمام ڈرامے کشمیری زبان میں ہیں جس میں مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ایک اور ڈرامے مسافر میں ڈائریکٹر معصوم رمضان ماحولیاتی تشویش پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔
رمضان”گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تبدیلیوں دنیا بھر میں تشویش کا سبب بنی ہوئی ہیں، مگر یہاں اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے حالانکہ گزشتہ برسوں کے دوران ہمیں بہت زیادہ ماحولیاتی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس موضوع پر بات کئے جانیکی ضرورت ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے ورنہ ہمیں تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
رواں برس یہ فیسٹیول چار برس کے وقفے کے بعد منعقد ہوا ہے، مگر کشمیر کلچرل اکیڈمی کے ار وندرر سنگھ امن کا کہنا ہے کہ وہ عوامی ردعمل سے خوش ہیں۔
امن”اکیڈمی اور فنکار مواقعے پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم اپنی سرگرمیوں اور پروگرامز کے ذریعے خطے کے فن اور زبانوں کی ترویج کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اور اس طرح کے فیسٹیولز اس کا حصہ ہیں۔ ہم اس طرح کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ورثے کو اگلی نسل تک منتقل کیا جاسکے”۔
کشمیر میں 1989ءسے جاری تحریک آزادی کے دوران اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ تھیٹر کی روایت بھی دم توڑ رہی ہے۔پلے رائٹر معصوم رمضان کا کہنا ہے کہ حکومتی کلچرل اکیڈمی کو اس حوالے سے کافی کچھ کرنا ہوگا۔
رمضان”کلچرل اکیڈمی نے اس سالانہ فیسٹیول کا انعقاد چار برس کے وقفے کے بعد کیا، تاہم اس کے انتظامات ناقص ہیں، یہاں سہولیات اور بنیادی اسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ریہرسل کیلئے آڈیٹوریم چار برس سے زیرتعمیر ہے، اور ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ کب مکمل ہوگا”۔
طارق احمد نوعمری سے ہی لوک تھیٹر سے وابستہ ہیں، مگر دیگر فنکاروں کی طرح انہیں بھی لگتا کہ کہ کشمیر فنی لحاظ سے آگے بڑھنے کیلئے مناسب مقام نہیں۔
احمد”میرا نہیں خیال کہ صورتحال ہمارے لئے بہتر ہوگی، ہمیں یہاں ایسا احترام حاصل نہیں جیسا بھارت میں فنکاروں کو ملتا ہے، ہمارے کام کو نامناسب سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ساتھ بھکاریوں جیسا سلوک ہوتا ہے”۔
ایک اور اداکار عبدالصمد بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔
عبدالصمد”اسٹیج پر ڈرامہ بہت مہنگا ہے، اس کیلئے درکار کاسٹیومز اور میک اپ کیلئے کافی رقم کی ضرورت ہوتی ہے، اور کلچرل اکیڈمی ہمارے اخراجات کا بوجھ کم ہی اٹھاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری ریاست میں باہر سے جب کوئی فنکار اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے آتا ہے تو اکیڈمی انکے ساتھ خصوصی سلوک کرتی ہے، انہیں فائیو اسٹار رہائشی سہولیات اور اچھا معاوضہ دیا جاتا ہے، اب اگر اکیڈمی مقامی ثقافت کو فروغ دینا چاہتی ہے اور ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے تو آخر ہم دوسروں سے اپنے لئے احترام کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟”
تاہم تمام تر مشکلات کا باوجود کشمیری لوک تھیٹر مقامی افراد کے دلوں میں خصوصی مقام رکھتا ہے، معصوم رمضان کا کہنا ہے کہ کلچرل اکیڈمی میں اصلاحات کئے جانے کی ضرورت ہے۔
رمضان”ابھی یہاں ایسے افراد موجود ہیں جو صرف تنخواہ کیلئے کام کررہے ہیں، وہ فن اور ثقافت کیلئے کچھ نہیں کررہے اور نہ ہی انہیں اس کی پروا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اکیڈمی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دی جائے جو معاشرے میں فن اور ثقافت کی اہمیت سے آگاہ ہو اور اس کیلئے سنجیدگی سے کچھ کرنا چاہتے ہوں”۔