Is Korea’s Indie Epicenter Too Small For Musicians? – کورین موسیقی کا مرکز

جنوبی کوریا میں آج کل پاپ موسیقی کا دور دورہ ہے، ونڈر گرلز، گرلز جنریشن اور سائی جیسے گلوکار دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، مگر انڈی موسیقی کو بھی یہاں کافی فروغ مل رہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

لو ایکس اسٹیریو کی آواز نے ہماری توجہ اپنی طرف مرکوز کرالی، یہ ایک انڈی بینڈ ہے جو سات سال سے ہونگک یو رنیورسٹی کے ارگرد واقع کلبوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کررہا ہے، اینی کواس کی مرکزی گلوکارہ ہیں۔

اینی کو”ہم اس بینڈ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں”۔

سوال”اور آپ یہ کیسے کریں گی؟

اینی “ہم سینتھیزراستعمال کرکے اپنا مقصد حاصل کریں گے، ہم محض ڈانس ٹائپ موسیقی بنایا نہیں چاہتے”۔

سوال” تو یعنی آپ پاپ میوزک کی جانب نہیں جائیں گی؟

اینی”جی ہاں یہ کوئی کے پاپ نہیں(قہقہہ)”

لو ایکس اسٹیریو بس اس علاقے ہونگ ڈے تک ہی محدود ہے، مگر یہاں موسیقی صرف عمارات کے اندر تک ہی محدود نہیں۔

گیتاروں اور ڈرمز کی آواز باہر ایک گلی سے آرہی ہے، ایک چھوٹا پارک نوجوانوں سے بھرا ہوا ہے جہاں وہ لائیو پرفارمنس سے محظوظ ہورہے ہیں۔اگر آپ جنوبی کوریا میں انڈی بینڈ بناتے ہیں تو ہونگڈے وہ مقام ہے جہاں سے آپ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں، مبصرین کے مطابق یہ علاقے ملک کی آزاد موسیقی کیلئے مرکز بن چکا ہے۔برنی چھو ایم میوزک ایجنسی کے عہدیدار ہیں۔

چھو”بلاشبہ ہونگ ڈے کوریا کی نمبر ایک آرٹ یونیورسٹی ہے، جہاں تمام فنکار پڑھتے تو ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ وہ آزادی سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں”۔

وہ مزید بتارہے ہیں۔

چھو”نوے کی دہائی میں ہونگڈے نے ان فنکاروں کو یہاں جگہ دینا شروع کی، کوئی بھی کورین موسیقی جو قابل اعتبار اور عوامی بننا چاہتی ہے اسے ایک خاص شناخت اور ٹیگ کی ضرورت ہوتی ہے، یہی چیز یہ فنکار یہاں لیکر آئے ہیں، جہاں ہونگڈے نے انکا کھلے دل سے استقبال کیا”۔

تھرڈ لائن بٹر فلائی نامی اس گروپ نے پندرہ سال قبل ہونگ ڈے میں اپنے فن کا مظاہرہ شروع کیا، حال ہی میں اس گروپ کو کورین میوزک ایوارڈ میں البم آف دی ائیر کا ایوارڈ دیا گیا۔

گروپ کے گیٹارسٹ سانگ، کی ون اور گلوکارہ نام سینگ،اہ کا کہنا ہے کہ ہونگ ڈے میں ان پندرہ برسوں کے دوران کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔

سانگ”ہم اس انتہائی سنجیدہ اور مخلص موسیقی کے منظر کا حصہ ہیں، یہاں کے بینڈز ہمارے دوست ہیں، یہ موسیقی سے جھوٹ نہیں بولتے،ہم سب موسیقی کے سچے پرستار ہیں، مجھے اس منظر کا حصہ بننے پر فخر ہے، ہماری نظر میں اہم چیز یہ ہے کہ یہ سب ایسا ہی چلتا رہے”۔

گلوکارہ نام نے بھی اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔

نام”میرے خیال میں یہاں کا ماحول ابھی تک پرجوش ہے، میرے خیال میں یہاں کے پرستار اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ کھلے ذہن کے حامل ہوچکے ہیں، لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، آپ ان کے چہرے دیکھ کر اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کتنا لطف اٹھا رہے ہیں”۔

مگر ہونگ ڈے کے موسیقی سینٹرز کے کچھ مالکان کے خیال میں اس کاروبار میں رہنا اب مشکل ہوتا جارہا ہے،ایڈے ہوانگ ایک لائیو میوزک بار ایف۔ایف چلاتے ہیں۔

ایڈی ہوانگ”لوگ زیادہ آرہے ہیں جس سے قیمت بھی بڑھ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد فنکار یہاں کام نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں کا کرایہ بہت مہنگا پڑتا ہے”۔

برنی چھوکا کہنا ہے کہ ہوانگ ڈے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا نتیجہ کرایوں میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے۔

چھو”اب یہاں تمام فرنچائزز موسیقی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیسہ کمانا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کچھ چھوٹے کلبوں کا کاروبار ختم ہوگیا ہے، یہ لوگ خود اپنی کامیابی کا شکار ہوگئے ہیں”۔

تاہم اینی کو کے خیال میں ہونگ ڈے کے باہر نئی جگہیں ڈھونڈنا اتنا برا خیال بھی نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بینڈز کو اپنی سوچ میں وسعت لانی چاہئے۔

اینی “میں اس حوالے سے پیشرفت چاہتی ہوں، یہ سوچنا خوشگوار ہے کہ یہاں کوئی اور جگہ بھی ہے جہاں ہم اپنے فن کا مظاہرہ کرسکتے ہیں”۔

سوال”تو آپ کے خیال میں اگرچہ ہونگڈے کو اینڈی موسیقی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، مگر آپ کے خیال میں یہ محدود ہے؟

اینی”جی ہاں میرا یہی خیال ہے، ہونگ ڈے بہت چھوٹی جگہ ہے، اگرچہ آپ مشہور ہی کیوں نہ ہو، یہاں سے وابستہ توقعات پوری ہونا بہت مشکل ہے، ہمارا مقصد یہاں سے باہر نکلنا ہونا چاہئے”۔