کمبوڈیا میں چند علاقے جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک میں سب سے خوبصورت سمجھے جاتے ہیں، مگر یہاں ماضی کی خوفناک یادیں بھی وابستہ ہیں۔دنیا بھر میں معروف مندر Angkor Wat سے ملحق قصبہ درحقیقت Khmer Rouge کا آخری مضبوط گڑھ بھی تھا۔یہاں دس سے بیس لاکھ عام شہریوں کو قتل کیا گیا تھا۔ اب کمبوڈین حکومت اور مقامی شہری قتل عام کے اس مقام کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
سابق Khmer Rouge جنگجوﺅں کے سو سے زائد بچے سیاحوں کے ایک گروپ کو اپنے آبائی قصبے میں آنے پر خوش آمدید کہہ رہے ہیں، مگر یہ کوئی روایتی خوش آمدید نہیں، یہ بچے سیاحوں کے ہاتھوں میں Khmer Rouge حکومت کے دور میں ہونے والے قتل عام کی رپورٹس پکڑا رہے ہیں۔
Anlong Veng نامی یہ قصبہ Khmer Rouge حکومت کے مرکزی رہنماءPol Pot اور ان کے فوجی کمانڈر Ta Mok کا آبائی قصبہ ہے۔ گائیڈز ہمیں Ta Mok کے گھر لے گئے اور پھر ہمیں ان دونوں رہنماﺅں کی قبریں دکھائیں، آخر میں ہم جیل پہنچے جو فولاد سے تعمیر کی گئی تھی۔ Hean Sokuntheary پہلی دفعہ یہاں آئی ہیں، وہ دارالحکومت Phnom Penh کی رہائشی ہیں۔
(female) Hean “یہ دونوں انسان Khmer Rouge کے قصائی تھے۔آپ نے یہاں کی جیل دیکھی؟ اسے Ta Mok اور اس کے سابق Khmer Rouge جنگجوﺅں نے تعمیر کرایا تھا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر کمبوڈین عوام کی اس نسل سے شرمندگی محسوس ہورہی ہے، جو Khmer Rouge دور میں موجود تھی”۔
Ta Mok کو قصاب بھی کہا جاتا تھا، اس پر لاکھوں کمبوڈین کے قتل عام کا الزام ہے۔اس نے Khmer Rouge جماعت کو 1998ءمیں اس کے بانی Pol Pot کے مرنے کے بعد کچھ عرصے تک چلایا بھی تھا، وہ واحد باغی رہنماءتھا جس نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا کوئی ڈیل کرنے سے انکار کردیا تھا، تاہم اسے کچھ سال پہلے گرفتار کیا گیا اور 2006ءمیں جیل میں اس کا انتقال ہوا۔ Pol Pot اور Ta Mok کی آخری رسومات سی قصبے میں ادا ہوئیں۔ ایک مقامی استاد سیاحوں کے گروپ کو یہاں کی تاریخ بتارہے ہیں۔
ٹیچر(male) “یہ Khmer Rouge کا آخری میدان جنگ تھا، جب یہاں Ta Mok کی حکمرانی تھی تو اس نے اپنی فورس تشکیل دے کر گرفتار ہونے تک شدید جدوجہد کی۔ یہ وہ قصبہ ہے جہاں Ta Mok اور Pol Pot رہتے تھے اور اب اسے تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے”
Khmer Rouge حکمرانوں کی بربریت کے باعث کمبوڈیا میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جنھیں ان کے تاریک ماضی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ دارالحکومت Phnom Penh میں ایسا مقام Tuol Sleng نامی جیل ہے، جہاں پندرہ ہزار افراد کو قتل کیا گیا، دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر Choeung Ek نامی علاقہ ہے، جسے قاتل میدان کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہاں سترہ ہزار افراد قتل ہوئے،Hoeun Srey Leak نامی کمبوڈین سیاح کا کہنا ہے کہ اس نے Pol Pot کے قصبے کا دورہ کرکے اپنے ملک کے ماضی کے بارے میں بہت کچھ جانا ہے۔
(female) Hoeun Srey Leak “لوہے کے کمرے ان قیدیوں کیلئے تیار کئے گئے تھے جو Khmer Rouge کے احکامات ماننے سے انکار کردیتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انہیں مارا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ آپ نے یہاں کی جھیل دیکھی؟ یہ انسانی ساختہ جھیل ہے، جسے Ta Mok کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس جھیل میں مگرمچھ موجود تھے جنھیں خوراک کے طور پر قیدی کھلائے جاتے تھے”۔
51 سالہ Keo Oun، Ta Mok کے گھر کی دیکھ بھال کا کام کرتی ہیں، وہ Ta Mok کی رشتے دار ہیں۔وہ ماضی کی یادوں کی بجائے اپنے آبائی قصبے کو ترقی دینے کی خواہشمند ہیں۔
(female) Keo Oun “سابق Khmer Rouge جنگجو 1990ءکی دہائی کے آخر میں معاشرے کا حصہ بننے لگے تھے، اب یہاں متعدد مقامی اور غیرملکی سیاح آتے ہیں۔ ہم نے یہاں بچوں کیلئے متعدد نئے اسکول تعمیر کئے ہیں اور نئی گلیاں بھی تعمیر ہورہی ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں تاکہ ہمارے بچے ہنسی خوشی زندگی گزار سکے”۔
اس وقت روزانہ اوسطاً دس سیاح اس قصبے کا دورہ کررہے ہیں۔ 59 سالہ Ngam Mak سابق Khmer Rouge جنگجو ہیں۔
(male) Ngam“میرے خیال میں Khmer Rouge نے ہمارے ملک اور قوم کے ساتھ بہت غلط کیا۔ ہمارے سابق رہنماﺅں کو ان کے تاریک ماضی پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے”۔
تاہم یہاں کا ہر رہائشی اس طرح کا خیالات کا حامل نہیں۔ متعدد Khmer Rouge جنگجو تاحال اپنے سابق رہنماءکے حامی یا اس سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ تاہم بڑی اکثریت انصاف کی خواہشمند ہے۔ اقوام متحدہ کے زیرتحت جنگی جرائم کا ٹربیونل 2003ءسے اس حوالے سے مقدمات کی سماعت کررہا ہے۔گزشتہ سال اس نے Khmer Rouge دور میں Tuol Sleng جیل کے جیلر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
Anlong Veng کو سیاحتی مقام بنانے کی کوشش بھی انصاف کے عمل کا حصہ ہے، دو برس قبل حکومت نے ایک منصوبہ تیار کیا تھا کہ Khmer Rouge دور کے چودہ ایسے مقامات کو بحال کیا جائے جہاں لوگوں کا قتل عام ہوا تھا۔ Documentation Center of Cambodia نامی این جی او Anlong Veng کو بحال کرنے میں معاونت کررہی ہے۔ اس منصوبے کے چیف آفیسر Dy Kham Boly کا کہنا ہے کہ اس طرز کی سیاحت درحقیقت مصالحتی عمل کا حصہ ہے۔
Dy Kham Boly (male) Dy Kham Boly، Khmer Rouge کا آخری میدان جنگ تھا، جسکے بعد ملک میں امن اور مصالحتی عمل شروع ہوا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کی آبادی بھی مصالحتی عمل کے بارے میں جانے”۔