یوں تو خواتین سے متعلق ہر مسئلے کو سامنے لایا جاتا ہے اور ہر فورم پر اس بارے میں بات کی جاتی ہے،لیکن ایک ہنر ایسا بھی ہے جس میں بھی خواتین زےادہ تر نظر آتی ہیں لیکن اس حوالے سے خواتین کوکن مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس بارے میں کبھی بات نہیں کی گئی،اور وہ ہنرہے گھر پر کپڑے سینے کا،آج کے فیچر میں ہم خواتین ٹیلرز کے مسائل اور ان کے حل کو زیر بحث لائینگے،امبرین ناز ایک نوجوان خاتون ٹیلر ہیں،ان کا کہنا ہے کہ خاتون ٹیلر کے کام کو اس طرح کی اہمیت نہیں دی جاتی جس طرح ایک مرد ٹیلر کو دی جاتی ہے،
نرگس بھی گھر پر کپڑوں کی سلائی کے ذریعے اپنے گھر والوں کی آمدنی میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں،نرگس کا کہنا ہے کہعید کے مصروف دنو ں میں جب مرد در زی سو ٹ لینے سے انکا ر کر دیتے ہین تو یہ خوا تین ٹیلرز ہی ہو تی ہیں جو ان خوا تین کی مشکل آ سان کر تی ہیں ۔
عید کا موقع ہی ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس میں درزیوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے لیکن یہاں بھی خواتین اپنی محنت کا معاوضہ وصول نہیں کر پاتیںثناءنو ر بھی گھر پر سلا ئی کا اکا م کر تی ہیں ان کے مطا قب گھر کے کا م اور سلا ئی کے کا م کو سا تھ ساتھ کر نا پڑتا ہے ۔جبکہ لو ڈ شیڈنگ سے ان کا کا م کا فی متا ثر ہو تا ہے ۔
خواتین گھر کے خرچ میں توازن برقرار رکھنے کے لئے اکثر گھر پر ہی کسی نہ کسی روزگار کو ذریعہ بنا لیتی ہیں،جس میںسب سے اہم کپڑے سینا ہے،لیکن خواتین کو ان کے اچھے کام کا اگر اچھا معاضہ دیا جائے تو ان کے کام کی قدر بھی ہوگی اور ان کو گھر بیٹھے باعزت روزگار کا ذریعہ بھی میسر آ سکے گا۔