Female Beggars گداگر خواتین

 

پاکستان کے ہر شہر ہر علاقے میں گداگروں ےا بھکاریوں کی ایک بڑی تعداد گلی کوچوں،بازاروں اور سگنلز پر بھیک مانگتے ہوئے نظر آتی ہے،جن میں خواتین بھکاری بھی کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں،کچھ خواتین تو غربت کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتی ہیں،جبکہ زےادہ تر خواتین گداگر پیشہ ور بھکاری ہوتی ہیں،جو کہ خصوصاََ رمضان کے مہینے میں ہر بڑے شہر کا رخ کرتی ہیں،

غیر پیشہ ور بھکاری خاندانوں کی خواتین اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کبھی کبھار بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتی ہیں ،اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی نوجوان بیٹیاں بھی اس پیشہ کو اپنانے پر مجبور ہوتی ہیں،ایک ایسی ہی گداگر لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم کے حصول کی خاطر بھیک مانگنے پر مجبور ہے؛

اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھائے انتہائی عاجزی سے ہاتھ پھیلا تی ہوئیں یہ گداگر خواتین گریہ و زاری کر کے ہر آنے جانے والے سے کچھ نہ کچھ رقم وصول کر ہی لیتی ہیں،شاہانہ سفیر ایک ورکنگ وومن ہیں،ان کا کہنا ہے کہ جب یہ گداگر خواتین اللہ کے نام پر اپنا ہاتھ ان کے آگے پھیلاتی ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو بھیک دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں،

،دوسرے گداگروں کی طرح خواتین گداگروں کے بھی اپنے مسئلے مسائل ہیں،یہ خواتین گداگر پولیس کے ناروا سلوک سے نالاں نظر آتی ہیں،
ٓ
گداگری صرف ایک جرم ہی نہیں بلکہ یہ معاشرے کی اخلاقی پستی کی ایک مثال بھی ہے۔گداگری کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ،جبکہ غربت کے باعث گداگری کے پیشے کو اپنانے والی خواتین کو روزگار مہیاءکیا جائے تاکہ یہ خواتین بھی معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *