انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کے باوجود ملائیشیاءمیں حکمران اتحاد باریسان نیشنل ایک بار پھر کامیاب ہوگیا ہے، تاہم اب کی بار اس کی اکثریت بہت کم ہے۔ تاہم انتخابات کے بعد وزیراعظم نجیب رزاق کی جانب سے مقامی چینی نژاد برادری پر الزامات عائد کئے گئے، جس سے مقامی سطح پر نسلی فسادات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ایک لاکھ سے زائد افراد اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے مطالبے کی حمایت کررہے ہیں، ان کی پارٹی کو عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ باریسان نیشنل اتحاد معمولی اکثریت سے ایک بار پھر اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد وزیراعظم نجیب رزاق نے فوری طور پر اپنے بیان میں کہا کہ حکمران اتحاد کی موجودہ بدترین انتخابی کارکردگی کا سبب چینی نژاد شہریوں کی حمایت نہ ہونا ہے۔ان کی جماعت یو ایم این او کے اخبار میں بھی چینی نژاد ملائیشین افراد پر کافی الزام تراشی سامنے آئی۔
یوایم این او کے متعدد بلاگرز نے تیرہ مئی 1696ءکے نسلی فسادات کو دوہرانے کا مطالبہ کردیا، تاہم سیاسی تجزیہ کار آزمی شروم کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج سے نسلی نہیں بلکہ شہری و دیہی علاقوں کی پیچیدہ تقسیم ظاہر ہوتی ہے۔
آزمی “چینی نژاد افراد پر انتخابی نتائج کا الزام دھرنا حقیقت سے دور ہے، کیونکہ آپ اپوزیشن کو حاصل ہونے والے اکثریتی ووٹ کی بات کررہے ہیں۔ پاکتا ن کیات کو حاصل ہونے والے صرف تیس فیصد ووٹ چینی شہریوں کے تھے، تمام چینیوں نے اپنے ووٹ اپوزیشن کو نہیں دیئے”۔
انکا کہنا ہے کہ نجیب رزاق کو ناقص کارکردگی پر یو ایم این او سے نکالا جانا چاہئے۔
آزمی”نجیب دباﺅ سے باہر آنے کے لئے ایسے بیانات دے رہا ہے، اگر آپ گزشتہ چند برسوں کاجائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہ غیر ملائے ووٹرز کے حصول کی کوشش کرتا رہا ہے، انھوں نے خود کو متعدل مزاد شخص کی حیثیت سے پیش کیا اور اچانک وہ اٹھ کر گزشتہ چند برس کے دوران پیش کی گئی اپنی شخصیت سے بالکل مختلف بیانات دینے لگے ہیں، جس سے انکا
دوغلا پن ثابت ہوتا ہے۔ ان پر اپنی جماعت کی جانب سے ملائے کارڈ کھیلنے کا شدید دباﺅ ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ان کا دور حکومت زیادہ عرصے تک چل سکے گا، کیونکہ ریٹائرمنٹ کے باوجود مہاتیر محمد کو تاحال یو ایم این او میں کافی اثر رسوخ حاصل ہے۔ وہ کھلے عام نجیب رزاق کیخلاف لابنگ کررہے ہیں، اور وہ انہیں ناکام قرار دے رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ان کے حامی اقتدار حاصل کرنے کے منتظر ہیں”۔
اپوزیشن اتحاد نے نجیب رزاق کے بیان کے فوری بعد کیلنا جایا سٹا ڈیئم میں فوری طور پر نسلی پرسیت کے خلاف ایک لاکھ افراد کی ریلی نکالی۔ 37 سالہ رحیمی ابراہیم کوالالمپور کے رہائشی ہیں۔
رحمینی “یہ ملائیشین عوام کا سونامی ہے اور اس میں نسل پرستی کا نام و نشان نہیں۔ یہ ملائیشین سونامی ہے”۔
تمام تر افواہوں کے باوجود چینی نژاد شہریوں نے اس ریلی میں شرکت نہیں کی، 29 سالہ بینی چن،کالانگ کے کاروباری شخص ہیں، وہ حکومت سے اپنی توقعات کا اظہار کررہے ہیں۔
بینی”چینی نسل پرست نہیں، ہم صرف کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، اور حکومت کو اپنے وسائل کااستعمال کرتے ہوئے ملائیشیاءکو ترقی دینی چاہئے”۔
آزمی شیرن کا کہنا ہے کہ نسلی فسادات اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک عام ملائیشین اسے مسترد کرتے رہیں گے۔
آزمی”یو ایم این او کو گروپس جیسے پرکاسا اورپرکیڈا کی حمایت حاصل ہے، یہ انتہا پسند گروپس ہیں جو مسائل پیدا کرنا پسند کرتے ہیں، تاہم مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ایک ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو گرانے کی کوشش کرسکتا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ بدمعاش موجود ہوں گے، لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی حکمت عملی اب کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ عام افراد اسے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں، اور ایسی سرگرمیاں مکمل طور پر ناکام ہوں گی”۔