کمبوڈیا نے ایک متنازعہ ڈیم کی تیاری شروع کردی ہے، اگرچہ دنیا بھر میں بڑے ڈیموں پر اعتراضات سامنے آتے ہیں، تاہم اگر ماہرین کی رائے کو درست مانا جائے تو کمبوڈین ڈیم بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بھینسوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ گرمی سے بچنے کیلئے دریائے سی سین کے ٹھنڈے پانی میں بیٹھا ہوا ہے، قریبی گاﺅںسریکور میں چار سو خاندان مقیم ہیں، دریاءکے جنوبی کنارے پر واقع یہ گاﺅں ایک پرسکون گوشہ سمجھا جاتا ہے، مگر اب ایسا نہیں رہے گا، کیونکہ آئندہ سال یہاں کے رہائشیوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ اس کی وجہ یہاں تعمیر کیا جانے والا ہائیڈرو پاور ڈیم ہے، جو کے آٹھ کلومیٹر لمبا ہوگا۔دریا کے نچلے بہاﺅ پر تعمیر کئے جانے والے اس ڈیم کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھے گی اور یہ پورا گاﺅں غرقاب ہوجائے گا۔ 37 سالہ پاٹونے اپنی پوری زندگی اس گاﺅں میں گزاری ہے۔
دیگر رہائشیوں کی طرح پا ٹو کا تعلق مقامی اقلیتی برادری لاو سے ہے، وہ ایک چھوٹے سے رقبے پر دھان کاشت کرتے ہیں اور وہ دریا پر مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ تمام مقامی افراد اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں اور وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ چار سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا یہ سی سن ٹو نامی ڈیم آٹھ سو ملین ڈالرز کی لاگت سے پانچ سال میں تعمیر ہوگا۔ یہ کمبوڈیا، چین اور ویت نام کی کمپنیوں کا مشترکہ منصوبہ ہے، جبکہ اس سے دس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے دیگر تین دریاﺅں پر بھی ڈیم تعمیر کئے جائیں گے، حالانکہ یہ دریا اس پورے خطے میں مچھلیوں کی افزائش نسل کیلئے بہت ہم سمجھے جاتے ہیں۔ماہر ماحولیات ڈاکٹرایرک باران نے خبردار کیا ہے کہ ان منصوبوں سے بہت زیادہ خطرات پیدا ہوجائیں گے۔
ایرک”ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس ڈیم کی وجہ سے مچھلیوں کی پیداوار کم ہوجائے گی، کیونکہ میکونگ باریسن سے مچھلیوں کی 9.3 فیصد افزائش نسل ہوتی ہے۔ اگر یہ 9.3 فیصد اکیس لاکھ ٹن کے ہوتی ہے تو یہ واقعی بہت بڑا نقصان ہوگا۔ آسان الفاظ میں ہمیں ہر سال دو لاکھ ٹن کے نقصان کا سامنا ہوگا، جس سے آسٹریلیا بھی بری طرح متاثر ہوگا”۔
میکونگ باسن کے نشیبی حصے سے چار ممالک کے 65 ملین افراد مستفید ہوتے ہیں، ان میں بیشتر افراد کا پورا انحصار ہی تازہ پانی کی مچھلی کے شکار پر ہے، اور انہیں ڈر ہے کہ ڈیموں کے منصوبے انہیں بھوکا مار دیں گے۔ کمبوڈیا میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کھانے میں دریائی مچھلی کا استعمال کرتے ہیں۔
باران”کمبوڈین عوام اس حیاتیاتی پروٹین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس ملک میں 81 فیصد تک حیاتیاتی پروٹین استعمال کی جاتی ہے”۔
کمبوڈیا اس وقت اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ویت نام اور تھائی لینڈ سے اسے درآمد کرتا ہے، تاہم بڑے ڈیموں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ چھوٹے منصوبوں کے ذریعے ضروریات کے مطابق بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
اب واپس سریکور گاﺅں چلتے ہیں، جہاںپا ٹو اپنی فکرمندی کا اظہار کررہے ہیں، وہ گاﺅں کے قبرستان کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں، جو یہاں سے ایک میل دور واقع ہے۔ مقامی افراد یہاں باقاعدہ سے اپنے پیاروں کی قبروں پر دعا کرنے کیلئے آتے ہیں۔
پاٹوکا کہنا ہے کہ گاﺅں کے رہائشی اپنے پیاروں کی باقیات کو اپنے ساتھ لیکر جانے کی اجازت چاہتے ہیں، مگر لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکے گا۔ یہ ان کی نظر میں بہت اہم ہے کیونکہ انکا ماننا ہے کہ جب وہ مرجائیں گے تو اس طرح وہ اپنے آباءو اجداد سے مل سکیں گے۔