اب کے ہم بچھڑے توشاید کبھی خوابوں میں ملیں جیسے لاتعداد گانوں کو تخلیق کرنے والے موسیقار اے حمید کی پیدائش 1934ءمیں امرتسر میں ہوئی۔ ان کا اصل نام شیخ عبدالحکیم تھا اور ان کے والد شیخ محمد منیر نے پاکستان کے قیام سے پہلے دو فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔
اے حمید بھی بچپن سے موسیقی کے شائق تھے اور پاکستان آنے کے بعد 1957ءمیں انھوں نے فلم انجام کی موسیقی ترتیب دے کر اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔تاہم انہیں شہرت 1960ءمیں ریلیز ہونے والی فلم رات کے راہی سے ملی، خصوصاً ایک گیت تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے، نے بہت مقبولیت حاصل کی۔
اسی سال ان کی فلم سہیلی ریلیز ہوئی جس کے گیتوں نے اے حمید کو بام عروج پر پہنچا دیا، ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے یا کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا سمیت اس فلم کے ہر گیت نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔
اس کے بعد اے حمید نے یکے بعد دیگرے مقبول گیتوں کی موسیقی ترتیب دے کر لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیا، ان کے متعدد گیت جیسے تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاںکبھی، کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا، یا یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہ زادیاں وغیرہ نے بہت مقبولیت حاصل کی۔
اے حمید نے اپنے کیرئیر میں 66 اردو و پنجابی فلموں کی موسیقی ترتیب دی، جبکہ انھوں نے فلم دوستی کے گیت چٹھی ذرا سیاں جی ۱کے نام لکھ دے پر نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔
اس منفرد موسیقار کا انتقال 20 مئی 1991ءکو راولپنڈی میں ہوا تاہم ان کے گیت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔