(“Pushcart classrooms” educate Filipino street kids) فلپائنی آوارہ بچوں کی تعلیم کیلئے منفرد پروگرام


فلپائنی تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز ہوگیا ہے، تاہم اب بھی کچھ طالبعلم دارالحکومت منیلا میں ایک منفرد تعلیمی نظام کے تحت چلنے والے اسٹریٹ اسکولوں میں تعطیلات کی جگہ تدریسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شدید گرم موسم کے باوجود درجنوں بچے ایک گلی کے کونے میں بیٹھے لکھنے پڑھنے اور حساب کی مشقیں کرنے میں مصروف ہیں، یہ بچے پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، جنھیں منیلا کے شمالی قصبے Novaliches کے بلدیاتی دفتر سے ادھار لیا گیا ہے۔ اس گلی کے داخلی راستے پر ایک سبز رنگ کی الماری جس کے نیچے پہیہے لگے ہوئے ہیں، موجود ہے، جسے pushcart کا نام دیا گیا ہے ۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ان طالبعلموں کو ضرورت ہے۔ Yolanda Peñalosa ایک اسکول کی استاد ہیں، وہ رضاکارانہ طور پر ان گلی کوچوں میں قائم کئے جانے والے کلاس رومز میں بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔

 (female) Yolanda Peñalosa “یہ تمام گلی کوچوں میں گھومنے والے وہ آوارہ بچے ہیں، جو اس سے پہلے تعلیم سے محروم تھے”۔

Yolanda Peñalosa اور ان جیسے دیگر رضا کار محکمہ تعلیم کے ایک منفرد پروگرام Pushcart Classroom کے تحت ان بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ یہ رضا کار ہفتے میں دو گھنٹے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔Yolanda Peñalosa ان بچوں کے حوالے سے بتارہی ہیں۔

 (female) Yolanda Peñalosa “یہ ایسے بچے ہیں جو مختلف وجوہات کی بناءپر اسکول جانے سے محروم رہے، جیسے کچھ کے والد بے روزگار ہیں، یا ان کے والدین کی علیحدگی ہوچکی ہے، اسی طرح کے مسائل کے باعث یہ اسکول جانے سے محروم رہے”۔

ان بچوں کے والدین کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بار اٹھاسکیں،یہاں تک کہ اگر سرکاری اسکولوں میں فیس ختم بھی کردی جائے تو بھی یونیفارمز اور کتابوں کا خرچہ اٹھانا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ کچھ والدین اپنے بچوں کو کام پر لگادیتے ہیں، جبکہ دیگر اپنے بچوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ منشیات کا خرچہ پورا کرسکیں۔سات سالہ Marvin چھوٹا تھا جب اس کا گھر سمندری طوفان میں بہہ گیا، جس کے بعد اسے اسکول نہیں بھیجا گیا، اب وہ اپنا بیشتر وقت کھیلنے اور ماں کے ساتھ گھریلو کام کرنے کے ساتھ ساتھ pushcart کلاس رومز میں پڑھتے ہوئے گزارتا ہے، اس کے والد کوئی کام نہیں کرتے۔

 (male) MARVIN “میرے والد کی زندگی جوئے بازی اور شراب نوشی میں گزر رہی ہے، مجھے اس کلاس روم میں تصاویر بنانا پسند ہے”۔

اس کلاس روم میں آنے والے بچوں کی تعلیمی استعداد کو جانچا جاتا ہے۔ Efren Peñaflorida نے ان منفرد کلاس رومز کا تصور اپنی این جی او Dynamic Teen Company کی جانب سے پیش کیا تھا۔ وہ منیلا کے قریب اپنے آبائی قصبے Cavite کے تعلیم سے محروم بچوں تک یہ سہولت پہنچانا چاہتے ہیں۔

 (male) Efren Peñaflorida “ہم ان بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے قابل ہیں، ہم ان بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تاکہ ان میں پڑھنے کا شوق پیدا ہو، یہ ان کی زندگیوں کیلئے فائدہ مند ہے”۔

Efren Peñaflorida کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام اچھا چل رہا تھا، یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم اس طرف متوجہ ہوا۔

 (male) Efren Peñaflorida “تعلیم نے اسے آوارہ بچوں کے لئے مفید طریقہ کار سمجھا، جس کے ذریعے ان بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس تصور کو اپنا لیا، اس پروگرام میں تمام تر توجہ بچوں کی ضروریات پر دی جاتی ہے”۔

سیکرٹری تعلیم Armin Luistro اس پروگرام کو آئندہ برس تک منیلا کے قریبی دس قصبوں اور بعد ازاں پورے ملک میں توسیع دینا چاہتے ہیں۔

 (male) Armin Luistro “ان کلاس رومز میں یہ بچے آزادی سے پڑھتے ہیں، ہم اس پروگرام کو ملک بھر میں توسیع دینا چاہتے ہیں”۔

Novaliches میں واقع pushcart classroom میں زیرتعلیم اٹھارہ سالہ Marietoni Candelaria کے خواب بہت بڑے ہیں، وہ کالج اسکالر شپ کا حصول چاہتی ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کی کفالت کرنا چاہتی ہیں۔

 (female) Marietoni Candelaria “اسکالر شپ کا حصول میرا بہت بڑا خواب ہے”۔

اس پروگرام نے Raffy Alcantara کی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، وہ بچپن سے گلی کوچوں میں کھانے پینے کی اشیاءفروخت کر نے کا کام کررہے تھے،تاہم اس پروگرام کی بدولت وہ اسکالر شپ حاصل کرکے مارکیٹنگ کے شعبے میں ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔

” Dynamic Teen Company (male) Raffy Alcantara کی مدد کے بغیر میں اتنی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرپاتا۔ اس این جی او کو اپنا کام جاری رکھنا چاہئے، تاکہ غریب بچوں کو اپنی زندگیاں سنوارنے کا موقع مل سکے۔ اس طرح وہ مستقبل میں اپنے جیسے دیگر بچوں کی بھی مدد کرسکیں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *