صوبہ خیبر پختونخوا میں آبادی کا 53فیصد حصہ لکھنے اور پڑھنے سے محروم ہے تقریباً70فیصد خواتین ناخواندہ ہیں،جبکہ فاٹا میں یہ تعداد 5فیصد سے بھی کم ہے۔زیادہ تر علاقوں میں لڑکیوں کیلئے اسکول نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو اسٹاف کی کمی اور تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بیشتر والدین بچیوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے چار سدہ میں سرگرم عمل ایک سوشل ورکر اور پی پی پی شیر پاﺅ کی صوبائی صدر زاخدہ خمیج نے ہمیں بتایا کہ ان علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں نے کل کو گھر سنبھالنا ہے سو انھیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے:
چار سدہ سمیت خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں طالبات کیلئے وظائف، مفت درسی کتب اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں چار سدہ سے تعلق رکھنے والی زاخدہ خمیج کا کہنا ہے کہ درسی کتب اور وظائف کی فراہمی کا سلسلہ دیگر علاقوں تک بھی پھیلنا چاہئیے دوسری جانب ان علاوں میں قائم پرائیویٹ اسکولوں کی فیس اس قدر زیادہ ہے کہ مڈل کلاس گھرانے اپنی بچیوں کو ان اسکولوں میں پڑھانا افورڈ نہیں کر سکتے:
چند قبائلی علاقوں میں گرلز اسکولوں کو بند کروانے اور اُن پر وقتاً فوقتاً بم سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ایسے میں زیادہ تر والدین خوف زدہ ہو کر بچیوں کو اسکول سے اُٹھا لیتے ہیںاس حوالے سے خیبر پختونخوا کی مقامی سوشل ورکر کا کہنا ہے کہ کئی طالبات کواسکول جاتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جسکی وجہ سے اسکول جانے والی طالبات میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی مقامی ٹیچر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی رسک کی وجہ سے ٹیچرز اور طالبات اسکولوںکا رخ کرنے سے گھبراتی ہیں:
ٓچار سدہ کی سوشل ورکر زاخدہ خمیج کا والدین کیلئے پیغام ہے کہ آج کی بچیاں کل کی مائیں ہیں اس لئے اپنی بیٹیوں کو بلاتفریق زیور تعلیم سے آراستہ کریں: