Prisoners Caught Up in India-Pakistan Conflict – پاک بھارت کشیدگی

ایک پاکستانی قیدی کو حال ہی میں بھاری جیل میں ایک سابق فوجی نے حملہ کرکے ہلاک کردیا، اس سے قبل پاکستانی جیل میں ایک بھارتی دہشتگرد سربجیت سنگھ بھی ایک جھگڑے میں مارا گیا تھا۔ان واقعات کے بعد پاک بھارت جیلوں میں موجود دونوں ممالک کے قیدیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں آگئی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سرکاری تدفین کے موقع پر پنجاب پولیس کے اہلکار سربجیت سنگھ کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں، پاکستانی جیل میں حملے کے بعد ہلاکت کے بعد بھارت نے سربجیت کو شہید کا خطاب دیا۔

ہزاروں افراد نے سربجیت کی آخری رسومات میں شرکت کی، اس موقع پر اس کی بہن دلبیر کور نے آخری رسومات ادا کیں۔

کور”ہمیں اس کا مناسب جواب دینا ہوگا، ہمیں پاکستان سے تجارت اور کھیلوں سمیت تمام تر تعلقات ختم کردینے چاہئے، اور ہمیں یہاں پیسے کمانے اور اچھی زندگی گزارنے کیلئے موجود تمام پاکستانی فنکاروں کو واپس بھیج دینا چاہئے۔ہمیں پاکستان کے ساتھ ٹرین اور بس سروس کو روک دینا چاہئے، یہ بے کار اور مضحکہ خیز ہے”۔

پچاس سالہ سربجیت 1990ءمیں پاکستان میں کئی بم دھماکوں کے بعد پکڑا گیا تھا،اس کا خاندان تو اسے معصوم قرار دیتا رہا، مگر عدالتوں میں اس کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنادی گئی، تاہم صدر آصف علی زرداری نے اس پر عملدرآمد رکوا دیا۔ متعدد پاکستانی اور بھارتی انسانی حقوق کے رضاکار سربجیت کی رہائی کیلئے مہم چلاتے رہے، گزشتہ برس پاکستانی حکومت اس کی رہائی کیلئے تیار بھی ہوگئی مگر اس کا اعلان ہونے سے چند گھنٹے قبل حکومت نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا۔ثنا دا، کامن ویلتھ ہیومن رائٹس اینیشیٹو کی عہدیدار ہیں۔

داس”اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جیسا سربجیت کے ساتھ ہوا، ایسا گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارتی جیلوں میں بھی ہوتا رہا ہے، ہم ان دو پھانسیوں کی بات کررہے ہیں جس نے انتشار پیدا کیا، ہمیں سربجیت کے واقعے میں اس عنصر کو فراموش نہیں کرنا چاہئے”۔

مبینہ پاکستانی اجمل قصاب اور کشمیری رہنماءافضل گرو کو گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت میں پھانسی دی گئی۔

داس”اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس بحران میڈیا نے پیدا کیا، جبکہ پاکستان میں سول سوسائٹی نے بھی اس پر کافی شور مچایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ جیلوں میں بھی اس کا ردعمل سامنے آیا”۔

سربجیت کے واقعے کے بعد ایک سابق بھارتی فوجی نے اپنے ملک کی جیل میں قید پاکستانی قیدی پر حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا، جوہسپتال میں چل بسا، پاکستان میں اسے سربجیت واقعے کا ردعمل ہی سمجھا جارہا ہے۔ منظور میمن بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر کے ترجمان ہیں۔

میمن”ہم سختی سے اس حملے کی مذمت کرتے ہیں، یہ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پاکستانی قیدیوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے، جیسا آپ جانتے ہیں کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستی حکومتوں کو پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے سیکیورٹی الرٹ بھیجا تھا، مگر پھر بھی یہ حملہ ہوگیا اور وہ بھی جیل انتظامیہ کی موجودگی میں”۔

ان واقعات نے بھارتی اور پاکستانی قیدیوں کے خاندانوں کو سکتے میں مبتلا کردیا ہے، اور اب وہ اپنے پیاروں کے تحفظ کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ منور بی بی اختراسلام کی والدہ ہیں، وہ اسی جیل میں قید ہے جہاں ثناءاللہ پر حملہ ہوا۔
منور بی بی”ہمارے دل کا چین اس حملے کی خبر سننے کے بعد سے ختم ہوچکا ہے۔ ہمیں اس طرح کے مزید حملوں کا بھی خطرہ ہے، ہم اختر کے تحفظ کیلئے دن اور رات دعائیں کررہے ہیں”۔

جسبیر کور، پاکستان میں سزائے موت کے منتظر کرپل سنگگ کی بہن ہیں۔

جسبیر”ہم بہت خوفزدہ ہیں، جیسا سربجیت کے ساتھ ہوچکا ہے ویسا کرپل کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم حکومت سے پاکستان میں موجود بھارتی قیدیوں کا تحفظ یقینی بنانے کی درخواست کرتے ہیں”۔

اس وقت پاکستان میں چھ سو کے قریب بھارتی قیدی موجود ہیں، جبکہ بھارت میں بھی پاکستانیوں کی تعداد لگ بھگ اتنی ہی ہے، ان میں کئی دہائیوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔وہ افراد جنھیں جاسوسی کے الزام میں سزا ہوتی ہے انہیں دونوں ممالک کی حکومتیں اپنا شہری ماننے سے ہی انکار کردیتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ مصائب کا سامنا ہوتا ہے۔سنڈیپ ڈکشٹ، روزنامہ دی ہندو کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔

سنڈیپ ڈکشٹ”جاسوسی ریاست کیلئے کیا جانے والا کام ہے، جب آپ کوئی ملک، ریاست یا مملکت چلاتے ہیں تو آپ کو اپنے ارگرد سے باخبر رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، آپ کو یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ نہ صرف آپ کے دشمن کیا کررہے ہیں بلکہ آپ کے دوستوں کی کیا مصروفیات ہیں۔ تو یہ ایک داخلی معاملہ ہے جس سے ہر ایک آگاہ ہوتا ہے”۔

تاہم پاک بھارت قیدیوں کی بڑی اکثریت جاسوس نہیں بلکہ عام شہری ہیں، جن میں بڑی اکثریت ماہی گیروں اور کاشتکاروں کی ہے، جو غلطی سے سرحد عبور کرجاتے ہیں۔ رتا منچندا ساﺅتھ ایشین فورم فار ہیومین رائٹس کی ریسرچ ڈائریکٹر ہیں۔

رتایہ استحصال زدہ غریب افراد ہیں اور انہیں مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ان کے خلاف جاسوسی کا کوئی مقدمہ نہیں، چونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہب کرتے ہیں تو یہ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ ماہی گیروں کو اس لئے پکڑا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ خیرسگالی کے جذبے کا اظہار کرنے کیلئے انہیں رہا کیا جائے”۔