Afghan Government Bans Foreign TV imports – افغان میں غیرملکی ڈراموں پر پابندی

طالبان عہد میں افغانستان میں ٹیلیویژن پر پابندی عائد تھی، مگر اب اس ملک میں ٹی وی چینیلز کی صنعت پھل پھول رہی ہے اور پچاس سے زائد چینیلز کام کررہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینیلز سے بھارت، ترکی اور کوریا وغیرہ کے ڈرامے، گانے اور رقص نشر کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں صدر حامد کرزئی نے غیر اسلامی فلموں اور ٹی وی ڈراموں پر پابندی لگانے کی ہدایت کی، تاہم اس پر کافی تنقید سامنے آرہی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

زمان اور عفت افغانستان کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے، یہ ایک محبت کی کہانی ہے جو ترکی میں تیار ہوئی ہے۔ یہ ڈرامہ افغانستان بھر میں پچیس سے زائد چینیلز پر روزانہ رات کو دکھایا جاتا ہے۔

بائیس سالہ یونیورسٹی کے طالبعلم واحد تابش اس ڈرامے کو بہت پسند کرتے ہیں۔

واحد”یہ میرے لئے تفریح کا ذریعہ ہے، جب میں سوپ اوپراز دیکھتا ہوں تو اس سے مجھے زندگی کے بارے میں جاننے میں بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ کچھ ڈراموں میں فحش یا شراب نوشی کے مناظر ہوتے ہیں، مگر باقی ڈرامے بہت اچھے ہیں”۔

تاہم علمائے کرام اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔انھوں نے ٹی وی چینیلز کیخلاف آپریشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کچھ پروگرام غیراخلاقی اور غیر اسلامی ہیں۔اس پر صدر حامد کرزئی نے رواں ماہ سے ٹی وی اسٹیشنز کو فحش اور غیر اسلامی شوز روکنے کا حکم دیا ہے۔ جلال نورانی وزارت ثقافت و اطلاعات کے مشیر ہیں۔

جلال”جی ہاں ہمیں صدر کی طرف سے یہ ہدایت ملی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹی وی چینیلز کوسوپ اوپراز یا میوزک پروگرام نشر کرنے سے روک دیں۔وہ یہ پروگرام نشر کرسکیں گے، مگر ایسے ڈرامے نہیں نشر ہوں گے جو مذہبی عقائد، روایات یا سماجی اقدار کے خلاف ہو”۔

طالبان دور میں ٹیلیویژن چینیلز پر مکمل پابندی تھی، تاہم ان کے انخلاءکے بعد اب افغانستان میں میڈیا تیزی سے ترقی کررہا ہے، افغانستان میں اب پچاس سے زائد نجی ٹی وی چینیلز، ڈیڑھ سو ریڈیو اسٹیشنز اور ایک ہزار کے قریب اخبارات کام کررہے ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی کا حالیہ فیصلہ ملک میں میڈیا کی آزادی کو متاثر کرے گا۔عبد الحامد موباریز افغان نیشنل جرنلسٹ یونین کے سربراہ ہیں۔

حامدافغان آئین میں اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، مگر صدر کا حالیہ حکم نامہ آئین کی خلاف ورزی پر مبنی ہے، اس طرح کی سنسر شپ کو ہم کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔ ہم اس سنسرشپ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ اس سے ماضی کے سیاہ دور کا احیاءہوگا۔ ہم اس فیصلے کیخلاف کھڑے ہوں گے، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ہمارے ملک میڈیا پر پابندیوں کی ابتدا ہے”۔

یہ پہلی بار نہیں کہ افغان حکومت نے مقبول ٹی ڈراموں پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہو، 2009ءمیں بھی حکومت نے ٹی وی چینیلز کو بھارتی ڈرامے نشر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس حکم پر عمل نہیں ہوا تھا۔

کچھ افغان ڈائریکٹرز اور اداکاروں کا کہنا ہے کہ انکا کام اس فیصلے سے متاثر ہوگا۔اداکارہ صدیقہ تمکین کو توقع ہے کہ اس پابندی سے مقامی ڈرامہ صنعت متاثر نہیں ہوگی۔

صدیقہ”سوپ اوپراز معاشرے کیلئے ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمارے معاشرے کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ اداکاروں کو بھی کام کی ضرورت ہوتی ہے، میں یہ کام جاری رکھوں گی کیونکہ یہ میرا اپنے چاہنے والوں سے وعدہ ہے، طالبان دور میں ٹی وی پر پابندی تھی اور ہم پر حملے ہوتے تھے، مگر پھر بھی ہم اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے”۔

متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ کرزئی حکومت افغانستان کو ایک بار پھر طالبان دور میں لے جانے کی کوشش کررہی ہے۔تاہم حکومتی مشیر جلال نورانی کا کہنا ہے کہ ہم تو صرف مقامی روایات کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جلال”یہ بالکل واضح ہے کہ ہر ملک میں میڈیا نشریات کے حوالے سے اپنے قوانین ہوتے ہیں، ہم نے بھارت، ترکی یا دیگر مغربی ممالک کے ڈراموں پر پابندیاں لگائی ہیں، ان شوز کے کئی مناظر ہمارے مذہب اور روایات کے خلاف ہوتے ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ اس فیصلے کا معاشرے پر مثبت اثر پڑے گا۔ ہم ہر اس ٹی وی چینیل کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جو صدارتی حکم نامے پر عملدرآمد نہیں کرے گا”۔

ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹرایلکا سادات انتہائی مقبول سیریز باہست خاموش کی ہدایت کار ہیں۔ اس میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کو سامنے لایا گیا ہے، انکا ماننا ہے کہ یہ سوپ اوپراز ناظرین کو معاشرے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ایلکا”ستر فیصد افغان شہری ان پڑھ ہیں، یہ لوگ ڈراموں اور فلموں کے ذریعے اپنے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں، چاہے یہ ڈرامے افغانی ہو، بھارت، امریکہ یا کسی اور ملک کے، طالبان دور میں لوگوں کو فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، تاہم یہ مارکیٹ میں مل جاتے تھے۔ اب حکومت ٹی وی کو یہ نشر کرنے سے روکنا چاہتی ہے، تاہم وہ انٹرنیٹ یا بلیک مارکیٹ میں اس کی موجودگی کو نہیں روک سکتی”۔