Prabowo Subianto, Indonesia’s Presidential Hopeful: “Accusations are part of the politicalb – انڈونیشین صدارتی امیدوار

پرابوو سبیانتوانڈونیشیاءکے متنازعہ ترین شخص ہیں، وہ سابق آمر جنرل سہارتو کے داماد ہیں اور ان پر اغوا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بغاوت کی کوشش کے الزامات بھی ہیں۔اب پرابوو سبیانتو آئندہ سال شیڈول انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سوال” انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اگر آپ صدر منتخب ہوگئے تو مستقبل میں آپ کی جانب سے مزید انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں گے، آپ ان الزامات پر کیا ردعمل پیش کریں گے؟

پرابوو”مجھے معلوم تھا کہ یہ سوال ضرور سامنے آئے گا(ہنسی)، میں نے ایسے سوالات کا متعدد بار جواب دیا ہے، بلکہ میں تو اس کیلئے آپ کو یوٹیوب سے رجوع کرنے کا مشورہ دوں گا، تاہم میں اس سوال کا جواب ضرور دوں گا، ہم جمہوری نظام میں منتخب ہوتے ہیں، لہذا اس بات کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے، کیا آپ ہمیں آکر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ڈھائی سو ملین افراد بے وقوف ہیں۔ میں نے پندرہ سال کے دوران کئی بار انڈونیشین عوام کے سامنے تقاریر کیں، یہ تیسری بار ہے کہ میں عام انتخابات میں حصہ لے رہا ہے، عوام کو فیصلہ کرنے دیں، وہ ہی بہتر رہنماﺅں کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ الزامات سیاسی گیم کا حصہ ہیں، یہی وجہ ہے انتخابات سے قبل مجھ پر اس طرح کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں”۔

جب 1998ءمیں عوامی احتجاج اور فسادات کے بعد سہارتو کا 32 سالہ دور حکومت اختتام کے قریب پہنچا تو پرابوو کے زیرکمان فوج کے خصوصی یونٹ پر جمہوریت پسندوں کے اغوا اور چینی خواتین سے عصمت دری کے الزامات سامنے آئے، اور ان الزامات پر ہی انہیں فوج سے نکال دیا گیا، جس کے بعد انھوں نے اردن میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔ ان پر مشرقی تمور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھی الزامات ہیں اور اسی بارے امریکہ میں انکا داخلہ ممنوع ہے۔ تاہم پرابووپر کبھی کوئی مقدمہ نہیں چلا، انکا دعویٰ ہے کہ انھوں نے کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نہیں کیں اور سیاسی مخالفین ان کے بارے میں افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں۔

پرابوو”انسانی حقوق ہمیشہ بہت اہم ہوتے ہیں، میں ان حقوق کیلئے بہت پرعزم ہوں، کچھ مخصوص گروپ مجھے شیطان بنا کر پیش کرتے ہیں، تاہم میں پرامن ردعمل کا اظہار کرتا ہوں، مجھے اپنی کوششوں پر فخر ہے، میں محب وطن ہوں اور میں ہمیشہ انڈونیشیاءکے مفاد کا تحفط کرتا ہوں، میں نے اپنی پوری زندگی اپنے ملک کی آزادی اور وقار بڑھانے کیلئے گزاری ہے، مجھے یقین ہے کہ اب کی بار انڈونیشین عوام صھیح فیصلہ کریں گے”۔

سوال”منیر کیس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

پرابوو”منیر کیس کے بارے میں؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ مجھے منیر کیس میں ملوث قرار دے رہے ہیں؟”

منیر سید تھالب انڈونیشیاءکے معروف انسانی حقوق کے کارکن تھے، انہیں 2004ءمیں جکارتہ سے ایمسٹرڈیم جانے والی پرواز میں زہر دیا گیا تھا، منیر پرابوو پر شدید تنقید کرتے تھے، اب تک منیر قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ گرفتار نہیں ہوسکا، صدر سوسیلو بمبانگ یُودھیُونونے اس مقدمے کو پوری قوم کیلئے ایک ٹیسٹ قرار دیا ہے۔ہم نے پرابوو سے پوچھا کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو اس کیس کو کس طرح حل کریں گے۔

پرابوو”ہمارے پاس عدالتیں موجود ہیں، ہمارے پاس آئینی ادارے موجود ہیں، ہمیں ان میں بہتری لانا ہوگی، ہمارے پاس این جی اوز ہیں، لہذا قانونی عمل کو آگے بڑھنا دیا جائے”۔