Man Loses 16 Family Members in Peshawar Market Blast – پشاور دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سولہ افراد ہلاک

پاکستانی شہر پشاور میں ایک ہفتے کے دوران تین بم دھماکوں سے ڈیڑھ سو کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے، 29 ستمبر کو قصہ خوانی بازار میں ہونے والا دھماکہ اس حوالے سے بھی المناک ثابت ہوا کہ اس میں ایک ہی خاندان کے سولہ افراد جاں بحق ہوئے، اسی عمزدہ خاندان کے دیگر رشتے داروں کے تاثرات جانتے ہیں آج کی رپورٹ

شبقدر کے اس قبرستان میں سینکڑوں افراد غم منارہے ہیں، یہ لوگ اپنے بچھڑ جانے والے پیاروں کی روحوں کو ایصال ثواب پہنچانے کیلئے فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ 65 سالہ سرتاج خان کے سولہ پیارے پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار میں ہونیوالے دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

سرتاج”میرے تمام پیارے اس دھماکے میں گم ہوگئے، میری بیوی، تین بیٹیاں، میرا بیٹا، دو پوتے، بہو اور بھتیجے، میں کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ میں ایک غریب انسان ہوں”۔

ان کا خاندان ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے وین میں پشاور جارہا تھا، ان کی بیوی اس وقت وین کے اندر تھی جب قصہ خوانی بازار میں دھماکہ ہوا۔

سرتاج”میری بیوی شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے پشاور جانا چاہتی تھی، سب لوگ اس کے ساتھ جانا چاہتے تھے اور میں انہیں روک بھی نہیں سکا”۔

دھماکے کے بعد سرتاج فوری طور پر پشاور پہنچے۔

سرتاج”جب میں نے ہسپتال میں پہنچ کر لاشیں دیکھیں، جن میں سے ایک میرے بیٹے کی تھی اور ایک میرے بھتیجے کی، تو میں حواس کھو بیٹھا، میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے، ظالموں نے مجھے مکمل طور پر تباہ کردیا، میرا سوال یہ ہے کہ آخر سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد شہر کے اندر پہنچا کیسے؟”

پولیس کا کہنا ہے کہ قصہ خوانی بازار میں ایک گاڑی میں دو سو کلو بارود بھر کر دھماکہ کیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہو ئی، ایک مسجد اور درجنوں دکانیں و گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

دل راج خان کی شادی اب ماتم میں بدل گئی ہے، 23 سالہ دل راج اس وقت ایک دکان پر کام کررہے تھے جب دھماکہ ہوا۔

دل راج”میرے خاندان کے پشاور روانہ ہونے سے قبل میں نے اپنی ماں سے فون پر بات کی تھی، میں نے ان سے کہا تھا کہ بچوں کو ساتھ لیکر نہ جائیں، جب میں نے دھماکے کی آواز سنی، تو میں فوری طور پر ہسپتال پہنچا، جہاں مجھے دھکے دیکر نکال دیا گیا اور مجھے لاشوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی”۔

افضل خان سرتاج خان کے کزن ہیں، ان کی بیوی اور پانچ سالہ بیٹا محمد عزیز اس دھماکے کی نذر ہوئے۔

افضل خان”میرا دوسرا بیٹا 18 ماہ کا احتشام ابھی بھی ہسپتال میں ہے، میں نے سمجھ سکتا کہ میرے بیٹے اور بیوی کو کیوں قتل کیا گیا، ان معصوم افراد کو مار کر یہ ظالم خود کو مسلمان کیسے کہہ سکتے ہیں؟”

اس خاندان کے پانچ اراکین ابھی بھی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔