India’s Former Spies Demand Recognition – بھارتی جاسوس

سینکڑوں پاکستانی اور بھارتی شہری ایک دوسرے کے ممالک کی جیلوں میں برسوں سے قید ہیں، جن میں سے اکثر پر جاسوسی کا الزام ہے، تاہم جب کوئی جاسوس پکڑا جاتا ہے تو اس کا ملک اسے تسلیم کرنے سے انکار کرکے اس خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اڑتالیس سالہ وشنو دیوی نے اپنے شوہر اوم پرکاش کو سولہ سال سے نہیں دیکھا، انکے شوہر پاکستانی جیل میں قید ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ کب ان کی رہائی عمل میں آئے گی۔

وشنو دیوی”میرے شوہر زندہ ہیں مگر میں ایک بیوہ اور میرے بچے یتیموں جیسی زندگی گزار رہے ہیں، جب وہ دیگر بچوں کو اپنے والدین کے ہمراہ دیکھتے ہیں تو پوچھے ہیں کہ ان کے بابا کہاں ہیں؟ ہم ان کی واپسی چاہتے ہیں مگر ہم انہیں کیسے واپس لاسکتے ہیں؟”

وشنو دیوی جانتی ہیں کہ ان کے شوہر بھارتی انٹیلی جنس ادارے کے جاسوس تھے اور انہیں ایک خفیہ مشن پر پاکستان بھیجا گیا تھا، جہاں سرحد پر وہ پکڑے گئے۔

دیوی”جب وہ ایک ماہ تک واپس نہیں آئے تو انٹیلی جنس ادارے کا ایک عہدیدار ہمارے پاس آیا اور کہا کہ وہ جلد واپس آجائیں گے، پھر اس نے آنا چھوڑ دیا، اور ہمیں ہر ماہ پانچ ڈالرز ملنے لگے، مگر کچھ وقت کے بعد یہ رقم بھی روک دی گئی”۔

بھارت بھر میں سینکڑوں سابق جاسوس اور ان کے خاندان موجود ہیں، پاکستان کی سرحد کیساتھ واقع دیہات میں مقیم افراد کو اکثر اس کام کیلئے بھرتی کیا جاتا ہے، 55 سالہ کاشتکار رام راج کو بھی پرکشش تنخواہ کا لالچ دیکر جاسوسی کیلئے تیار کیا گیا۔

رام راج”انکا کہنا تھا کہ تم حقیقی محب وطن ہو اور تمہیں اپنے فوجیوں کی طرح ملک کے دفاع اور خدمت کیلئے آگے آنا چاہئے، انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرے خاندان کی کفالت کریں گے اور اگر میں پکڑا گیا تو میری رہائی کو یقینی بنایا جائے گا اور مجھے زرتلافی دی جائے گی”۔

مگر جب کوئی جاسوس پکڑا جاتا ہے تو انٹیلی جنس ادارہ اسے شناخت کرنے سے ہی انکار کردیتا ہے۔ رام راج نے پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد اٹھارہ سال جیل میں گزارے۔

رام راج”میری ماں کا انتقال ہوگیا، میری بیوی کو مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے گھریلو ملازمہ بن کر کام کرنا پڑا، جبکہ میرے بچے تعلیم سے محروم رہ گئے، ان کو اسکول بھیجنے کیلئے میرے گھروالوں کے پاس پیسے ہی نہیں تھے، میرے خاندان کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک بار بھی ان کی ضروریات کا نہیں پوچھا، انھوں نے متعدد وعدے کئے تھے مگر درحقیقت انھوں نے نہ صرف میری بلکہ میری بیوی اور بچوں کی زندگیاں بھی تباہ کردیں”۔
تاہم بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سیکرٹری وی کے سنگھ کا دعویٰ ہے کہ جاسوسوں کو اپنی ملازمت کے نتائج کا مکمل شعور ہوتا ہے۔

سنگھ”پوری دنیا میں یہ معمول کا امر ہے کہ اگر کوئی جاسوس پکڑا جائے تو اسکی شناخت سے انکار کردیا جائے، کوئی بھی حکومت یہ نہیں کہتی کہ اس شخص کو ہم نے جاسوسی کی غرض سے بھیجا ہے، اور یہ کام کرنے والے افراد بھی اس سے آگاہ ہوتے ہیں، انھیں زبردستی اس کام کیلئے مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ وہ پرکشش آمدنی کیلئے رضاکار طور پر اس کیلئے تیار ہوتے ہیں، اگر اس دوران وہ پکڑے جاتے ہیں تو یہ ان کی بدقسمتی ہوتی ہے”۔

مگر سابق جاسوسجگدیش لال کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کا بہانہ ہے۔

جگدیش”ہمارے اور ایجنسیوں کے درمیان غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے کہ ہمارے خاندانوں کو ہماری عدم موجودگی میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا، مگر ہمارے خاندان مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور حکام کو بالکل پروا نہیں ہوتی، اور جب ہمارے رشتے دار حکام کے پاس مدد کیلئے جاتے ہیں تو وہ ان کی بات ہی نہیں سنتے ہیں”۔

دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ ملک ان جاسوسوں کو بھول نہیں سکتا۔

شکلا”سرحد عبور کرنے والے ہر جاسوس جو پکڑا جاتا ہے ، کے بارے میں حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، آخر آپ اسے تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟”