پالاوان کو طویل عرصے سے فلپائن کی آخری ماحولیاتی سرحد کے طور پر دیکھا جارہا ہے، مگر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق صوبائی کونسل کی جانب سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے قیام کی منظوری کے بعد یہ علاقہ یونیسکو کے ثقافتی ورثے کا درجہ کھونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
ایک ہزار سے زائد افراد اپنے گھر کے قریب ایک کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ لگنے کی صورت میں ہونیوالی مشکلات کی وڈیو دکھ رہے ہیں، یہ ویڈیو پالاوان کے دارالحکومت کے ایک پارک میں احتجاج کے دوران دکھائی جارہی ہے، میرالین جیگمس اس احتجاج کی قیادت کررہی ہیں۔
میرالین”ہم اس پاور پلانت کے مخالف ہیں، ہم اپنے ساتھی شہریوں سے بھی اس کی مخالفت کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ توانائی کے حصول کے محفوظ متبادل ذرائع بھی موجود ہیں”۔
مظاہرین میں شامل ایک شخص بتارہا ہے کہ یہ صرف ماحولیاتی تحفظ کیلئے نہیں بلکہ اس صوبے کے مستقبل کا بھی سوال ہے۔
مجوزہ پاور پلانٹ کا منصوبہ نومنتخب گورنرجوس الواریز نے پیش کیا ہے، یہ پلانٹ ایک چھوٹے سے قصبے ابورلن میں تعمیر کیا جائے گا، جس سے پندرہ میگاواٹ بجلی حاصل کرکے اٹھارہ ٹاﺅنز کو فراہم کی جائے گی۔ گورنر کے ترجمانگل اکوسٹا اس منصوبے پر حکومتی موقف بتارہے ہیں۔
گل”گورنر کا ماننا ہے کہ پالاوان دیگر صوبوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہے، حالانکہ خطے میں ہمارا صوبہ سب سے بڑا ہے، ترقی میں بجلی کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، جو لوگ بھی پالاوان میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں گے وہ سب سے پہلے بجلی کی مستحکم سپلائی کا ہی سوال کریں گے”۔
اس پاور پلانٹ کو ایک قصبے نے مسترد کردیا تھا تاہم ابور لن کونسل نے اسکی منظوری دیدی، مظاہرین کا الزام ہے کہ گورنر نے مقامی حکومت پر شدید دباﺅ ڈال کر اس منصوبے کو منظور کروایا ہے، تاہم حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
گل”یہ ٹھیک نہیں، درحقیقت گورنر کے آنے سے قبل پالاوان کونسل فار سسٹینیبل ڈیویلیپمینٹ پہلے ہی اس منصوبے کی منظوری دے چکی تھی، یہ انتخابات سے کئی ماہ پہلے کی بات ہے”۔
صوبہ پالاوان کو یونیسکو نے مین اینڈ بائیو سفر اسٹیٹس دے رکھا ہے، جبکہ اسکے دو مقامات یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے، مگر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی فلپائنی شاخ کا کہنا ہے کہ اگر پاور پلانٹ کا منصوبہ آگے بڑھا تو پالاوان اپنے اس درجے سے محروم ہوسکتا ہے۔ آر جے ڈیلا کالزادا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے عہدیدار ہیں۔
ڈیلا” مین اینڈ بائیو سفر اسٹیٹس کسی علاقے کی ترقی کیلئے ایک نوبل انعام کی حیثیت رکھتا ہے، پالاوان فلپائن کے ان دومقامات میں سے ایک ہے، جسے یہ درجہ ملا ہے، جب ہم مین اینڈ بائیو سفر اسٹیٹس کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم انسانوں کی بات کررہے ہوتے ہیں جو ایک خاص علاقے کے وسائل کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کررہے ہوتے ہیں۔مگر اگر کوئی اس معیار پر پورا نہ اترے تو اس سے یہ درجہ واپس لے لیا جاتا ہے، اور کوئلے کا پاور پلانٹ اس صوبے کو عالمی فہرست سے نکال سکتا ہے”۔
پلانٹ کا مجوزہ مقام مچھلیوں کی پناہ گاہ سمجھے جانے والے علاقے میں ہے، اور اس علاقے میں روزگار کا بڑا ذریعہ ماہی گیری ہی ہے، مگر پاورپلانٹ سے زہریلے فضلے کے اخراج سے بحری ماحولیاتی نظام تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔آر جے ڈیلا کالزاداکا کہان ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دی جانی چاہئے۔
ڈیلا”آخر پالاوان کو کتنے میگاواٹ کی ضرورت ہے؟ اب نئی ٹیکنالوجیز جیسے شمسی توانائی وغیرہ موجود ہیں، جس کے ذریعے سورج نہ بھی نکلا ہو تو بھی سات روز تک بجلی فراہم کی جاسکتی ہے”۔
یہ پاور پلانٹ تعمیر کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مختلف تجاویز پر بھی غور کررہی ہے، جبکہ آئندہ کے منصوبوں کیلئے توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال پر بھی تحقیق کی جارہی ہے۔ حکومتی ترجمان گل اکوسٹا کا کہنا ہے کہ متبادل ذرائع ہمارے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
گل”ہم آئندہ دس برسوں کیلئے نئے اور متبادل زرائع پر بھی بات چیت کررہے ہیں، مگر ان پر اس وقت تک کام نہیں ہوسکتا جب کہ کوئلے والے پاور پلانٹ کی تجویز پر عمل شروع نہیں ہوجاتا، حکومت کیلئے سب سے آسان طریقہ کوئلے اور بائیو ماس ایندھن کا استعمال ہے، ہم ہائیڈرو اور ونڈ پاور پر بھی توجہ دے رہے ہیں، مگر ان کے وسائل ناکافی ہیں”۔
مگر مقامی رہائشی جیسے میرالین جگمیس خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔
میرالین”یہ پاور پلانٹ متعدد مسائل جیسے پھیپھڑوں یا دماغی امراض کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً بچے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، کوئلے کو جلانے سے مضر صحت کیمیکلز جیسے مرکری ہوا میں پھیلتے ہیں، جسے نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا، یہ کیمیکل انسانوں کیلئے بہت خطرناک ہے”۔