عالمی عدالت انصاف نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ علاقے میں موجود 11 ویں صدی کا مندر تھائی لینڈ کی بجائے کمبوڈین حکومت ملکیت قرار دیدیا ہے۔ یہ فیصلہ دو سال کی سماعت کے بعد سامنے آیا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
دو سال قبل کمبوڈیا نے عالمی عدالت انصاف سے کہا تھا کہ وہ 1962ءکے اپنے اس فیصلے کی تشریح کرے جس کے تحت 11 صدی کے اہم تاریخی مندر کو کمبوڈین ملکیت میں دینے کا حکم دیا گیا تھا، یہ مندر جسے کمبوڈیا میں پریہی وہار اور تھائی لینڈ میں پرا وہارن کہا جاتا ہے دونوں ممالک کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے۔ 1962ءمیں عالمی عدالت نے اپنا فیصلہ کمبوڈیا کے حق میں سنایا تھا، تاہم اس میں مندر کے آس پاس کے پانچ کلومیٹر کے رقبے کی ملکیت کے حوالے سے واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا تھا، اب لگ بھگ پچاس سال بعد کمبوڈیا نے عالمی عدالت سے اس وضاحت کا مطالبہ کیا۔رواں سال اپریل میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے اپنے اپنے موقف عالمی عدالتم یں پیش کئے، کمبوڈیا کا موقف تھا کہ 1962ءکے فیصلے میں یہ متنازعہ علاقہ اس کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، جبکہ تھائی لینڈ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت کو کسی متنازعہ علاقے پر فیصلے کا اختیار نہیں۔اب عدالت نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ عالمی عدالت کے سربراہ پیٹر تومکا نے یہ فیصلہ سنایا۔
پیٹر”پندرہ جون 1962ءکے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ہم متفقہ طور پر قرار دیتے ہیں کہ کمبوڈیا کو اس مندر کے مکمل علاقے کی ملکیت حاصل ہے، 98 صفحات کی موجودہ فیصلے میں اس حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے اور اس فیصلے کے تحت تھائی لینڈ کو اس علاقے سے اپنی فوج ، پولیس یا دیگر فورسز کو نکالنا ہوگا”۔
عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تھا اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی۔تاہم اس فیصلے میں کمبوڈیا کو صرف وہی علاقہ دیا گیا ہے جہاںپریہی وہار مندر موجود ہے، جبکہ باقی علاقے کی ملکیت پر اس بار بھی زیادہ وضاحت سے کچھ نہیں کیا گیا۔ تاہم ججز نے دونوں ممالک کے انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔کمبوڈین حکومت کے ترجمان فے اسپن کا کہنا ہے کہ ہم عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گے اور مزید بدامنی پپھیلانے سے گریز کریں گے، توقع ہے کہ تھائی لینڈ بھی ایسا ہی کرے گا۔
پے”جی ہاں ہم تشدد کے حوالے سے فکرمند ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت خطے میں امن و استحکام کیلئے پرعزم بھی ہے”۔