برما میں انڈر گراﺅنڈ بینڈز کیلئے موسیقی کے میدان میں جگہ بنانا کافی مشکل کام ہے، انٹرنیٹ کی رسائی مشکل اور کمپنیوں کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کامیابی غیریقینی صورتحال کا شکار ہوجاتی ہے، تاہم اب حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور نوجوان میوزک بینڈز ترتیب دیکر سیاسی اور اقتصادی حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
فیور ایک سو نوایک میٹل بینڈ ہے جسے دوستوں کے ایک گروپ نے پانچ برس قبل تشکیل دیا تھا، یہ لوگ اکثر اسٹوڈیو میں موسیقی مرتب کرتے تھے مگر وہ اسے اپنا کل وقتی پیشہ بنانے کے خواہشمند تھے، سی تھوگٹارسٹ ہیں۔
تھو”گروپ کی تشکیل آسان نہیں تھی، اس کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے، رقم کا مسئلہ ہوتا ہے، ہمیں ایسے شخص کی بھی ضرورت تھی جو ہمارے شوز کا انعقاد کروائے، پھر ایک ایسا شخص مل ہی گیا جو ہر تین یا چار ماہ میں میوزک شوز کا انعقاد کرانے لگا، یہ زبردست تجربہ تھا”۔
ان کی سخت محنت کام آئی اور فیور ایک سو نوآخر کار جلد اپنا افتتاحی البم جاری کرنے کے قریب ہے، ادینواس گروپ کے گلوکار ہیں۔
ادینو”ہمیں توقع تھی کہ رواں برس اس البم کی فروخت شروع ہوجائے گی، مگر کئی وجوہات کی بناءپر تاخیر ہوگئی، اب ہم آئندہ سال اسے ریلیز کرنے کی کوشش کررہے ہیں”۔
سی تھو کا کہنا ہے کہ جس موسیقی کی طلب ہوگی اسی میں زیادہ منافع بھی ہوگا۔
سی تھو”پروڈیوسرز ہمیشہ منافع کو دیکھتے ہیں، وہ مقبول موسیقی کو ہی ترجیح دیتے ہیں، تو ہمیں ایسے پروڈیوسر کی ضرورت ہے جو ہمارے طرز موسیقی کو پسند کرتا ہو”۔
ایک اور مسئلہ مارکیٹ میں غیرقانونی سی ڈیز کی بھرمار کا ہے، جیسے ہی کوئی نیا گانا جاری ہوتا ہے، اس کی غیرقانونی کاپیاں ہر جگہ ملنا شروع ہوجاتی ہیں، اور گروپس منافع سے محروم ہوجاتے ہیں۔
سی تھو”چونکہ لاتعداد غیرقانونی کاپیاں دستیاب ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے پروڈیوسرز ہمارے کام کو تقسیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں”۔
کچھ بینڈز کو شک ہے کہ پروڈیوسرز ہی سی ڈیز کی غیرقانونی کاپیاں فروخت کرکے زیادہ منافع حاصل کرلیتے ہیں، تاہم فیور ایک سو نو کا کہنا ہے کہ انہیں امیر یا مشہور ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ تو بس میٹل میوزک سے محبت کرتے ہیں۔
ادینو”ہم اپنے کام کو پسند کرتے ہیں، اگر ہم اپنے کام کو پسند کریں گے تو ایک دن لوگ بھی ہمیں جاننے لگے گے، میرا ماننا ہے کہ اگر دیگر بینڈز بھی ملکر کام کرین تو ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں”۔
ویسٹ کوسٹ سٹی بھی ینگون کا ایک بینڈ ہے، اس کا پہلا البم حال ہی میں سامنے آیا ہے، جو چھ سال میں تیار ہوا۔
بینڈ ممبر”ہم پروڈیوسرز تلاش کرنے کی کوششیں کرتے رہے، ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، میرے ساتھیوں نے بہت محنت کی مگر اب بھی ہماری مارکیٹ زیادہ مضبوط نہیں ہوئی ہے”۔
سخت جدوجہد کے باوجود ویسٹ کوسٹ سٹی بہتر مستقبل کیلئے پرامید ہے۔
بینڈ ممبر(male)”اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں، ہمیں اپنی پوری توجہ اپنے مقصد پر مرکوز رکھنی چاہئے”۔