کان کنی فلپائن کی متنازعہ ترین صنعتوں میں سے ایک ہے، طویل انتظار کے بعد ملک میںکان کنی کی نئی پالیسی پیش کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم بینیگو ایکوینوbenigo aquino نے اس حوالے سے نو جولائی کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے کا مقصد کان کنی کی صنعتوں، حکومت اور ماہر ماحولیات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔لیکن ماہر ماحولیات اورمقامی آبادیاںاس سے خوش نہیں ہیں۔
لیو جیزارینو(leo jazareno)ماحولیات اور قدرتی وسائل کے mines or geo sciences کے شعبے میں ڈائریکٹر ہیں۔
(male) Leo “کان کنی کے نئے قانون میںدو اہم باعث تشویش معاملات پر توجہ دی گئی ہے”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
(male) Leo “ایک تو یہ کہ کان کنی کی صنعت میں حکومتی شیئرز بڑھایا جائے اور حکومت و کان کن برادریوں کو حاصل ہونیوالے فوائد میں اضافہ کیا جائے۔ دوسرا ماحولیاتی معیارکو بہتر بنایا جائے تاکہ کان کنی سے متعلق معاشرتی مسائل،غلط فہمیاں اور شکایات دور کی جاسکیں، تو بنیادی طور پر یہ معاشی اور ماحولیاتی عوامل کا احاطہ کرنے والی پالیسی ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ نیا قانون جسے EO بھی کہا جاتا ہے ،مقامی حکومتوں کو ماحول دوست کان کنی کو یقینی بنانے کیلیے رہنمائی فراہم کرے گا۔اس وقت لاکھوں فلپائنی شہریوں کا روزگار کان کنی کی صنعت سے وابستہ ہے، اور ملک بھر میں تیس کے لگ بھگ کان کن کمپنیاں کام کررہی ہیں۔اس صنعت سے فلپائن برآمدات کی سالانہ آمدنی کا چھ فیصد وصول کرتا ہے۔فلپائن میں پہلے ہی کان کنی سے متعلق1995 کا ایکٹ موجود ہے۔جو ماہرین ماحولیات اور قبائلی آبادیوںکا مخالف ہے۔Leo Jazarenoکا کہنا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے براہ راست کان کنی کی پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے، یہ چیز سابقہ ایکٹ میں موجود نہیں۔انکے مطابق کانوں کے ارگرد موجود تنازعات کو بھی حل کیا جانا چاہئے۔
(male) Leo “سب کو ہی معلوم ہے کہ کان کنی کی صنعت بنیادی طور پر متنازعہ ہی ہوتی ہے، اس میں متعدد اسٹیک ہولڈرز یا حصہ دار شامل ہوتے ہیں، جو مختلف مقاصد کی وکالت کرتے ہیں۔ تو اس مسئلے کے مرکز تک پہنچنا حکومت کیلئے آسان نہیں، تاہم حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ پالیسی کی سمت یعنی سرمایہ کاری کا حصول بالکل درست ہے۔حکومت اس چیز کو سرمایہ کاروں کیلئے قابل پیشگوئی اور واضح بنانا چاہتی ہے کہ ملک میں مستحکم حکومت موجود ہے اور وہ کان کنی کے ایگزیکٹو حکم نامے کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہے”۔
بظاہر یہ حکم نامہ کان کنی کیلئے مختص مقامات میں ماحولیاتی صورتحال کو تحفظ دینے کے حق میں ہے۔لیکن ماحولیاتی کارکنFather Gariguez کا کہنا ہے کہ یہ ماحولیات کے تحفظ کیلیے بالکل نہیںہے۔انکامزید کہنا ہے کہ اس حکم نامے کا بنیادی مقصد کان کنی کی صنعت سے حاصل ہونیوالے حکومتی آمدن کو بڑھانا ہے۔ان کے بقول اسکا مطلب ہے کہ کان کنی سے عام لوگ جیسے ماہی گیروں، کاشتکاروں اور قبائلی برادریوں کو حاصل حقوق کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔
(male) Edwin “اس حکم نامے کے ذریعے مرکزی اور مقامی حکومتوں کو اپنے علاقوں میں کان کن کمپنیوں کی مخالفت کرنے والوں کو روکنے کیلئے مکمل اختیار مل جائے گا۔ہم جانتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور محکمہ ماحولیات عوامی جذبات کی نمائندگی نہیں کررہے، بلکہ وہ تو لوگوں کی شکایات تک سننے کیلئے تیار نہیں۔درحقیقت یہ تو زیادہ تر کان کنی کی کمپنیوں کے کاروباری ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش کررہے ہیں”۔
الیانسہ ٹیگل میناAlyansa Tigil Minaکان کنی سے متاثرہ برادریوں کیلئے کام کرنے والی جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے۔اس اتحاد کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کان کنی کے تئیس بڑے منصوبوں کو حکومتی رضامندی حاصل ہے۔حالانکہ مقامی رہایشیوں کی جانب سے انکی شدید مخالفت کی گئی تھی۔Jaybee Garganera اس اتحاد کے کوآرڈنیٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس حکم نامے سے آبادیوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
(male) Jaybee “کان کنی سے متاثرہ مقامات پر ہمیں مزید تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا، بات صرف کان کنی کے حامیوں اور مخالفین تک ہی نہیں رہے گی، بلکہ مسلح گروپس تک پہنچ جائے گی جو کہ کان کنی کے تباہ کن منصوبوں کے خلاف ہیں ۔ اسی طرح پانی کے وسائل کا تنازعہ بھی پیدا ہوگا، جبکہ ہمیں سیاسی عدم استحکام کا بھی سامنا کرنا ہوگا کیونکہ مقامی حکومتوں کو کان کنی سے ہونیوالے زیادہ نقصانات کا سامنا ہوگا، جبکہ مرکزی حکومت کان کنی کو ترجیح دینے کی کوشش کرے گی، جس سے قبائلی برادریوں اور غیر قبائلی افراد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا”۔
فی الحال یہ اتحا د معاہدہ کان کنی کیلیے دئے جا نے والے قرضوں کو التواءمیں ڈالنے کیلئے زور دے رہا ہے اوروہ ایگزیکٹو آرڈر اور کانکنی کے پرانے ایکٹ کو منسوخ کروا کر اس حوالے سے نیا قانون کا خواہشمند ہے۔یہ مجوزہ قانون ابھی قدرتی وسائل کی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے۔جے بھی گارگانیرہ Jaybee Garganeraکا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بہتر بنائے گا۔
(male) Jaybee ہمارا مقصد صرف ماحولیاتی یا انسانی حقوق کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلیے کچھ بہتر کر کے جانا چاہتے ہیں۔میرے خیال میں حکومت اور صنعتوںدونوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم اگر صحیح فیصلے کریں گے تو ہماری آئندہ نسلیں اسکا پھل کھائیں گی۔اور یہ ہم میں سے کسی کیلیے نقصان دہ نہیں”۔