بھارت میں قتل عام کے واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت اور ماو باغیوں کے درمیان جنگ میںخمیازہ عام دیہاتی بھگت رہے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے چھتیس گڑھ میںگزشتہ ماہ 17 دیہاتیوں کو قتل کر دیا تھا۔لیکن رپورٹس کے مطابق قتل کیے جانے والے ماوباغی نہیں بلکہ عام شہری تھے۔ماو باغی بھارت کی مختلف ریاستوں میں سرگرم ہیں، دو دہائیوں سے جاری اس مسلح جدوجہد میں ہزاروں عام افراد اور سیکیورٹی اہلکارہلاک ہوچکے ہیں۔
سرکی گودا(Sarkeguda) نامی گاوں کے ایک رہائشی کے مطابق 28 جون کو فصل کی کٹائی کے مقامی تہوار کے دوران ہم لوگ جمع ہوئے،کہ اچانک سیکیورٹی اہلکاروں نے حملہ کر دیا، جس میںبچوں سمیت 17افراد مارے گئے۔
اس حملے کے کئی گھنٹوں بعد پولیس گاﺅں میں آئی اور لاشوں کو اٹھا کر لے گئی۔گاوں والے اپنے پیاروں کی لاشیں واپس چاہتے تھے مگر پولیس نے کہا کہ وہ تمام لاشوں کوجلا چکی ہے، اس طرح تمام اہم شواہد بھی مٹ گئے۔
یہ آپریشن سینٹرل ریزرو پولیس فورس جسے سی آر پی ایف بھی کہا جاتا ہے اور ریاست36گڑھ پولیس کی جانب سے کیا گیا۔اس حملے کے ایک ہفتے بعد پولیس نے اعلان کیا کہ 17 ماﺅ باغیوں کو ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے فورسز کو اس آپریشن پر مبارکباد دی۔
چدم برم(male) “یہ واقعہ ماﺅ باغیوں کی جانب سے پہلے فائرنگ کی وجہ سے پیش آیا، ہماری سرحدی فورسز اور ریاستی پولیس نے انتہائی بہادری اور صلاحیت سے ان باغیوں پر قابو پایا”۔
لیکن کامیابی کے تمام تر دعوﺅں کے بعد بھارتی اخباروں نے رپورٹ کیا کہ مارے جانے والوں میں زیادہ تر افراد 16 سال سے کم عمر اور عام شہری تھے۔بالآخر چار جولائی کو پولیس نے تسلیم کیا کہ اس حملے میں عام شہری ہی مارے گئے تھے۔
لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہلاک کیا گیا کیونکہ ماو باغیوں نے انہیں انسانی ڈھال بنا رکھا تھا۔سیکیورٹی فورسز نے یہ دعوی بھی کیا کہ انکے چھ ساتھی بھی مقابلے میں زخمی بھی ہوئے ۔کے وجے کمار سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔انکا اصرار ہے کہ گاوں میں جاری اجلاس ماﺅ باغیوں نے منعقد کیا تھا اور فائرنگ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع نہیں کی گئی تھی۔
کمار(male) “ہماری فورسز کا رویہ مہذب ہے، وہ انتہاپسندانہ روئیے پر ہی اپنے ردعمل کا اظہار کرتی ہیں۔ فائرنگ دوسرے فریق کی جانب سے شروع ہوئی تھی، ہم نے تو بس اپنا دفاع کیا۔ہم نے فائرنگ اسی وقت شروع کی جب ہمارے بہت سے ساتھی زخمی ہوگئے، اب فائرنگ کے تبادلے میں کون زخمی ہوا اور کون قتل اس کا فیصلہ فرانزک اور تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے”۔
مگر گاوں والوں نے کہانی کچھ اور طرح بیان کی۔انکے بقول انکی طرف سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔بلکہ ان پر تو اچانک گھیر کر حملہ کردیا گیا تھا۔25سالہ رتنا نے اس حملے میں اپنا 16 سالہ بھائی کھو دیا۔
رتنا(female ) “تین دیہاتوں سے لوگ ہمارے گاﺅں میں آنے والے تہوار پر بات کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے بغیر کسی انتباہ کے اچانک فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد ہم لوگ تحفظ کیلئے بھاگے۔ ماﺅ باغی اپنے اجلاس دیہات کی جگہ جنگلوں میں منعقد کرتے ہیں، آخر یہاں قتل ہونیوالے چھوٹے بچے کس طرح ماﺅ باغی ہوسکتے ہیں؟”
بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کے 36گڑھ اسمبلی کے رکن جماکالاسی لکھما نے گاوں والوں کے موقف کی حمایت کی۔
لکھما(male) “پولیس نے ہمیں ہر طرف سے گھیر لیا اور فائرنگ شروع کردی، اس وقت جائے وقوعہ پر چالیس سے پچاس افراد جمع تھے، ہم میں بیشتر بھاگ کر بچنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ دیگر فائرنگ سے مارے گئے”۔
حملے کے کچھ روز بعد بھارتی وزیر داخلہ نے کچھ اسطرح معافی مانگی۔
چدم برم(male) “ہمارے خیال میں مقابلے کے دوران ہلاک ہونیوالے دو افراد اور ایک وہ شخص جو ہسپتال جاتے ہوئے ہلاک ہوا، ماﺅ باغیوں کے اہم مقامی رہنماءتھے۔اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جن کا ماﺅ نوازوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس واقعے میں ہلاک ہوا ہے تو میں دل کی گہرائیوں سے معذرت کرتا ہوں”۔
سماجی کارکن جیسے سوامی اگنی ویش نے فورا تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اگنی ویش(male) “میں ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات کرانے کے حق میں نہیں، بلکہ اس واقعے کی آزادانہ جانچ پڑتال چاہتا ہوں۔ کون شخص سی آر پی ایف کی تحقیقات پر یقین کرے گا۔ یا کون مجسٹریٹ کی تفتیش کو مانے گا؟ ہم اس واقعے کی عدالتی تحقیقات چاہتے ہیں، کیونکہ ہمیں عدالتی تحقیقات پر مجسٹریٹ کی تفتیش سے زیادہ یقین ہے”۔
اسکے بعد ریاست36گڑھ کی حکومت نے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔مگر کچھ حلقے اس فیصلے کے خلاف تھے۔بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے سابق سربراہ پرکاش سنگھ نے کہا کہ تحقیقات سے سیکیورٹی فورسز کے مورال میں فرق آئے گا۔
سنگھ(male) “اگر آپ ایسے علاقے میں تحقیقات شروع کریں گے جو عسکریت پسندی سے متاثر ہے تو مجھے ڈر ہے کہ ہمیں ہر برس اس طرح کی سینکڑوں تحقیقات کرانا پڑیں گی۔یہ بات ہمیں کس طرف لے جائے گی؟ میرے خیال میں تو سیکیورٹی فورسز کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ اگر ہمیں ہر واقعے کے بعد عدالتی تحقیقات کا سامنا کرنا ہے تو جہنم میں جائے عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن، ہمیں تو بس اپنا تحفظ کرنا ہے، ہمیں ماﺅ باغیوں سے لڑنے سے باز رہنا چاہئے”۔
لیکن سابق اٹارنی جنرل سولی سوراب جی نے بھی تحقیقات کی حمایت کی ہے۔
سوراب جی(male)“عدالتی تحقیقات کی حقیقی ضرورت ہے، ماﺅ باغی تشدد کے واقعے میں متعدد پولیس یا دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک ہی کیوں نہ کردیں، تو اس سے سی آر پی ایف کیلئے یہ بات جائز نہیں ہوجاتی کہ وہ کسی پر بھی ماﺅ نوازہونے کے شبے پر فائرنگ شروع کردے۔ یہ بہت حساس اور نازک معاملہ ہے، اور حقیقت مناسب عدالتی تحقیقات سے ہی سامنے آسکتی ہے”۔
بالآخرتحقیقات کا نتیجہ گاوں والوں کے حق میں نکلا۔اورایک ادارے Coordination of Democratic Rights Organisationتفتیش سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ ہلاک ہونے والے عام شہری ہی تھے نہ کہ ماوباغی۔