(Philippines Kids Rule the Radio)فلپائنی بچوں کا ریڈیو پر راج


 

(Philippines Kids Rule the Radio)فلپائنی بچوں کا ریڈیو پر راج

 

فلپائنی دارالحکومت منیلا میں رہائش پذیر ایک تہائی بچے کچی بستیوں میں مقیم ہیں۔ غربت کے باعث ان میں سے اکثر بچے اسکول جانے کی بجائے کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔تاہم ان بچوں کی صورتحال تبدیل کرنے کیلئے ایک ریڈیو پروگرام چلایا جارہا ہے۔

اتوار کی صبح دس بجے ہیں، Salome اور Klint مائیک سنبھالے شو کیلئے تیار ہیں۔

شو کا آغاز بچوں کیلئے ایک گانے سے ہوا۔

 (female) Salome “کیا آپ بچے ہیں؟ اگر ہاں تو آپ کو بچوں کے تمام حقوق حاصل ہیں”۔

 (male) Klint “ہم ابھی بھی بچے ہیں، مگر ہمیں اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔

 (Salome and Klint)ہم سب یہ کرسکتے ہیں”۔

اس شو کا نام Kaya Natin to Kids ہے۔ یہ ہر ہفتے منیلا کے ریڈیو DZXL 558 پر نشر ہوتا ہے۔ یہ ریڈیو فلپائن کے سب سے بڑے ریڈیو نیٹ ورک Radio Mindanao Network کا حصہ ہے۔ بچوں کیلئے اس شو کا آغاز گزشتہ ہفتے ہوا، تاہم اسکا تصور انتہائی منفرد ہے۔ کچی بستیوں کے بچوں کیلئے یہ پروگرام بچے ہی تیار کرتے ہیں۔ تیرہ سالہ Klint Jonas Cabutaje نے جب پہلی بار مائیک سنبھالا تو بہت نروس تھا۔

Klint(male)”اب میں پروگرام کرکے لطف اندوز ہوتا ہوں، اب میں بالکل بھی نروس نہیں ہوتا، میں بچوں پر مظالم کے حوالے سے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچا کر کافی اچھا محسوس کرتا ہوں”۔

Klint، Quezon City کی کچی بستی میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے، وہ اسکول جاتا ہے اور تعلیم کے بعد اچھی ملازمت حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔اس شو میں بچوں پر اثرانداز ہونے والے موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ جیسے چائلڈ لیبر سے لیکر صحت یا غربت وغیرہ۔ اس شو میں خبریں بھی شامل ہیں، ڈراما، انٹرویو اور موسیقی بھی، جس کی وجہ سے اس کی کشش بڑھ گئی ہے۔اسکی پندرہ سالہ براڈکاسٹر Salome Nanoz کا کہنا ہے کہ اس ریڈیو شو نے اس کا ذہن کشادہ کردیا ہے۔

 (female) Salome “ہماری برادری کے بیشتر بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ انہیں علی الصبح اٹھ کر گلیوں میں نکلنا پڑتا ہے تاکہ وہاں کچھ کما کر اپنے خاندان کیلئے ناشتے کا سامان لاسکیں”۔

ان کچی بستیوں میں سستے ریڈیو عام ہیں۔ 72 سالہ Nenita Gonzaga باقاعدگی سے ریڈیو سنتی ہیں۔وہ ایک مزدور یونین Kilusang Mayo Uno کی نائب چیئرپرسن بھی ہیں۔

 (female) Nenita Gonzaga “یہ پروگرام بچوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ یہ ٹیلیویژن کے شوز جیسا نہیں، جہاں بچوں کو ہمیشہ ہنستے کھیلتے ہی دکھایا جاتا ہے۔ پارکوں میں کھیلنے کے مقابلے میں ان کچی بستیوں کے بچوں کی زندگیوں کو سیگریٹ اور دیگر اشیاءسے خطرات لاحق ہیں۔ یہ بچے کانوں میں انتہائی کم اجرت پر کام کرتے ہیں، جبکہ کھیتوں میں بھی وہ اپنے والد کی مدد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں”۔

اس شو کو ایک عالمی ادارہ Association for the Rights of Children اسپانسر کررہا ہے۔یہ ادارہ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرتا ہے۔ Karl Mark Lagabala اس ادارے کے ریڈیو پروگرام پراجیکٹ آفیسر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ریڈیو کا انتخاب اس کی وسیع کوریج کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

 (male) Karl Mark Lagabala “جب ہم قوانین کی بات کرتے ہیں تو بچوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا انحصار اپنے والدین پر ہوتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے منشور میں بچوں کا ذکر نہیں ہوتا، نہ انہیں ووٹ کا حق حاصل ہے، اٹھارہ سال سے زائدعمر کے افراد ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ حالانکہ آج کے بچے کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں”۔

اس پروگرام کو فلپائن میں حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والے سب سے بڑے ادارے Gabriela سے بھی فنڈز مل رہے ہیں۔ Jang Monte اس ادارے کی ترجمان ہیں۔

 (female) Jang Monte “بچوں کے پاس اچھے آئیڈیاز ہوتے ہیں، بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں ہم نہیں دیکھ پاتے مگر بچے دیکھ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہم چائلڈ لیبر پر تحقیق کرتے ہیں تو بیشتر بڑے افراد اس مسئلے کو بڑے پیمانے پر دیکھیں گے، مگر جب بچے اس کو مسئلے کو دیکھیں گے تو ان کا نظریہ مختلف ہوگا۔ جب آپ بچوں سے اسکولوں کے بارے میں پوچھیں گے تو Salome تمام تر جزئیات کا نقشہ کھینچ کر رکھ دے گی۔ اس کی بات سننا اہم ہے”۔

Salome کو اپنے نئے کردار پر فخر ہے، اسکا ککہنا ہے کہ پہلے وہ شرمیلی تھی مگر ریڈیو پر آکر وہ اس خامی پر قابو پاچکی ہے۔

 (female) Salome “مجھے توقع ہے کہ مزید بچے اور برادریاں اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *