Philippines’ E-Jeepney Struggling for Support – فلپائنی ماحول دوست گاڑیاں

فلپائن میں بسیں جنھیں یہاں جی پی بھی کہا جاتا ہے پبلک ٹرانسپورٹ کا نشان سمجھی جاتی ہیں، مگر ان کے ڈیزل انجن ماحول کی آلودگی کا بھی سب سے بڑا سبب ہیں۔ تاہم اب دارالحکومت منیلا کے لوگوں کیلئے ماحول دوست بجلی سے چلنے والی جی پی متعارف کرائے گئے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

منیلا کے کاروباری علاقے مکاتی میں شام کے وقت بہت زیادہ رش ہوتا ہے، یہاں سے متعدد افراد اب الیکٹرک جی پی میں گھر واپس جارہے ہیں، 46 سالہ ٹریسا سینٹینوایک گودام میں محافظ کا کام کرتی تھیں، مگر اب وہ ،الیکٹرک جی پی ،میں ڈرائیور کا کام کرکے زیادہ خوش ہیں۔

ٹریسیا”یہ روایتی جی پی سے بالکل مختلف ہے، اس میں پٹرول کی بجائے ہم بیٹریاں استعمال کرتے ہیں جنھیں بجلی سے چارج کیا جاتا ہے، اس سے دھواں خارج نہیں ہوتا اس طرح ہم ماحول بہتر بنانے میں مدد کررہے ہیں”۔

بجلی سے چلنے والی ،الیکٹرک جی پی ،چھ سال قبل ایک گروپ انسٹیٹیوٹ فار کلامیٹ اینڈ سسٹین ایبل سٹیز نے متعارف کرائی تھیں، اب اسے مقامی طور پر تیار کیا جارہا ہے اور بجلی کی چارجنگ کے اسٹیشنز میں قائم ہوگئے ہیں، رینا گارشیا اس گروپ کی کوآرڈنیٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ ،الیکٹرک جی پی ،دیکھنے میں تو اصل جیسی ہیں مگر یہ زیادہ ماحول دوست ہیں۔

رینا گارشیا”اس میں کوئی انجن نہیں بلکہ یہ برقی موٹر سے چلتی ہے، جبکہ اس میں کنٹرولر اور بیٹریاں ہوتی ہیں۔ آپ اس جی پی کو بجلی سے بالکل ایسے چارج کرسکتے ہیں جیسے موبائل فون کو کرتے ہیں، یہ رات بھر یا آٹھ گھنٹے میں چارج ہوجاتی ہے، جبکہ اس سے فضاءکو صاف کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ اس سے زہریلی گیسیں خارج نہیں ہوتیں۔ اس طریقے سے ہم موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کے حل کیلئے اپنی کوشش کررہے ہیں”۔

اس وقت منیلا میں پچاس ہزار جی پی ڈیزل سے چل رہی ہیں، جبکہ صرف تیس بجلی سے چارج ہوکر چلتی ہیں۔متعدد جی پی ڈرائیورز اپنی پرانی گاڑیوں کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں، کیونکہ،الیکٹرک جی پی ، کی قیمت پندرہ سو ڈالرز ہے۔ ساٹھ سالہ رافیل کارلوس چالیس سال سے پرانی جی پی کو چلارہے ہیں۔

رافیل”وہ بہت مہنگی ہے، مجھ جیسے غریب کیسے اسے لے سکتے ہیں؟ ان کی بیٹریوں کی زندگی زیادہ طویل نہیں اور الیکٹرک جی پی ڈیزل کی گاڑیوں جیسی مضبوط اور تیز بھی نہیں”۔

فلپائنی کلائمیٹ چینج کمیشن کے مطابق ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں شہری علاقوں میں 70 فیصد زہریلی گیسیں خارج کرنے کی وجہ بن رہی ہیں، ہوائی آلودگی کے باعث فلپائنی معیشت کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کا نقصان ہورہا ہے، مگر ،الیکٹرک جی پی ، کے حامیوں کو ابھی بھی حکومتی تعاون حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رینا گارشیا کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ اس حوالے سے جلد نیا بل متعارف کرایا جائے گا۔

رینا گارشیا”اس بل کے ذریعے برقی گاڑیوں کی صنعت کو کافی مراعات فراہم کی جائیں گی، یعنی درآمد کنندگان کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی، جس سے ان گاڑیوں کی پیداوار بڑھے گی، ہم اس طریقہ کار کے منتظر ہیں اور ہم حکومت کی جانب سے بھی پرجوش ردعمل کے خواہشمند ہیں”۔
مکاتی ڈسٹرکٹ میں موجود لوگ جیسے نو وا اب روزانہ ،الیکٹرک جی پی ،کو ہی استعمال کرتے ہیں۔

الیکٹرک جی پی “یہ موثر اور ماحول دوست سواری ہے”۔

ڈرائیور ٹریسا سینٹینو ہر ایک کو اس سواری پر کم ازکم ایک بار ضرور سفر کرنا چاہئے۔

ٹریسا”وہ لوگ جنھوں نے اسے ابھی آزمایا نہیں، انہیں خود اس کے سفر کا تجربہ کرکے جاننا چاہئے کہ مسافروں کا ردعمل کیا ہے، یہ ایک خاموش سفر ہوتا ہے، یہاں تک کہ بچے بھی کہتے ہیں کہ اس پر سفر بہت ہموار ہوتا ہے، کچھ افراد تو،الیکٹرک جی پی ،پر سفر تفریح کیلئے کرتے ہیں”۔