Turing Off the Lights on Traditional Burmese Lanterns – روایتی برمی لالٹینیں

اکتوبر کے اختتام میں برما بھر میں بیشتر گھر بدھ تہوار کے تحت لالٹینوں سے سجائے جاتے ہیں، یہ لالٹینیں نومبر کے وسط تک روشنیوں کے تہوار تک جلائی جاتی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہٹن شن گزشتہ چالیس سال سے لالٹینیں بنارہے ہیں، ہر سال بدھ سال کے اختتام پر ملک بھر میں یہ لالٹینیں فروخت کیلئے پیش کردی جاتی ہیں، مگر رواں برس مانگ میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ہٹن شن کا کہنا ہے کہ اب لوگ غیرملکی ساختہ لالٹینوں کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔

شن “ہم کاغذ سے لالٹینیں تیار کرتے ہیں، مگر غیرملکی لالٹینیں پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں، اب بچے ہماری تیار کردہ مصنوعات کو پسند نہیں کرتے بلکہ انہیں چینی لالٹینیوں میں زیادہ دلچسپی ہے، گزشتہ برس تو یہاں ایسی لالٹینیں بھی فروخت کیلئے پیش کی گئیں جو اینگری برڈ کے ڈیزائن کی تھیں”۔

ینگون لینٹرن مارکیٹ میں چینی لالٹینیں گزشتہ تین یا چار برس سے فروخت ہورہی ہیں، یہ زیادہ مضبوط اور واٹر پروف ہوتی ہیں۔مینٹ کھن ایک دکاندار ہیں۔

مینٹ”چینی ساختہ لالٹینیں سستی، زیادہ خوبصورت تو ہوتی ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہیں فروخت کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ بچے اور بڑے انہیں پسند کرتے ہیں، لوگ ان چینی ساختہ لالٹینیوں کو گھروں کو سجانے کیلئے استعمال کرتے ہیں”۔

روایتی لالٹینیں بنانے کیلئے کافی محنت کرنا پڑتی ہے، ہٹن شن پہلے بانسوں کو ہموار کرتے ہیں اور پھر انہیں لالٹین کی شکل دیتے ہیں، اس کے بعد وہ انہیں پر چکنا کاغذ چڑھا کر مختلف ڈیزائن بناتے ہیں۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ طریقہ کار ہے اور خرچہ بھی ہوتا ہے، اس کے علاوہ یہ لالٹینیں خراب بھی جلد ہوجاتی ہیں۔

مینٹ”برمی لالٹینیں بانسوں سے تیار کی جاتی ہیں، مگر کیڑے انہیں تباہ کردیتے ہیں اور وہ زیادہ نہیں چلتیں”۔

مگر ہٹن شن کا کہنا ہے کہ روایتی لالٹینیں تیار کرنا اب انکا پیشہ نہیں بلکہ شوق بن چکا ہے۔

شن “میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا”۔

مگر غیرملکی لالٹینیوں کی بھرمار کو دیکھتے ہوئے خطرہ ہے کہ روایتی لالٹینیں تیار کرنے کا فن دم نہ توڑ جائے۔