Death of folk singer Reshmaa لوک گلوکارہ ریشماں کے انتقال پر خصوصی رپورٹ

پاکستان کی بلبل صحرا کے نام سے مشہور معروف گلوکارہ ریشماں 1947 میں بھارتی ریاست راجستھان میں جنم لینے والی ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔
نگری نگری گھوم کر گڑوی بجانے والی ریشماں کو عوام سے متعارف کرانے کا سہرا اسی شخص کے سر بندھتا ہے جس نے مہدی حسن جیسے نابغ? روزگار گائیک کو متعارف کرایا تھا یعنی معروف براڈ کاسٹر سلیم گیلانی جو ریڈیو پاکستان میں موسیقی کے پروگرام پروڈیوسر تھے اور بعد میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔

12 برس کی عمر میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر گانے کے دوران ریشماں کو پاکستان ریڈیو پر گانے کیلئے چنا گیا اور پھر ان کا گانا لعل میری آیا اور دنیا بھر میں چھا گیا۔
انہوں نے اردو، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو اور راجستھانی زبان کے علاوہ فارسی، ترکی اور عربی زبان میں بھی کئی صوفیانہ کلام پڑھے جس نے ان کی مقبولیت کو چار چاند لگائے اور انہیں بلبل صحرا کے خطاب سے نوازا گیا۔

ریشماں کے مقبول گیتوں میں “ہائے او ربا نہیوں لگ دا دل میرا”، “وے میں چوری، چوری تیرے نال لالئیاں اکھاں وے”، “وے ساڈے آسے پاسے پیندیاں پیار پھہاراں“، “ڈھولنا، تیریاں جدائیاں دتا مار وے”، “مینوں عشق ہوگیا لوکو، میں دنیا نویں وسائی” شامل ہیں۔ 80 کی دہائی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ”ہیرو“ میں ان کا گایا ہوا گانا “لمبی جدائی” بہت مشہور ہوا۔
2004 میں ان کا گانا” عشقاں دی گلی وچ “بھارتی چارٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل تھا۔

ریشماں کو ان کی فنی خدمات کے صلے میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مفلسی میں گزرا۔3 نومبر 2013 کو موسیقی کی دنیا کو لگنے والا یہ دھچکا کبھی کم تو نہیں ہوسکتا لیکن ریشماں کی شخصیت موسیقی سے محبت کرنے والے ہر شخص کے دلوں میں زندہ اور ان کی آواز کانوں میں رس گھولتی رہے گی۔