سابق فلپائنی صدرضوزف ایسٹریڈا نے حال ہی میں بلدیاتی انتخابات میں منیلا کے مئیر کا عہدہ جیت لیا، جبکہ جلد ہی پارلیمنٹ کے وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں، تاہم بلدیاتی اداروں کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے صدر ایقواینو کو اصلاحات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔اسی بارے میں معروف صحافی ماریٹس ویتگکا انٹرویو سنتے ہیںآج کی رپورٹ میں۔
ویتگ”یہ انتخابات صدرایقو اینو کی کارکردگی پر ریفرنڈم ہے، حکمران اتحاد کو سینیٹ اور ایوان زیریں میں کامیابی کی امید ہے تاکہ وہ دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھ سکے، اس طرح صدر انسداد کرپشن سمیت 2010ءسے جاری اپنی اصلاحات کا عمل جاری رکھ سکیں گے، تاہم اس وقت انکے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے، یعنی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرنا اور غربت کی شرح میں کمی وغیرہ، تمام تر معاشی بڑھوتری کے باوجود بھی فلپائن ایک غریب ملک ہے۔اس کے علاوہ کانگریس سے بھی اہم پیشرفت سامنے آنے کی توقع ہے، مثال کے طور پر اخراجات کا بل جسےاینٹی ٹرسٹ بل کا نام د یاگیا ہے، اس کے تحت کاروباری اور صنعتی شعبوں کو مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے، اور حکومت اپنے پسندیدہ افراد کی حمایت نہیں کرسکے گی۔یہ ایک زیرالتوا معاملہ ہے، دوسری بات سیاسی ریفارم ایکٹ ہے، جس سے سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، جیسا آپ کو معلوم ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں بہت کمزور ہیں، اور ابھی بھی انتخابات شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک اور معاملہ جس پر صدر کو توجہ دینی چاہئے، وہ فریڈم آف انفارمیشن بل ہے، جس سے حکومتی اطلاعات تک ہر خاص و عام کو رسائی مل سکے گی”۔
سوال” فلپائنی صدر کو صرف ایک مدت تک منتخب ہونے کی اجازت ہے، آپ کے خیال میں کیا موجودہ صدر اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر اپنے عہدے کی مدت کے اختتام تک کام مکمل کرسکیں گے؟
ویتگ”جی ہاں آئندہ تین برس انتہائی اہم ہیں، مگر فلپائنی عوام کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جب 2016ءمیں صدر ایقو اینو اپنا عہدہ چھوڑیں گے تو ان کا جانشین کون ہوگا، کیا آئندہ آنے والا صدر ان کی اصلاحات پر کام جاری رکھے گا؟ درحقیقت چھ برس بہت زیادہ عرصہ نہیں، خصوصاً اداروں میں بہتری لانے کے لئے اصلاحاتی عمل کیلئے یہ وقت بہت کم ہے”۔
سوال” نوے فیصد فلپائنی اراکین پارلیمنٹ سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، کیا یہ غریب عوام کے بارے میں نہیں سوچتے؟
ویتگ”جی ہاں یہ ہماری سیاست کی بنیادی خامی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں سیاسی جماعتوں میں اصلاحات کے قانون کی حمایت کرتی ہوں، جس سے خاندانی سیاست پر ضرب لگے گی اور انتخابی مہم میں شفافیت آئے گی، جبکہ انتخابی مہم کے اخراجات بھی شفاف ہوں گے، اس طرح ہم یا جماعتیں اپنے مفاد میں کام کرنے سے گریز کریں گے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ انتخابی مہم کے دوران فنڈز دینے والے کون سے حلقے شامل ہیں، اس پیکج میں آئندہ کانگریس میں مکمل اصلاحات شامل ہے تاکہ سیاسی عمل میں عوامی شمولیت بڑھے، ایک تجزیہ کار نے ہماری سینیٹ اور کانگریس کو پرانے خاندانوں کا کلب قرار دیا ہے جو میرے خیال میں مناسب لقب ہے”۔
سوال”کانگریس سے اپنے بارے میں اصلاحات کی سوچ کس حد ت ک حقیقت پسندانہ ہے؟
ویتگ”ماضی میں ہمیں زیادہ امید نہیں تھی، مگر صدر ایقو اینوکے اولین تین سال کے دوران فلپائنی تاریخ میں پہلی بار سامنے آنے والا پولیٹیکل پارٹی ریفارم بل سے ہمیں بہت توقعات ہیں، میرے خیال میں اس میں پورے ادارے کے بارے میں بات کی گئی ہے، تو ہمیں توقع ہے کہ ایقو اینو دور میں ہی اس پر کام شروع ہوجائے گا اور ہم اس کے نتائج جلد یا بدیر دیکھ سکیں گے”۔
سوال”اسکینڈلز کی زد میں آنے والی شخصیات جیسے سابقہ فرسٹ لیڈیا آمیلدا ملکوس اور سابق صدرجوزف ایسٹریڈا بھی وسط مدتی انتخابات میں کھڑے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ویتگ “یہ ہمارے انتخابات کا ایک اور افسوسناک پہلو ہے، یہ ہمارے سیاسی کلچر میں احتساب کا عمل نہ ہونے کا نتیجہ ہے، دوسری بات یہ ہے کہ لگتا ہے کہ جیسے ہم ہر چیز بھول جانے والی قوم ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کو ماضی کے بارے میں تحقیق کے کرکے ووٹ دینا چاہئے، نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہئے کہ ماضی میں اس ملک میں کیا کچھ ہوچکا ہے”۔
سوال”مگر نیا خون بھی آزاد امیدواروں کی شکل میں موجود ہے، کیا ان سے کوئی فائدہ ہوگا؟
ویتگ”جی ہاں ہم نے ان کی کافی بڑی تعداد دیکھی ہے مگر یہ کامیاب نہیں ہوسکیں گے، یہ بہت مشکل کام ہے، کیونکہ اس کے لئے بہت زیادہ پیسے اور سیاسی رابطوں کی ضرورت ہوی ہے، مگر ہم نے بلدیاتی حکومتوں میں ان کی کافی بڑی تعداد دیکھی ہے، ان میں قومی رہنماءبننے اور کانگریس میں پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے، مگر میرے خیال میں پہلے سیاسی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے”۔