Cambodia’s Opposition Leader Campaigns from Exile – کمبوڈین اپوزیشن لیڈر

جولائی میں عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں متعدد غیرملکی مبصرین کمبوڈیا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کمبوڈیا میں طویل عرصے سے برسر اقتدار وزیراعظم نے حال ہی میں آئندہ ایک دہائی تک مزید اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا عزم ظاہر کیا تھا، جبکہ اپوزیشن لیڈر جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، تاہم وہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے آن لائن مہم چلارہے ہیں۔ اسی بارے میں آج کی رپورٹ

کمبوڈیا کی اپوزیشن جماعت نیشنل ریسکیوپارٹی کے سربراہسیم رینسے کو آن لائن ہزاروں افراد کی حمایت حاصل ہے، فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سیم رینسےاپنے فیس بک پیج پر مضامین، تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔

سیم رینسے”ہیلو پیارے ساتھیوں، میں نیشنل ریسیکو پارٹی کیلئے آپ کی حمایت چاہتا ہوں، آپ ہمیں آئندہ عام انتخابات میں کامیابی دلانے کیلےءمدد کریں، اگر این آر پی نے الیکشن جیتا تو میں 90ءکی دہائی میں حاصل ہونے والا وزیر خزانہ کا تجربہ اپنی معیشت بچانے کے لئے استعمال کروں گا۔ پلیز این آر پی کو ووٹ دیں”۔

سات ہزار سے زائد افراد نے ان کے فیس بک پیج کو لائک کررکھا ہے، اور ہزاروں ان کے مضامین پر کمنٹس دیتے ہیں، پینو م پینکی سینڈی نارٹنبھی ان میں شامل ہیں۔

سینڈی”میری دعا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرے، ہن سین کو اب چلے جانا چاہئے”۔

سم مینٹ اپوزیشن کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے کمبوڈیا کے مغربی صوبے کے باسی ہیں۔

سم مینٹ”میں نے انتخابات پر فیس بک میں کمنٹس لکھے ہیں، میں نے لکھا ہے کہ ووٹرز کو اپنے رہنماءمنتخب کرنے کے حق سے واقف ہونا چاہئے، میں نے کمبوڈیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ الیکشن سے اس کا کیا تعلق ہے”۔

سیم رینسے نے گزشتہ ماہ سے اپنی مہم میں تیزی کے لئے فیس بک کا استعمال بڑھا دیا ہے، انہیں انتخابات میں حصہ نااہل قرار دیا جاچکا ہے، جس کی وجہ 2009ءمیں انہیں فوجداری مقدمے میں سنائے جانے والی سزا تھی، جس کے بعد سے وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور کمبوڈیا واپسی پر انہیں جیل یاترا کرنا پڑسکتی ہے۔ایک حالیہ فون انٹرویو میں سیم رینسے نے کہا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں وطن واپسی اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

سیم”درحقیقت وزارت عظمیٰ کیلئے صرف دو ہی امیدوار میدان میں ہیں، ایک موجودہ وزیراعظم اور دوسرا میں خود ہوں، جو کہ اپوزیشن کی نمائندگی کرتا ہے، مبصرین کو معلوم ہونا چاہئے حکمران امیدوار میرے مقابلے میں الیکشن لڑنے سے خوفزدہ ہے”۔

اپوزیشن جماعت نے اقتدار میں آکر سرکاری ملازمین، فوجی و پولیس اہلکاروں سمیت گارمنٹ فیکٹریوں کے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کے وعدہ کیا ہے، تاہم وزیراعظم ہن سم نے خبردار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن نے کامیابی حاصل کی تو کمبوڈیا میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔

ہن سن”خود سوچے کے اپوزیشن لیڈر نے اقتدار میں آکر کھمیر روجحکومت کے سابقہ عہدیدار جو اب ہماری جماعت کے رہنماءہیں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، آپ ان کی تقریر کا باریک بینی سے جائزہ لیں، اگر ایسا ہوا تو ایک بار پھر ماضی کی طرح خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے”۔

کمبوڈین قوانین کے تحت سزا یافتہ افراد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، ٹیپ نتھا الیکشن کمیشن کے ترجمان ہیں۔

ٹیپ نتھا”ایک شہری ہونے کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر سیاست میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں، مگر ان کا امیدوار ہونا ایک الگ معاملہ ہے، تمام امیدواروں کو انتخابی قوانین کا احترام کرنا چاہئے، مگر چونکہ وہ امیدوار ہی نہیں، اس لئے ان پر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا”۔

سیم کا نام ووٹر فہرستوں سے بھی نکال دی اگیا ہے، تاہم این آر پی کے ترجمان یئم سوان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آن لائن مہم چلاتے رہیں گے۔

یئم”این آر پی تمام اہل ووٹرز کیلئے ایک اہم پیغام دے رہی ہے، جبکہ سیم رینسےکی فیس بک پر تقاریر متعدد لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں، میری جماعت کے صدر کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ناانصافی ہے”۔

کمبوڈیئن سینٹر فار ہیمن رائیٹس کے صدراو ویرک نے لوگوں کو آن لائن اپنی حمایت ظاہر کرنے پر خطرات سے آگاہ کیا ہے۔

ویرک “اگر آپ فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کریں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں، تاہم اگر آپ سیاست یا انسانی حقوق کی صورتحال پر کچھ کہیں اور اپوزیشن پارٹی کیلئے اپنی حمایت ظاہر کریں تو پھر آپ مجوزہ سائبر قانون کے تحت مشکل میں پھنس سکتے ہیں، اس سے پارٹی کی مقبولیت متاثر ہوسکتی ہے”۔