صوبہ بلوچستان معدنیات وسائل سے مالامال ہے، تاہم یہاں کے کان کنوں کو کام کے دوران تحفظ کے خراب معیار اور کانوں میں ہوا کی آمدورفت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ رواں برس جنوری میں میتھین گیس کے دھماکے سے آٹھ کان کن ہلاک ہوگئے تھے، مگر یہاں لوگوں کو متبادل روزگار بھی دستیاب نہیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہ کوئلے کی کان میں کام کرنے والوں کیلئے معمول کے دن کا آغاز ہے، سترہ سالہ طارق خان کوئلے سے بھری بیل گاڑی کو لیکر آرہا ہے، وہ ایک کوئلے کی کان میں کام کرتا ہے اور روزانہ تین سو روپے تک کما لیتا ہے۔
طارق خان”میرے والد کی عمر ساٹھ سال ہے، ہم بہت غریب ہیں اور ہمارے مالی حالات بہت خراب ہیں، میں گزشتہ تین برس سے یہاں کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہوں، میرے والد نے بھی میری عمر میں اس کوئلے کی کان میں کام شروع کیا تھا، ہمارے خاندان کی تمام نسلیں اسی کان میں کام کرتی رہی ہیں”۔
یہ ایک خطرناک کام ہے، یہاں ہوا کے اخراج کا مناسب نظام موجود نہیں،چھ سو میٹر زیرزمین کام کرنے کے دوران صرف ورکرز کو ہی سیفٹی لائٹس کی سہولت میسر آتی ہے۔ کان کن آکسیجن ماسک نہیں پہنتے اور ہنگامی حالات کیلئے ابتدائی طبی امداد کی سہولت بھی میسر نہیں۔
رواں برس جنوری میں ایک گیس دھماکے سے آٹھ کارکن ہلاک ہوگئے تھے، اس وقت دو سو افراد اس زیرزمین کان میں کام کررہے تھے،اسی طرح کا سب سے بدترین واقعہ 2011ءمیں پیش آیا، جب درجنوں کان کن ایک کان کے اندر پھنس گئے تھے اور ان میں سے کسی کو بچایا نہیں جاسکا، جبکہ اسی برس تیس مختلف واقعات میں سو کے قریب کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔ چالیس سالہ خالد خان آفریدی گزشتہ بیس سال سے یہ کام کررہے ہیں، وہ اب تک اپنے متعدد دوستوں کو مرتا دیکھ چکے ہیں۔
خالد خان آفریدی”ایک قریبی کان میں 48 افراد ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں ایک ہفتے تک وہیں پڑی رہیں۔ ہم انہیں بمشکل نکال کر لائے اور ہم نے دیکھا کہ ان کے جسموں سے گوشت غائب ہوچکا تھا، وہ جل کر خاک ہوچکے تھے، میں اپنی زندگی کے بارے میں فکرمند رہتا ہوں، میری کان بھی محفوظ نہیں، مگر کیا کروں غربت کے باعث مجھے وہاں کام کرنا پڑتا ہے”۔
دو ہزار گیارہ کے حادثات کے بعد صوبائی حکومت نے ایک بل کی منظوری دی تھی، جس کے تحت کوئلے کی کانوں میں کام کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے فنڈز الاٹ کئے گئے ، حکومت نے ورکرز کے تحفظ کیلئے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد بھی لازمی قرار دیا،تاہم اب تک ان اصلاحات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔
صوبے بھر میں ڈھائی سو کے قریب کوئلے کی کانیں موجود ہیں، جن میں ساٹھ ہزار افراد کام کرتے ہیں، یہ کان کن روزانہ بارہ گھنٹے تک کام کرکے تین سو سے پانچ سو روپے تک کما لیتے ہیں، تاہم صوبے کے خراب حالات اور شرپسندوں کی کارروائیوں کے باعث ان کان کنوں کے پاس متبادل روزگار کے مواقع بہت محدود ہیں۔ فضل حق بلوچستان یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے طالبعلم ہیں۔
فضل حق”میں نے متعدد ملازمتوں کے لئے درخواستیں دیں تاہم کوئی ریفرنس یا حکومتی عہدیداران سے تعلق نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں ہوسکا، میں حکومتی ملازمت حاصل نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ میں رات کو ایک کوئلے کی کان میں کام کرتا ہوں اور دن میں پڑھتا ہوں، میں انتہائی مشکل حالات میں تعلیم حاصل کررہا ہوں اور یہاں متعدد لڑکے غربت کے باعث محض میٹرک تک ہی پڑھ پاتے ہیں”۔
باسٹھسالہ عبدالخالق گزشتہ چار دہائیوں سے کانوں کے اندر کام کررہے ہیں، اب اپنی خراب صحت کے باعث وہ ایک سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کررہے ہیں۔
عبدالخالق”میں 1965ءسے کوئلے کی کانوں میں کام کررہا ہوں، مگر اب میں اس کے اندر کام نہیں کرسکتا، کیونکہ مجھے بہت درد ہوتا ہے اور سانس لینے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ سینے کے درد کے باعث میں بہت زیادہ تیز چل نہیں سکتا، بلکہ مجھ سے تو اب تنہا چلا بھی نہیں جاتا۔اللہ ہی مجھے شفا دے گا”۔
وہ ماہانہ ساڑھے پانچ ہزار روپے کمالیتے ہیں جو خوراک اور ادویات پر خرچ ہوجاتے ہیں۔ یہ کانیں شہروں سے کافی دور ہیں، یہی وجہ ہے کہ مریضوں کو طبی مراکز پہنچانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
اس کان سے قریبی دیہی طبی مرکز دس کلومیٹر دور واقع ہے، یہاں سرکاری طور پر تو دو ڈاکٹرز تعینات ہیں، تاہم اس وقت ان
دونوں میں سے کوئی بھی موجود نہیں۔ سید محمد حسن شاہ طبی ٹیکنیشن ہیں، تاہم ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں وہ مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔
سید محمد حسن”کوئلے کی کانوں کے ورکرز کو عام طور پر سینے میں درد کی شکایت پوتی ہے، ہمارے پاس ادویات موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں کسی اور ہسپتال بھجوا دیتے ہیں، ہم صرف معمولی زخموں کا ہی علاج کرتے ہیں”۔
اس وقت دوپہر کے کھانے کا وقت ہوچکا ہے اور طارق خان اپنے گھر جارہا ہے۔
گھر کے اندر طارق کی نوسالہ بہن صنم گل دوپہر کا کھانا تیار کررہی ہے، جو کہ ایک روٹی کے ٹکڑے اور بغیر دودھ کی چائے پر مشمتل ہے۔ یہ دونوں بہن بھائی اپنے والد کے ساتھ مقیم ہیں۔
صنم گل”میری والدہ سوات میں میری نانی کا خیال رکھنے کے لئے گئی ہوئی ہیں، ان کو وہاں گئے ہوئے تین ماہ ہوچکے ہیں، ہمارے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں کہ انکی گھر واپسی کیلئے بس ٹکٹ خرید سکیں”۔
طارق یہ ملازمت چھوڑنا چاہتا ہے۔
طارق”ہر شخص کا ایک خواب ہوتا ہے اور میرا خواب ہے کہ یہاں سے نکل کر کوئی اور ملازمت کروں، جہاں مجھے آرام کیلئے بھی وقت ملے۔ یہ بہت سخت کام ہے، مجھے بہت صبح جانا پڑتا ہے اور رات گئے تک کام کرنا پڑتا ہے۔دولت اور تعلیم کسی کی زندگی بدل سکتا ہے مگر یہ دونوں میسر نہیں، تو لگتا ہے کہ مجھے اپنے والد کی طرح مرنے تک یہی کام کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی شخص یا حکومت نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کیا، میں اپنی زندگی میں تبدیلی کیلئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے معجزے کا منتظر ہوں”۔