(Pakistan’s Holy Barefoot Protestor)برہنہ پا احتجاج

 

 لاہور کی بادشاہی مسجد سے حضرت محمد مصطفیٰ کا نعلین مبارک دس برس قبل چرایا گیا تھا اور اسے اب تک ڈھونڈا نہیں جاسکا۔۔اس واقعے کے بعد سے پیر سلیم عباس جعفری نے قسم کھائی ہے کہ جب تک نعلین مبارک مل نہیں جاتے وہ جوتے نہیں پہنے گے.

65 سالہ پیر سلیم عباس جعفری کیلئے آج کا دن بہت بڑا ہے۔ انھوں نے سیاہ شلوار قمیض پہن رکھی ہے، اس کے اوپر ایک ٹوپی ہے جس پر حضور پاک کے جوتوں یا نعلین مبارک کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک بڑا بینر واسکٹ کی طرح اپنے کپڑوں پر لپیٹ رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ حضور پاک کے نعلین مبارک کو چرانے کے خلاف پیر سلیم عباس جعفری کے احتجاج کو دس سال ہوگئے۔

سلیم عباس(male) “دس برس قبل ایک صبح میں نے قومی اخبارات میں پڑھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ کے نعلین مبارک غائب ہوگئے ہیں۔اس روز میں بہت اداس رہا، اگلی صبح میں نے سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول کی عظمت کے لئے خوش و پسینہ بہائے بغیر پرتعیش زندگی بے معنی ہے۔تو میں حکومتی حکام کے پاس گیا اور اپنے کپڑوں کو پھاڑ ڈالا، اپنے اچھے جوتے ان کے سامنے بطور احتجاج پھینک دیئے، اس دن کے بعد سے میں نے کوئی رنگا رنگ لباس یا جوتا نہیں پہنا، یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چوری شدہ نعلین مبارک مل نہیں جاتے”۔

یہ مبارک جوتے بادشاہی مسجد میں موجود شیشے کے کیس سے چوری ہوئے تھے۔ قیمتی اور تاریخی اشیاءکی چوری پاکستان میں نئی بات نہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ میوزیمز میں کام کرنے والے افراد ہی ان چوریوں میں ملوث ہوتے ہیں، پیر سلیم عباس جعفری کیلئے احتجاج کرنے کی وجہ بھی یہی سوچ بنی تھی۔ ایک دہائی کے دوران انھوں نے پاکستان بھر کا برہنہ پاﺅں سفر کیا ہے۔

سلیم عباس(male) “میں قصبوں سے قصبوں اور گلیوں سے گلیوں تک بغیر جوتے پہنے گیا۔ جوتوں کے بغیر گرمی اور سردی میں سفر انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس مارچ کے دوران میری ملاقات کئی وزراءاور منتخب نمائندوں سے ہوئی، انھوں نے نعلین مبارک کی چوری پر وقت گزاری کیلئے افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن کبھی کسی حکومتی عہدیدار یا سیاستدان نے نعلین مبارک کی بازیابی یقین نہیں دلایا یا مجھ سے احتجاج ختم کرنے کی بات نہیں کی”۔

پاکستان میں مسلمان ان نعلین مبارک کو بہت مقدس سمجھتے ہیں اور ان کی تصاویر کو اپنے گھروں میں عقیدت کے طور پر لگاتے ہیں۔ جب انہیں چوری کیا گیا تو پولیس نے انٹیلی جنس بیورو کے ساتھ ملکر کی تفتیش کی مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔2005ءکی پولیس رپورٹ کے مطابق سنیئر پولیس اور صوبائی سرکاری عہدیدار مبینہ طور پر اس چوری میں ملوث ہیں، جبکہ اس معاملے کی ابتدائی تحقیقات میں غفلت سے کام لیا گیا ہے۔نعلین مبارک کی چوری کے بعد متعدد چھوٹے ملازمین کو غفلت پر معطل کردیا گیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد انہیں پھر بحال کردیا گیا۔سید سلیم عباس جعفری نے نعلین مبارک کی بازیابی کیلئے اپنا ایک گروپ بھی تشکیل دیا ہے، یہ گروپ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے مہم چلاتا رہتاہے۔

31 جولائی کو اس چوری کو دس برس مکمل ہوگئے، جس پر گروپ نے لاہور پریس کلب کے سامنے کیمپ لگایا۔

100 سے زائد مظاہرین نعلین مبارک کو بازیاب نہ کرانے پر حکومت پر تنقید کررہے ہیں، شدید گرمی میں سلیم عباس جعفری ننگے پاﺅں کھڑے ہیں۔

چونکہ ماہ رمضان کے دوران یہ احتجاج ہورہا تھا اس لئے لوگوں نے سلیم عباس کو افطاری کیلئے مدعو کیا۔ افطار میں شریک 26 سالہ اصغر عارف چشتی سلیم عباس جعفری کے مشن کو سراہ رہے ہیں۔

اصغر(male) “اس جدوجہد پر ہر مسلمان جناب جعفری کو سلام کرتا ہے، کیونکہ حضور پاک سے عشق کی وجہ سے وہ گزشتہ دس برس سے جوتے پہنے بغیر پھر رہے ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ حضور پاک کے موئے مبارک بھی اسی طرح بھارت سے چوری ہوتئے تھے، مگر بھارتی حکومت نے صرف ایک روز میں انہیں تلاش کرلیا تھا۔ ہم حیرت زدہ ہیں کہ ہماری حکومت ان مقدس جوتوں کو ڈھونڈنے میں کیوں ناکام ہوگئی ہے، جوکہ پوری قوم کیلئے انتہائی مقدس ہیں”۔

رواں سال حکومت پاکستان نے اس معاملے کی نئی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا۔ اور ایک بار پھر لوگوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، تاہم سلیم عباس جعفری نے اب عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں اس سلسلے میں مقامی گروپ پاکستان جسٹس پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ ملک منصف اعوان اس گروپ کے چیئرمین ہیں۔

منصف(male) “نئی تحقیقات بہت سطحی انداز میں کی جا رہی ہے، ہم اس معاملے پر ہائیکورٹ کے جج سے اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات چاہتے ہیں، ہم حضرت محمد مصطفیٰ کا احترام کرتے ہیں، ہم نے اس مقدمے کیلئے دس وکلاءکا پینل تشکیل دیدیا ہے جو مفت کام کرے گا۔ ہم ان مقدس جوتوں کو چرانے والے افراد کو سخت ترین سزا ملتے دیکھنا چاہتے ہیں”۔

اب گھر واپس چلتے ہیں، جہاں سلیم عباس جعفری ایک اور شہر جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

سلیم عباس جعفری(male) “کیا آپ اس خاتون کے جذبات کا احساس کرسکتے ہیں جس کے شوہر نے اپنی شادی کے صرف چار ماہ بعد ہی جوتے پہننا چھوڑ دیئے ہوں؟ ہم لوگ رات کو باہر کھانے یا کسی شادی میں بھی نہیں جاسکتے، کیونکہ میری بیوی کہتی ہے جب میں ننگے پاﺅں جاتا ہوں تو رشتے دار اور دیگر لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ مگر ان سب چیزوں کے باوجود میں پرعزم ہوں کہ اپنی جدوجہد کو خون کے آخری قطرے تک جاری رکھوں گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *