پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسان دوستی کا عالمی دن اس جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے لئے متحرک افراد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اگست کی انیس تاریخ کو دنیا بھر میں انسان دوستی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ 2008 ءمیں کیا گیا تھا۔
دنیا بھر میں آج اس دن کو اس حوالے سے منایا جا رہا ہے کہ خلق خدا کی بھلائی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بنیادی سمجھ بوجھ کو عام کرنے کے ساتھ ان سرگرمیوں میں شریک افراد کا احترام اور جو لوگ کار خیر کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں ان کو یاد بھی کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا آج کے دن کی مناسبت سے کہنا ہے کہ امدادی کارکن انسانی فطرت کا بہترین مظہر ہیں۔
یورپی کمیشن نے بھی انسان دوستی کے دوسرے عالمی دن کے موقع پر ان افراد کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو انسانی بھلائی کے عمل میں مصروف ہیں۔
دہشتگردی کی لہر ہو، نسلی ہنگامہ آرائی ، فرقہ ورانہ ہلاکتیں ہوں یا دیگر سانحات، انسانیت سے محبت کرنے والے رضاکاروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ جاپان سے سوڈان یا پاکستان سے افریقی ممالک تک پھیلے رضاکار ان لوگوں کی مدد میں مصروف نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنا گھر، رشتہ دار، مال و دولت سب کچھ سانحات میں گنوادیا۔
دہشتگردی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو شاید حکومت کی طرف سے کچھ مل جاتا ہو لیکن رضا کار اگر سانحہ میں مر جائے تو ان کے ورثاءکو امداد نہیں ملتی۔ پھر بھی انسانیت کا جذبہ ان میں ہمیشہ تازہ دم رہتا ہے۔