Written by prs.adminMarch 26, 2014
Pakistani Media Under Fire – پاکستانی میڈیا دفاتر پر حملے
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
صحافیوں کے عالمی گروپ رپورٹرز ود آوٹ باڈرز نے پاکستان کو صحافیوں کیلئے دنیا کے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا ہے، 2000ءکے بعد سے اب تک نوے سے زائد صحافی قتل کئے جاچکے ہیں، جبکہ رواں برس چار میڈیا ہاﺅسز پر حملے ہوئے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ایکسپریس نیوز ٹیلیویژن میں کام کرنے والے صحافیوں کیلئے یہ ایک عام دن تھا، مگر باہر نظر آنے والے اضافی سیکیورٹی اقدامات کچھ اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں، شیشے کی دیواریں لکڑی کی دیواروں سے تبدیل کردی گئی ہیں، جبکہ دفتر کی عمارت کے ارگرد ریت کی بوریوں کا ڈھیر نظر آرہا ہے، بیورو چیف محمد اسلم خان احتیاطی اقدامات کے بارے میں بتارہے ہیں۔
اسلم خان”اس سے پہلے قبائلی علاقے صحافیوں کیلئے خطرناک سمجھے جاتے تھے، مگر اب دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی میں بھی میڈیا اداروں پر حملے ہورہے ہیں، ان کے دفاتر پر دستم بم حملوں سے حملے ہورہے ہیں، جبکہ رپورٹرز پر فائرنگ کے واقعات بھی ہورہے ہیں”۔
رواں برس جنوری میں عسکریت پسندوں نے کراچی میں ایکسپریس نیوز کی وین پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین صحافی ہلاک ہوگئے، یہ چند ماہ کے دوران ایکسپریس میڈیا گروپ پر ہونیوالا تیسرا اور سب سے مہلک حملہ تھا، جس کی پولیس تحقیقات کررہی ہے، اسلم خان کا ماننا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ حملہ تھا۔
اسلم خان”آپ کو اس لئے بھی ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کسی کی پسندک ی خبریں شائع کریں ، جبکہ خاص خبریں شائع ہونے سے روکنے کیلئے بھی حملے ہوسکتے ہیں، اگرچہ دفاتر میں سخت ترین حفاظتی اقدامات تو ہوسکتے ہیں، مگر رپورٹرز تو فیلڈ میں کام کرتے ہیں، اور پوری پولیس فورس انفرادی سطح پر تو کسی کا تحفظ نہیں کرسکتی”۔
کراچی پاکستان کا میڈیا حب سمجھا جاتا ہے، جہاں سینکڑوں اخبارات، ریڈیو اسٹیشنز اور ٹی وی چینیلز کام کررہے ہیں، رواں برس کے دوران چار میڈیا دفاتر پر کراچی میں حملے ہوچکے ہیں۔
ایک ٹی وی شو کے دوران طالبان ترجمان نے الزام عائد کیا کہ میڈیا پاکستان میں مغربی خیالات کو فروغ دے رہا ہے۔
صحافی ہما بلقیس کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ طالبان نے میڈیا دفاتر پر حملہ کیا ہے۔
ہما بلقیس”صرف صحافی ہی نہیں جنھیں خطرے کا سامنا ہے، بلکہ اب تو میڈیا ہاﺅسز کو بھی یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے، حال ہی میں طالبان کی ایک ہٹ لسٹ سامنے آئی جس میں میڈیا اداروں کے مالکان اور صحافیوں کے نام تھے”۔
صحافیوں نے حال ہی میں ملک گیر سطح پر ان حملوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت سے جرنلسٹ کو کام کرنے کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنیکا مطالبہ کیا۔ عامر لطیف کراچی پریس کلب کے سیکرٹری ہیں۔
عامر لطیف”گزشتہ ایک دہائی کے دوران جب سے پاکستان اس خودساختہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کا حصہ بنا ہے، آپ صحفیوں کو درپیش بحران کو
دیکھ سکتے ہیں، تو درحقیقت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں صحافی ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply