طویل تلاش کے بعد ملائیشیاءکے لاپتہ طیارے کو گزشتہ روز تباہ قرار دیدیا گیا، یہ پرواز ایم ایچ 370 چین کیلئے روانہ ہوئی اور پھر غائب ہوگئی، جس کیلئے 26 ممالک نے بحرہند کا کونہ کونہ چھان مارا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
احمد جو ہریحی ملائیشین ائیرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
احمد”ہمیں آج صبح ایم ایچ 370 کے بارے میں خبر سن کر بہت دھچکا لگا، ملائیشین ائیرلائنز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس طیارے کا صبح 2 بج کر چالیس منٹ پر سوبانگ ایئر ٹریفک سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا، بوئنگ 777 کی یہ پرواز کوالالمپور سے بیجنگ کیلئے روانہ ہوئی تھی، اور اس نے شیڈول کے مطابق بیجنگ کے مقامی وقت صبح ساڑھے بجے بیجنگ ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا تھا، اس پرواز میں عملے کے بارہ افراد سمیت دو سو انتالیس مسافر سوار تھے”۔
یہ ملائیشین طیارے کے غائب ہونے کے بعد ائیرلائن کے سی ای اوکا ابتدائی ردعمل تھا، ملائیشیاءکے وزیر ٹرانسپورٹ حسام الدین حسین نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نو ممالک کے ساتھ ملکر سرچ آپریشن شروع کیا گیا جو اب چھبیس ممالک تک پھیل گیا ہے۔
حسام الدین”سرچ اور ریسکیو آپریشن عالمی برادری کے تعاون کے ساتھ جاری ہے، ملائیشین حکام نے تمام ممالک سے تعاون کی درخواست کی تھی، اس تعاون میں سیٹلائٹ ڈیٹا، ریڈار ریکارڈ اور دیگر شامل ہے، سمندری اور ہوائی تلاش کیساتھ دیگر اقدامات بھی کئے جارہے ہیں”۔
یہ تلاش دوہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہی، ٹیکنالوجی کے اس عہد میں انتہائی جدید طیارے کا اتنے طویل عرصے تک غائب ہوجانا غیرمعمولی واقعہ ہے، ایک جاپانی پائلٹ یاسوہیرو اس کی وضاحت کررہے ہیں۔
یاسوہیرو”اب تک سرچ آپریشن میں بہت کم ہی شواہد مل سکے ہیں، ہم اس طیارے کا ملبہ اور سمندر کی سطح پر تیل کے نشانات ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں، اس طرز کا آپریشن جو ہم کررہے ہیں، میں رابطے کی بہت اہمیت ہوتی ہے، طیاروں کے حادثات ہوتے رہتے ہیں، مگر اس طرح کے واقعات بہت ہی کم ہیں جس میں حاصل معلومات نہ ہونے کے برابر ہو۔عان واقعات میں تو اس طرح حادثات کے ایک ہفتے بعد ہمیں بہت کچھ معلوم ہوچکا ہوتا ہے، مگر یہاں ہمیں ابھی بھی کچھ بھی نہیں معلوم، تو یہ واقعی انتہائی غیرمعمولی واقعہ ہے”۔
تلاش جاری رہنے کیساتھ ساتھ معاملے کی پراسراریت بھی بڑھتی چلی گئی کیونکہ ایسے شواہد سامنے آئے کہ لاپتہ ہونے کے بعد بھی یہ طیارہ کئی گھنٹوں تک پرواز کرتا رہا، جس کے بعد مختلف تھیوریز سامنے آنے لگی مگر ملائیشین حکام کا کہنا تھا کہ ہماری پوری توجہ عملے کے اقدامات پر ہے۔گزشتہ روز طیارے کے تباہ ہونے کی پریس کانفرنس سے قبل ملائشین وزیراعظم نجیب رزاق کا خیال تھا کہ اس طیارے کا رخ کسی شخص نے جان بوجھ کر تبدیل کیا تھا۔
نجیب”نئی سیٹلائٹ کمیونیکشن کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں ملائیشین ایئر لائنز کی پروازایم ایچ-370 کے کمیونیکیشنز سسٹم کو جان بوجھ کر ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔اس پرواز کے رپورٹنگ ڈیٹا کو اس وقت ختم کردیا گیا جب وہ ملائیشیاءکے مشرقی ساحل پر پہنچا، اس کے تھوڑی دیر بعد ملائیشیاءاور ویت نامی ٹریفک کنٹرول سے طیارے کا رابطہ ٹوٹ گیا، اس وقت کے ملائیشین فضائیہ کے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے، جس کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی کہ اس طیارے نے اپنا رخ مغرب سے شمال مغرب کی جانب موڑ لیا۔ سیٹلائٹ اور ریڈار سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلا ہے کہ طیارہ کے لیے اپنا رخ موڑے جانے کے بعد ممکنہ طور پر مزید سات گھنٹے پرواز جاری رکھی۔فوجی ریڈار کے ڈیٹا سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارے میں سوار کسی شخص کی حرکت ہوسکتی ہے”۔
طیارے میں عملے کے رکن بارہ تھے،جن میں 53 سالہ پائلٹ طاہری احمد شاہ اور 27 سالہ کو پائلٹ فریق عبدالحمید بھی شامل تھے، پولیس نے ان کے گھروں میں چھاپہ مار کر پائلٹ کے گھر سے فلائٹ سیمیو لیٹر برآمد کیا۔
حسام الدین”گزشتہ روز پولیس حکام نے پائلٹ کے گھر کی تلاشی لی، ہم نے پائلٹ کے خاندان سے بات چیت کی اور وہاں ملنے والے فلائٹ سیمیولیٹر کا معائنہ کیا، اس کے علاوہ پولیس نے کو پائلٹ کے گھر پر بھی تلاشی لی، ملائیشین ائیرلائنز کے مطابق پائلٹ اور کوپائلٹ سے ایم ایچ 370 پر اکھٹے جانے کو نہیں کہا گیا تھا”۔
عالمی برادری کی جانب سے ملائیشین سرچ آپریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے پراسراریت مزید بڑھ رہی ہے، ملائیشین اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کے بقول وزیراعظم نے اس معاملے کو انتہائی خراب طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔
انور ابراہیم”نجیب رزاق نے اس معاملے کو انتہائی خراب انداز میں آگے بڑھایا ہے اور ہر چیز کی تردید کی ہے، وہ مسلسل غلطیاں کررہے ہیں، یہاں آپ آکر عالمی سطح پر ملکی امیج کی بات کرتے ہیں، مگر انھوں نے ملائیشیاءکے چہرے کو بدنما کردیا ہے، ویت نام نے بھی غیرسرکاری سطح پر کہا ہے کہ حقائق چھپائے گئے ہیں، وہ ہمیں سب کچھ نہیں بتارہے ، صورتحال تو یہ ہے کہ عام سوالات کے جوابات سامنے لانے میں بھی چھ گھنٹے لگ گئے”۔
حکومت کا کہنا ہے کہ میڈیا اور عوام افواہوں اور سازشی تھیوریز پھیلا کر کنفیوژن کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ حکومت نے اپنی تحقیقاتی طریقہ کار کا دفاع بھی کیا۔
حسام الدین”ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، میں تمام ملائیشین شہریوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ تمام اختلافات بھلا کر اس مشکل وقت میں متحد ہوجائیں، ہمیں اس وقت گمشدہ طیارے اور اس میں موجود 239 افراد پر توجہ دینی چاہئے، اس طیارے کی تلاش ابھی بھی ہماری اولین ترجیح ہے”۔