بھارت میں حال ہی خواتین کو اسلحہ دینے کی ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے، اس گن کو دسمبر 2012ءمیں نئی دہلی میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونیوالی طالبہ کا نام دیا گیا ہے، اور اس مہم کا مقصد بھی خواتین کو اس طرح کے جرائم سے تحفظ دینا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
عبدالحمید انڈین آرڈنینس فیکٹری کے جنرل منیجر ہیں، یہ اسلحہ بنانے والی سرکاری کمپنی ہے، وہ ہمیں اپنی کمپنی کی تیار کردہ نئی گن دکھا رہے ہیں جو خصوصی طور پر خواتین کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔
عبدالحمید”یہ بہت ہلکی ہے اور اس کا وزن صرف پانچ سو گرام ہے، جبکہ اسے استعمال کرنا بھی بہت آسان ہے۔ اس کے علاوہ یہ پائیدار اور بغیر کسی رکاوٹ کے پانچ سو گولیاں فائر کرسکتی ہے، خواتین اسے کہیں بھی لے جاسکتی ہے کیونکہ یہ اتنی چھوٹی ہے کہ ان کے پرس میں بھی باآسانی چھپ سکتی ہے”۔
اس گن کو نربھیک کا نام دیا گیا ہے، یہ اس طالبہ کا نک نیم بھی تھا جو نئی دہلی میں 2012ءمیں اجتماعی زیادتی کا شکار بنی تھی۔
اس سانحے کے بعد بھارت بھر میں عوامی اشتعال دیکھنے میں آیا تھا اور جگہ جگہ مظاہرے بھی ہوئے، عبدالحمید کا کہنا ہے کہ یہ گن اس مظلوم طالبہ کو چھوٹا سا خراج تحسین ہے۔
عبدالحمید”ہم نے اس بارے کافی سوچا تھا اور فیکٹری کے عملے سے بھی تجاویز لیں، متعدد تجاویز سامنے آنے کے بعد ہمنربھیک نام پر متفق ہوگئے، اب ہم اس بات کیلئے پراعتماد ہے کہ خواتین اس ریوالور کیساتھ خود کو محفوظ تصور کریں گے اور انہیں کسی سے ڈر نہیں لگے”۔
اس گن کی قیمت دو ہزار ڈالرز رکھی گئی ہے، جو کہ ایک عام بھارتی کی اوسطاً سالانہ آمدنی سے بھی دوگنی زیادہ ہے، تاہم عوامی ردعمل کافی اچھا رہا ہے اور اب تک درجنوں گنیں فروخت ہوچکی ہیں، جبکہ سو سے زائد خواتین نے بکنگ کرالی ہیں، ان میں سے ایک تیس سالہ شوبھا بھی ہے۔
شوبھا”خواتین کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ ان کیلئے اس طرح کے ہتھیار دستیاب ہوں، خواتین کو ایسی چیزیں اپنانا ہوں گی، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ آگے ہمارے ساتھ کیا ہوسکتا ہے، یہاں خواتین کیساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے”۔
انسانی حقوق کے گروپس نے بھی اس اسلحہ مہم کی پرزور مخالفت کی ہے، ناقادین کا کہنا ہے کہ اس سے سنگین معاشرتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، بنالکشمی نیپرام، ایک این جی او وومن گن سروورز نیٹورک کی سربراہ ہیں۔
نیپرام” اگرنر بھیا اس وقت زندہ ہوتی تو وہ بھی اس گن کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی، کیونکہ ہمارے گھروں میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے، اس کی قیمت نربھیا کے خاندان کی سالانہ آمدنی سے بھی زیادہ ہے، یہ واضح طور پر اس طالبہ کی یاد کی توہین ہے”۔
انکا ماننا ہے کہ ایک ہتھیار سے خواتین کو مشکل ماحول میں آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل سکتا۔
نیپرام”تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلحے سے درحقیقت آپ کو سیکیورٹی نہیں ملتی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلحے پاس ہونے سے فائرنگ سے ہلاک کا امکان بارہ گنا بڑھ جاتا ہے، اور ہمارے ملک میں تو پہلے ہی تشدد بہت زیادہ ہے اور خدشہ ہے کہ اس مہم کے بعد اس کا رخ خواتین کی جانب نہ مڑ جائے”۔