Written by prs.adminApril 30, 2012
Pakistan Struggles to Fight Polioپاکستان کو پولیو کے خاتمے میں مشکلات کا سامنا
Asia Calling | ایشیا کالنگ . Health . Topic Article
(Pakistan polio)پاکستان پولیو
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب تک پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔گزشتہ برس حکومت پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پولیو کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔رواں برس بھی پندرہ کے قریب بچے اس موذی مرض کا شکار بن چکے ہیں
پندرہ سالہ امام علی پشاور کے ایک میدان لنڈی کوتل میں کرکٹ میچ دیکھ رہا ہے۔وہ چاہ کر بھی کرکٹ کھیل نہیں سکتا، جسکی وجہ پولیو کے باعث معذور ہوجانا ہے۔
امام علی (male) “میں اکثر یہاں آکر اپنے دوستوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں، میرا دل بھی کھیلنے کو چاہتا ہے مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔میں اپنی معذور ٹانگ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش تو کرتا ہوں، مگر یہ بہت مشکل کام ہے”۔
امام علی صوبہ خیبرپختونخواہ کا رہائشی ہے، جہاں حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم متعدد علاقوں میں ناکام ثابت ہورہی ہے، کیونکہ قبائلی عوام کا ماننا ہے کہ پولیو کے قطرے ان کے بچوں کو مستقبل میں بانجھ بنادیں گے، جبکہ طالبان کا پروپگینڈہ یہ ہے کہ یہ ویکسین غیراسلامی ہے۔اسی طرح عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی متعدد علاقوں میں ہیلتھ ورکرز پولیو ویکسین کی مہم چلانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔تاہم اب متعدد علاقے عسکریت پسندوں سے کلیئر کرالئے گئے ہیں، اس لئے پولیو مہم میں تیزی آئی ہے۔ مفتی شوکت اللہ مدرسہ حقانیہ کے استاد ہیں، یہ مدرسہ پاکستان کے چند بڑے اور بااثر مدارس میں سے ایک ہے۔ مفتی شوکت اللہ ماضی میں پولیو ویکسین کی مخالفت کرتے رہے ہیں، مگر اب ان کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔
مفتی شوکت” (male) دو ہزارسات میں پولیو ویکسین کے حوالے سے یہ غلط خیال پھیلا ہوا تھا کہ اس کے استعمال سے بچے بانجھ ہوجاتے ہیں، مجھ سمیت چوبیس علماءنے اس ویکسین کی مخالفت کی تھی اور اپنے ماننے والوں کو کہا تھا کہ بچوں کو یہ ویکسین استعمال نہیں کرنے دیں۔مگر اب اس ویکسین کو Pakistan National Institute of Health میں ٹیسٹ کیا گیا ہے اور ثابت ہوگیا ہے کہ یہ نقصان دہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب میں بھی انسداد پولیو مہم کا حصہ بن چکا ہوں، اور میں پولیو ٹیموں کو اپنے علاقے میں موجود ہر بچے تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتا ہوں”۔
دس سالہ ثمرین بھی پولیو کا شکار بن چکی ہیں۔
ثمرین (female) “دوسرے بچوں کو کھیلتے اور بھاگتے ہوئے دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوتی ہے، میں ان کی طرح کچھ بھی نہیں کرسکتی، میں تو اپنے گھر کے باہر بھی گھوم نہیں سکتی، گھر کے اندر ماں کی مدد نہیں کرسکتی، اپنے کپڑے نہیں دھو سکتی، یا کھانا پکا نہیں سکتی۔ اس وقت میں ایک بچی ہوں اس لئے دیگر لوگ میری مدد کردیتے ہیں، مگر جب میں بڑی ہو جاﺅں گی تو مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا”۔
ثمرین کے والد خوشحال خان اب پچھتاتے ہیں کہ آخر انھوں نے کیوں اپنی بیٹی کو پولیو کے قطروں سے دور رکھا۔
خوشحال(male) “دوہزار پا نچ میں جب ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پولیو ویکسین مضر نہیں ہے، تو اس وقت ہم سب کا ماننا تھا کہ یہ ویکسین بچوں یا بچیوں کو بانجھ بناتی ہے، اس لئے میں نے اپنی بیٹی کو پولیو کے قطرے نہیں پینے دیئے۔ وہ میرا غلط فیصلہ تھا جس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں سوکھ گئیں اور وہ پھر کبھی ٹھیک نہیں ہوسکی۔ میں دیگر والدین کو مشورہ دوں گا کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ وہ معذوری سے بچ سکیں”۔
گزشتہ برس دو والدین کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب انھوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ پشاور کی انتظامیہ کے سربراہ سراج احمد کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
سراج(male) “حکومت کی پوری کوشش پولیو کے خاتمے پرمرکوز ہے، اس سلسلے میں ہر طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے، ہم علمائ، بااثر افراد اور برادری کے بزرگوں کے ساتھ ملکر مہم چلا رہے ہیں، اگر کوئی والدین انکار کریں تو ہم ان کے خلاف وارنٹ جاری کرکے انہیں گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔تاہم گرفتاری سے پہلے ہی والدین اپنے بچوں کو قطرے پلانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں”۔
پشاور ہائیکورٹ بھی اس مہم کیلئے کردار ادا کررہی ہے، اور عدالت نے بھی خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں کے عوام سے پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلانے کی درخواست کی ہے۔اسکے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہتا ہے اب اسے اپنی درخواست کے ساتھ بچوں کو پلائے جانے والے پولیو کے قطروں کا سرٹیفکیٹ بھی منسلک کرنا ہوگا۔ امین الرحمن پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہیں۔
امین الرحمن(male) “ہمارے صوبے کی اکثریتی آبادی ان پڑھ ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد کسی مذہبی اتھارٹی کے باوجود پولیو ویکسین کے بارے میں فتوے جاری کردیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے غیراسلامی تہذیب کا شاخسانہ قراردیتے ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے صوبے میں عوامی اکثریت کو پشاور ہائیکورٹ پر اعتماد ہے، یہی وجہ ہے کہ صوبائی چیف جسٹس نے آگے آنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ پولیو کے خلاف مہم کو مزید مضبوط کیا جاسکے”۔
عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی حکومت کو پولیو کے خاتمے کیلئے ایک نئی ڈیڈلائن دی ہے، جبکہ اس نے تین ماہ کے اندر اندر پولیو کے انسداد کیلئے کوششوں کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی ہے، ورنہ پاکستان پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی، جن میں سفری پابندیاں بھی شامل ہیں۔پولیو سے ہمیشہ کیلئے معذور ہو جانے والا امام علی دیگر بچوں کو اس مرض سے بچانے کیلئے پرعزم ہے۔
امام علی(male) “میں انسداد پولیو ٹیم کا حصہ ہوں اور میں زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ میرے گاﺅں میں جب بھی پولیو ٹیم آئے گی تو میں انکی آمد کا اعلان کیا کروں گا، میں علاقے کے تمام بچوں کو بچانا چاہتا ہوں تاکہ وہ میری طرح معذور نہ ہوسکیں”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply